انتخاب: محمود الحسن
محمد کاظم نے اپنے خط میں لکھا:
’’تین چار روز ہوئے روس کے عظیم عالمی ادیب ’’الگزانڈر سولژے نتسن‘‘ کی وفات کی خبر اخبارات میں چھپی اور ٹی وی کے ٹیلپ پر بھی پڑھنے میں آئی۔ بہت افسوس ہوا۔ ’’سولژے نتسن‘‘ ہمیشہ سے میرا محبوب مصنف رہا ہے۔ آپ کو شاید علم ہو گا یا نہیں کہ جنوری 1974ء میں (اُس وقت آپ کے برس کے ہوں گے؟) مَیں نے ایک بہت مفصل مضمون ’’سولژے نتسن‘‘ کی زندگی، اس پر ٹوٹنے والے مظالم اور ان سب مختصر کہانیوں کا (جن کو وہ نثری نظمیں کہتا تھا) ترجمہ بھی دیا تھا۔ یہ کہانیاں روسی زبان سے پہلے انگریزی میں ترجمہ ہو کر لندن کے "Sunday Observer” میں چھپیں اور انگریزی سے میں نے ان کا اُردو میں ترجمہ کر کے فنون میں دیا……لیکن ایک عجیب بات ہے کہ ترجمہ در ترجمہ ہونے کے باوجود اُردو میں بھی یہ کہانیاں پڑھیں، تو ان میں ’’سولژے نتسن‘‘ کی روح بولتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔
’’سولژے نتسن‘‘ کی خالص ادبی چیزوں میں سے دو نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ ایک اس کا ناول "Cancer Ward” اور دوسرے اس کی یہ سات مختصر کہانیاں!
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ چاہیں اور آ پ کو مناسب معلوم ہو، تو ’’سولژے نتسن‘‘ کی یہ سات کہانیاں ایک موزوں پیش لفظ کے ساتھ (کیوں کہ فنون میں میرا وہ مضمون خاصا طویل تھا) قندِ مکرر کے طور پر سمبل کے آیندہ شمارے میں دی جا سکتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے قارئین ان کہانیوں کو بہت پسند کریں گے…… اور ان میں اکثر تو انہیں پہلی بار پڑھیں گے۔
جن دنوں یہ مضمون فنون میں شایع ہوا، تو کراچی میں کمانڈر انور نے اس پر مجھے بہت داد دی۔ کہنے لگے، مَیں نے اس روسی ادیب کا نام تو سناتھا، لیکن مجھے پتا نہیں تھا کہ یہ کیا بلا چیز ہے۔ تم نے اس کا تعارف کرا کے بہت اچھا کیا۔‘‘
( علی محمد فرشی کے نام خط سے اقتباس)
ہاجرہ مسرور نے جواباً لکھا:
’’کینسر وارڈ مجھے کہیں سے نہ ملی اور جب یہ ناول احمد پر طعنہ زنی کا ایک مسلسل ہتھیار بن گئی، تو ایک دن احمد ہی نے لا کر مجھے دے دی۔ مَیں نے اس کے ابتدائی ابواب بہت آہستہ آہستہ پڑھے۔ اس کے بعد جوں جوں آگے بڑھی ’’سولزنتسن‘‘ نے مسحور کرلیا۔ میں اس ناول کے مطالعہ سے شاید محروم رہتی۔ کیوں کہ مغربی پریس میں ’’سولز نتسن‘‘ کا تذکرہ جس ہما ہمی سے ہورہا تھا، اس سے کچھ اور خیال ہوتا تھا، مگر درحقیقت یہ ناول ایک بڑے ادیب کی تخلیق ہے۔ مَیں شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہ ناول پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اسے پڑھنے کے بعد سوچتی رہی کہ ہمارا وہ ادیب کہاں ہے جو خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہنے والی حقیقتوں کو زباں بخش سکے؟
( محمد کاظم کے نام خط سے اقتباس)
(بہ شکریہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ فیس بُک صفحہ)
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔