تحریر: منیر افراز
بوڑھی لیدیا ٹھیک کہتی تھی۔
لیدیا کے ہاتھوں کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں…… اور ان اُبھری ہوئی نیلی رگوں میں چالیس سال بعد بھی اُس کی محبت کا خون دوڑتا صاف نظر آتا تھا۔ لیدیا کی آنکھوں کے کناروں پر ’’ٹائی ٹینک‘‘ کی بوڑھی ’’روز‘‘ کی طرح پانی تیرتا رہتا تھا۔ اس کے گھر اب بھی ادبی بیٹھکیں لگتی تھیں…… اور جب اسی بیٹھک پر کسی نے اُس سے کہا کہ چیخوف کے پاس محبت کی کمی تھی…… جو اُس کی کہانیوں میں بھی نظر آتی ہے، تو لیدیا نے جھلا کر کہا: ’’یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ چیخوف کے پاس محبت کی کمی تھی؟ بوڑھی لیدیا ٹھیک کہتی تھی، وہ چشم دید گواہ تھی اور کسی مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر حلف دے سکتی تھی۔ کیوں کہ اسی نے چیخوف کو چاہا تھا۔
غیر ملکی زبانوں کے ادب میں، مَیں نے نصابی کتب میں دست یاب ادب کے بعد سنجیدگی کے ساتھ سب سے پہلے اِسی کم محبت والے چیخوف کو پڑھا…… پھر چیخوف کو پڑھا اور اس کے بعد چیخوف کو پڑھا۔ مجھے لگتا تھا کہ چیخوف بھیس بدل کر رات کو ازبکستان سے ہوتا ہوا پاکستان کی ان گلیوں میں آن نکلتا ہے…… جہاں فرزانہ، شایستہ یا فایزہ کی ناکام محبتیں سسکتی، دم توڑتی ہیں۔ جہاں مائی جیراں اور ماسی برکتے غربت کی لائن سے نیچے آکر زندگی گزار رہی ہیں…… اور جہاں جمہوری تقاضوں کے عین مطابق دس فیصد مراعات یافتہ طبقہ نوے فیصد کیڑے مکوڑوں پر حکم رانی کر رہا ہے۔ وہ لاہور کے مجسٹریٹ، سرکاری افسران، پٹواریوں، کراچی کے تاجروں اور سنتریوں سے ملتا ہے۔ اسلام آباد کی بیوروکریسی، آرمی کے جنرل، میجر، کیپٹن، میاں چنوں کے وکیل اور اوکاڑہ کے کلرک کی زندگی کو دیکھتا ہے، پھر وہ رات کے اندھیرے میں واپس ماسکو چلا جاتا ہے اور ان ناموں کو ’’یولیا ولینی لیونا‘‘، ’’ایلویرا‘‘، ’’پاولوچ‘‘، ’’بروگدیف‘‘ اور ’’ویریا‘‘ کے ناموں سے بدل کر روسی زبان میں کہانیاں لکھتا ہے۔
اِسی چیخوف کا پہلا افسانہ جو مَیں نے پڑھا وہ ’’گرگٹ‘‘ تھا…… جو اس نے ازبکستان کے راستے پاکستان کے شہر اسلام آباد کی ایک بارونق سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر لکھا…… جہاں ایک کتا ایک راہگیر کو کاٹ لیتا ہے اور پھر وہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار اور سڑک پر زخمی راہگیر کے اطراف میں کھڑے لوگوں کے درمیان دلچسپ بحث شروع ہوتی ہے۔ پولیس اہلکار اِس آوارہ کتے کو سزا دینا چاہتا ہے۔ اُسے بُرا بھلا کہتا ہے…… لیکن جب اسے مجمعے سے آواز آتی ہے کہ یہ تو فلاں فوجی افسر کا کتا ہے، تو پولیس اہلکار کا لہجہ بدل جاتا ہے…… اور اسے وہ آوارہ کتا ایک اعلا نسلی کتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ اس کی دُم اور کھڑے کانوں پر قصیدے پڑھتا ہے۔ اسی اثنا میں مجمعے سے ایک اور آواز آتی ہے…… یہ بدنما کتا فلاں افسر کا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کے گلے میں پٹا نہیں ہے اور پھر وہ ایسا بدشکل کتا کیوں پالیں گے! تب پولیس اہلکار اُس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہوا ایک بار پھر کتے کے درپے ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی اسی کشمکش میں آگے بڑھتی ہے۔ کتے کی ملکیت کے بارے میں مجمعے کی طرف سے ہر نئے انکشاف پر پولیس آفیسر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے اس وقت کے سوویت یونین پر فوجی اثر و رسوخ کی نشان دہی کرتا ہے۔
چیخوف کا آخری افسانہ جو میری نظروں سے گزرا وہ ’’ہاں یہ ممکن ہے‘‘ تھا۔ یہ کہانی چیخوف نے لاہور کے گلبرگ کے ایک عالی شان بنگلے کی لائبریری میں بیٹھ کر دیکھی اور روس کے ایک کلیسا کے باہر لگی بینچ پر بیٹھ کر لکھی…… جہاں بنگلے کا مالک اپنی نوکرانی، یعنی مائی جیراں سے اس کی ماہانہ تنخواہ کا حساب کرتے ہوئے گزرے ماہ اُس کے ہاتھوں ہونے والے نقصانات گنواتا جاتا ہے اور ہر نقصان کے بدلے اُس کی تنخواہ کاٹتا جاتا ہے۔ جب مائی جیراں سے 29 جنوری کی رات آخری گلاس ٹوٹا، تو اس کے بارہ روپے کاٹتے ہوئے مالک نے پوری دیانت داری سے اسے اس کی بقیہ تنخواہ، جو سات سو روپے سے کم ہو کرساٹھ روپے رہ گئی تھی…… اُس کے ہاتھ میں تھما دی۔ مائی جیراں نے کچھ نہ کہا اور خاموشی سے ساٹھ روپے مٹھی میں دبا لیے…… تب چیخوف نے چیخ کر کہا، تم اس قدر بدھو کیوں ہو…… احتجاج کیوں نہیں کرتیں؟ تم آخر بولتی کیوں نہیں…… کیا تم سمجھتی ہو کہ بغیر دانتوں اور پنجوں کے ، تم اس دنیا میں رہ سکتی ہو؟ اور پھرچیخوف نے اس کی پوری تنخواہ…… یعنی سات سو روپے اس کی طرف بڑھا دیے۔ چیخوف نے جب کلیسا کے باہر لگی بینچ پر بیٹھ کر یہ کہانی لکھی تو مائی جیراں کا نام یولیا ولینی لیونا سے بدل دیا اور روپے کو روبل میں ڈھال دیا۔
’’گرگٹ‘‘ اور ’’ہاں یہ ممکن ہے‘‘ کے درمیان چیخوف کی جتنی بھی کہانیاں مَیں نے پڑھیں…… وہ براستہ ازبکستان، پاکستان ہی کی سر زمین پر دیکھی اور سوچی گئیں اور بعدازاں ماسکو کی گلیوں سڑکوں پر چلتے پھرتے لکھی گئیں۔ یہ کم محبت پانے والا چیخوف ایسا ہی بہروپیا تھا۔ وہ انتہائی شایستہ زبان اور نفیس تھا۔ اُس نے منافقت، سماجی ناہم واریوں، تضادات، دھرا پن اور افسرانِ بالا کی کمینگیوں کو بڑی بے رحمی سے بے نقاب کیا۔ اگر آپ نے چیخوف کے افسانے کا حسن اور اُس کے دماغ کی وسعت اور زرخیزی کا اندازہ لگانا ہے، تو اس کی کہانی ’’شرط‘‘ پڑھ لیجیے۔
’’جنگ اور امن‘‘ اور ایسے ہی بے شمار بڑے ناولوں کا تخلیق کار، الجھی ہوئی بے ترتیب داڑھی مونچھوں والے ’’ٹالسٹائی‘‘ نے کہا کہ چیخوف عالمی ادب میں مختصر کہانیوں کا سب سے بڑا نام ہے۔
ٹالسٹائی نے سچ کہا، چیخوف کا افسانہ دراصل ہر زبان کے افسانے کی مکمل شکل ہے۔ گھنی مونچھوں اور روسی ادب میں تنقید کا بے رحم، بد لحاظ، اکھڑ مزاج گورکی جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا…… چیخوف کے آگے دوزانو بیٹھ کر کہتا ہے کہ باوا جی! دنیا کا افسانوی ادب تم سے شروع ہو کر تم پر ہی ختم ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ چیخوف کے افسانے پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ آپ خِزاں کے آخری دنوں میں، جب تنگ و تاریک مکان اور عام آدمی واضع دکھائی دیتے ہیں، سڑکوں پر گھوم رہے ہیں ۔
آپ جب اس تناظر میں بہروپیے چیخوف کو پڑھیں گے، تو آپ کو دونوں نابغہ روزگار، یعنی ٹالسٹائی اور گورکی سچے دکھائی دیں گے اور اِس مثلث کی تیسری سچائی…… ہاں! تیسری سچائی، جس کا تعلق تحریر سے نہیں بلکہ جذبے سے ہے، وہ ہے بوڑھی لیدیا…… لیکن تب وہ بوڑھی نہیں تھی، سنہ1889ء تھا…… اور وہ 27 سال کی خوبرو حسینہ تھی، دولت مند تھی۔ ایک دیوالیہ جنرل اسٹور کے مالک کا بیٹا حضرتِ چیخوف، ٹالسٹائی اور گورکی سمیت وقت کے کئی بڑے شاعر ادیب اس کی ادبی بیٹھک میں آتے تھے۔ لیدیا چیخوف پر مر مٹی تھی، اس کی نظریں چیخوف سے ہٹتی نہیں تھیں۔ بہروپیے چیخوف کو چاہنے والی کوئی لڑکی عام لڑکی کیسے ہوسکتی تھی۔ لیدیا مختلف تھی، بالکل نرالی، گلزار کی ” ’’اجازت‘‘ والی مایا جیسی، وہ چیخوف کو حاصل نہ کرسکی…… لیکن اس کی محبت سے نکلنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ چیخوف اپنے لکھے ڈراموں میں کام کرنے والی ایک اداکارہ سے شادی کر چکا تھا۔ لیدیا بھی شادی شدہ تھی۔ وہ نرالی تھی۔ نرالے کام کرتی تھی۔ اُس نے سوچ لیا تھا کہ اسے چیخوف کے بغیر رہنا سیکھنا ہوگا۔
1890ء کے زمانہ کی روسی فیڈریشن میں چیخوف جیسے بہت ہوں گے، ہوتے بھی ہیں…… لیکن اُس نے چیخوف کو یہ گالی کبھی نہیں دی تھی۔ محبت کے باب میں ہر لیدیا کا اپنا چیخوف ہوتا ہے۔ صرف ایک چیخوف، صرف ایک لیدیا۔ محبت میں غصہ تو ہوتا ہے، گالیاں نہیں ہوتیں…… اُس نے اپنے غرور کو مار دیا تھا۔ چناں چہ اس نے ایک روز شدتِ جذبات میں، جب وہ چیخوف کے لیے بے قرار تھی، چیخوف کو پیغام بھیجنے کے لیے زرگر سے سونے کا بیج بنوایا اور اس پر کندہ کروایا ’’چیخوف کا افسانہ، صفحہ نمبر دوسو سات کی سطر نمبر چھے اور سات‘‘یہ بیج چیخوف کو بہت تاخیر سے ماسکو میں اُس کے ایک قاری کے ہاتھوں موصول ہوا تھا ۔
سنہ 1889ء، جب لیدیا نے چیخوف کو پہلی بار دیکھا تھا، کے ٹھیک 40 برس بعد سنہ 1930ء میں جب اُس کے ہاتھوں کی رگیں نیلی ہوگئی تھیں اور چیخوف کے انتقال کو بھی 24 برس بیت چکے تھے، شہر کے دانشور اور ادیب اب بھی اُس بوڑھی کی ادبی بیٹھک میں آتے تھے اور ایک دن جب اُن میں سے کسی نے جھلا کر کہا کہ چیخوف کی زندگی میں محبت کی کمی تھی جو اُس کی کہانیوں میں بھی نظر آتی ہے، تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں اُس روسی کمیونسٹ کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ دوں اور اُس کے ہاتھ میں زرگر کے ہاتھ سے بنا سونے کا وہ بیج تھما دوں جو چیخوف کو ماسکو میں تاخیر سے ملا تھا، جس پر کندہ تھا: ’’چیخوف کا افسانہ، صفحہ نمبر دوسو سات، سطر چھے اور سات‘‘۔
چیخوف کے اس افسانے کا صفحہ نمبر دو سو سات کھولیں اور اس کی سطر چھے اور سات پڑھیں، لکھا ہے: ’’میری زندگی تمہاری ہے…… جب ضرورت ہو آکر لے جانا!‘‘
یہ تھی لیدیا، نرالی لیدیا اور اس مثلث کی تیسری اور سب سے بڑی سچائی۔
بوڑھی لیدیا ٹھیک کہتی تھی…… اس کے ہاتھوں کی اُبھری ہوئی نیلی رگوں میں چالیس سال بعد بھی چیخوف کی محبت کا خون دوڑتا نظر آتا تھا۔ چیخوف، جو رات کے اندھیرے میں بھیس بدل کر براستہ ازبکستان، فیصل آباد کے گھنٹا گھر چوک پر کھڑے ہو کر سات بازاروں کے لوگوں کی زندگیوں کو دیکھتا ہے…… اور ماسکو کی سڑکوں گلیوں اور کلیسا کی بینچوں پر بیٹھ کر ان پر کہانیاں لکھتا ہے۔
(بہ شکریہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘، فیس بُک صفحہ)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔