’’والئی سوات کی آپ بیتی‘‘ فریڈرک بارتھ کی انگریزی کتاب "The Last Wali of Swat” کا اُردو ترجمہ ہے، جو غلام احد صاحب نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اِس سے قبل ’’روزنامہ آزادی‘‘ کے ادارتی صفحہ پر قسط وار شایع ہوتا رہا ہے…… لیکن اب اسے ضروری ایڈیٹنگ کے بعد کتابی صورت میں شایع کیا گیا ہے۔
’’دی لاسٹ والی آپ سوات‘‘ دراصل والئی سوات سے لیے گئے ایک طویل انٹرویو پر مشتمل کتاب ہے جس میں سابق ریاستِ سوات کے حوالے سے مفصل تاریخی واقعات کو نہایت عرق ریزی کے ساتھ تدریجی تاریخی تسلسل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب کئی حوالوں سے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ والئی سوات نے اہم تاریخی حقایق بہ زبانِ خود بیان کیے ہیں۔
اس کی دوسری اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ بہت سے تاریخی حقایق کے والئی سوات خود گواہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ کتاب میں ریاست کے جس عبوری دور پر روشنی ڈالی گئی ہے، وہ والئی سوات کی نگاہوں کے سامنے گزرتا رہا تھا۔
اس طرح شاہی خاندان کے بارے میں تحریر کردہ تفصیلی معلومات اور بادشاہ صاحب کے ظہور اور ریاست کے قیام کے بارے میں والئی سوات کا مخصوص نقطۂ نظر اس کتاب کا اہم حصہ ہے۔
یہ کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے جن میں والئی سوات کی ابتدائی زندگی، ریاست کا استحکام، تربیت کا دورانیہ اور اعتماد، زوال، انتظار کا زمانہ، بادشاہت کی طرف بڑھتے قدم، حکم رانی اور اِدغام اور اس کے بعد کے حالات اس تاریخی کتاب کے اہم ابواب ہیں۔
آخری حصہ میں ’’فریڈرک بارتھ‘‘ نے کتاب کے جملہ مندرجات کے بارے میں اپنا تفصیلی ذاتی اظہارِ خیال بھی کیا ہے۔ کتاب کے حوالے سے دی گئی ’’شرح اور متن میں ذکر شدہ اشخاص کا تعارف اور جغرافیائی فرہنگ‘‘ کتاب کی اہمیت مزید بڑھاتی ہے۔
میاں گل خاندان کا جامع شجرۂ نسب بھی کتاب کا حصہ ہے۔ غرض اس کتاب میں والئی سوات کی خود نوشت کی صورت میں سابق ریاستِ سوات کی ایک پوری تاریخ رقم کی گئی ہے۔ بہت سے ایسے تاریخی واقعات جو سوات کے بارے میں لکھی گئی عام تاریخی کتابوں میں موجود نہیں، وہ اس کتاب میں ملیں گے۔ والئی سوات نے ریاستی دور سے قبل کے حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
ریاستِ سوات اور اس کے قرب میں واقع دیگر نوابی ریاستوں کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شایقین کے لیے یہ کتاب نہایت دلچسپی کی حامل ہے۔ سوات کی نئی نسل اور طلبہ و طالبات کو خصوصی طور پر اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ انھیں اپنی جنم بھومی سوات کے بارے میں تاریخی آگاہی حاصل ہو۔
سوات کے اسکولوں اور کالجوں کی لائبریریوں میں اس کتاب کی موجودگی ناگزیر ہونی چاہیے۔




غلام احد کی ترجمہ شدہ کتاب ’’والئی سوات کی آپ بیتی‘‘ کا ٹائٹل پیج (فوٹو: فضل ربی راہیؔ)

کتاب کا ترجمہ نہایت سہل اور رواں دواں اُسلوب میں کیا گیا ہے جس کے لیے فاضل مترجم ستایش کے مستحق ہیں۔
کتاب کی اشاعت ضلع سوات کے ڈپٹی کمشنر جناب جنید خان کے مالی تعاون سے عمل میں لائی گئی ہے۔ سوات اور اہلِ سوات کے لیے موجودہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمات کا دایرہ کافی وسیع ہے۔ وہ نہ صرف ضلع کے انتظامی اُمور بہ حسن و خوبی ادا کر رہے ہیں…… بلکہ سوات کے علمی، ادبی، تاریخی، سیاحتی اور ثقافتی ورثہ کے حوالے سے بھی غیرمعمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اہلِ سوات ان کی خدمات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سوات اور اہلِ سوات کے ساتھ ان کی خصوصی محبت اور شفقت ناقابلِ فراموش ہے اور سوات کی سول سوسائٹی اور علمی و ادبی حلقے انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے میں یقینا بخل سے کام نہیں لیں گے ۔
اس اہم کتاب کی اشاعت کا اہتمام ’’شعیب سنز پبلشرز‘‘ نے بے حد خوب صورت ’’گٹ اَپ‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔ کتاب کی قیمت 500 روپے ہے…… لیکن شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز جی ٹی روڈ، سوات مارکیٹ مینگورہ سے یہ کتاب آپ رعایتی قیمت 300 روپے میں حاصل کرسکتے ہیں۔
’’والئی سوات کی آپ بیتی‘‘ پشاور میں ’’یونیورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار‘‘، ’’اسلام آباد میں سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ‘‘، لاہور میں ’’المیزان پبلشرز اُردو بازار‘‘ اور کراچی میں ’’فضلی سنز اُردو بازار‘‘ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔