’’سفر داستان‘‘ جیسا شاہ کار فن پارہ جب منصہ شہود پر آیا، تو دلی تمنا تھی کہ اس سے حظ اٹھایا جائے۔ سو رحیم و کریم کے کرم اور فن کار کی بندہ پروری کے باعث یہ فن پارہ میرے آنگن تک خود آ پہنچا۔
جوں ہی شام کو گھر پہنچا، تو والدِ محترم نے شفقت بھرے تبسم سے پیکٹ ہاتھ میں تھماتے جملہ کسا: ’’تمہاری آوارہ گردی کی تسکین کا ساماں لگتا ہے۔‘‘
سو فوراً سے پہلے بڑی بے تابی سے پیکٹ کھولا اور پہلی ہی نشست میں فقط 170 صفحات پڑھ ڈالے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتاب کس قدر سحر انگیز ہوگی۔
سب سے پہلے جادوئی منظر سرورق پر نظر پڑی تو کھو سا گیا۔تارڑ صاحب کا الفت وخلوص بھرا دیباچہ کمال، تصاویر کے حسنِ انتخاب اور کیپشن کے صدقے…… پہلا باب ’’جلتا ہوا نانگا پربت‘‘ میں بقولِ تارڑ صاحب، ’’دنیا کے حسین ترین اور ہمارے پسندیدہ ترین گاؤں ترشنگ، روپل، چورت کا ذکر گویا ہمیں محبوب کے کوچے لے گیا…… روپل بیس کیمپ جاتے جیپ کے بے قابو ہونے سے سنسنی سی پھیل گئی۔‘‘
دیوسائی کے پہاڑوں سے بھی بلند میدان کی اساطیری داستان لاجواب…… رام کوٹ قلعہ کی ویران دل کشی کا قصہ زبردست…… تخت بھائی میں بدھا کے مجسمے کا دیدار ہزاروں سال پیچھے ماضی مین لے گیا…… ’’راوی کنارے والے‘‘ باب میں خوب سربستہ راز کھولے گئے…… پسو اپر گوجال جس کے حسن کا روئے زمیں پر ثانی نہیں۔ اس میں فلسفیانہ رنگ نے خوب رنگ جمایا۔حادثات ہمیشہ جان لیوا نہیں ہوتے کبھی وہ دل لیوا بھی ہوتے ہیں۔
ٹلہ جوگیاں کے مصنف کے دو اسفار اس سے بے پناہ عشق کا اظہار ہیں۔ ’’اے ٹلہ جوگیاں، تم مقدس ہو، رنگ ہو، پرندوں کی آزاد روح کی مانند تم ماورا ہو!‘‘‘‘
تلاجہ قلعے دل کش ویرانیوں کے نام ’’مَیں اتنا ویران ہوں کہ اہلِ نظر مجھے نظر بھر کر دیکھتے ہیں۔‘‘
نلتر کے باب میں سیماب فطرت مصنف اس کے جادوئی منظر میں کھو کر لکھتا ہے: ’’سنو آوارگی سیکھنے کی نہیں کرنے کی چیز ہے۔ آوارگی خود میں ایک مذہب ہے۔ اس میں کسی کو پیر اور مرشد مت بناؤ۔ آوارگی اِک شعر ہے۔ نلتر میں چار پریاں رہتی ہیں۔ بلیو پری، ست رنگی پری، فیروزہ پری اور ایک پری ہے جسے میں نے پیاری کا نام دیا ہے۔‘‘
پوٹھوہار کے مردم خیز و معدنیات سے لب ریز خطے کی آوارگی جس میں پوٹھوہار کے سارے رنگ وا ہوتے ہیں اور قاری کو اس حیرت کدے میں گم کر دیتے ہیں۔
چٹا کٹھا سر کے بلند پہاڑوں پر خوابوں کے خیمے تک کی خواب آگیں مہم جوئی کے دوران میں بچھڑی ماں کی دیدار نے جذباتی کر دیا۔ شاید اس لیے کہ ہم بھی کب کے اس رحمت سے محروم ہو چکے…… مگر مائیں تو سانجھی ہوتی ہیں ناں……!
مائیں کبھی مرتی نہیں…… چاہے خدا ان کو اپنے پاس بلالے…… پھر ہمیشہ رابطوں میں رہتی ہیں ۔
جاز بانڈہ اور کٹورہ جھیل کے میکدے، میکشوں کو مدہوش کر دیتے ہیں……اور میکشوں کا نشہ تا دمِ آخر نہیں اترتا۔
کٹاس راج، نندنا اور ملوٹ کے اساطیری قصے اتنا محو کر دیتے ہیں کہ ماضی دماغ کے پردے پر اک زندہ جاوید فلم کی مانند لہرا سا جاتا ہے۔
اچھالی پر خدائی بلاوے آتے ہیں، تو سیماب فطرت سربکف اس کی طرف یلغار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور فتح کے پھریرے لہرا کر ہی لوٹتے ہیں۔
مرزا صاحباں کی افسانوی داستان حقیقت کا روپ دھارتی محسوس ہوتی ہے……جس میں مرزے کی وفادار گھوڑی ’’بکی‘‘ اور صاحباں کے حسن کے لشکارے سے چندھیا کر بنیے سرسوں کے تیل کی جگہ اسے شہد تولتے دکھائی دیتے ہیں۔
القصہ سہل اور سلیس اندازِ بیاں، پنجابی تڑکا، لطیف حسِ مِزاح، دلچسپ قصے، شاعرانہ تحاریر اور الفاظ کی مصوری کتاب کے کینوس میں ہزار رنگ بھر دیتے ہیں…… اور قاری اس میں کھوئے بغیر نہیں رہتا۔
سب سے بڑھ کر اپنی دھرتی ماں سے محبت کا بار بار اظہار…… اس کے جنگل، بیلوں، ریگستانوں، مٹیاروں، ہیروں، سسیوں اور مرزا صاحباں کے تذکروں سے خوب ہوتا ہے۔
آخر میں میری آوارگی کو مہمیز دینے والی ہستیوں محترم ڈاکٹر شاہد اقبال، محتشم خالد حسین اور مکرم میاں یاسین کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں…… جن کی محبتوں اور نوازشوں سے رانا عثمان، مزمل عمران موٹا بھائی اور راؤ احمد جیسے ہم مزاج مہا فطرت پسندوں سے شناسائی ہوئی اور ان کی جانب سے بے پناہ پیار ملا۔
اس کتاب کے نامہ بر ’’خرم بسرا صاحب‘‘ کے لیے بھی دعاگو ہوں…… جن کی کرم فرمائی سے کتاب مجھ تک پہنچی۔ علاوہ ازیں اپنی کم مائیگی پر شرمندہ بھی ہوں کہ میری یہ ادنا تحریر ان سب احباب کی محبتوں کا قرضِ حسنہ کا بدل کبھی نہیں ہوسکتی…… پھر بھی…… بقولِ شاعر
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا
نبی مکرم،نورِ مجسم، رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلَم نے فرمایا: تَصَافَحُوْا یَذْہَبِ الْغِلُّ وَ تَہَادَوْا تَحَابُّوْا وَتَذْہَبِ الشَّحْنَاءُ ۔ یعنی مصافحہ کیا کرو، کینہ دور ہوگا اور تحفہ دیا کرو، محبت بڑھے گی اور بغض دور ہوگا۔
افراتفری کے اس دور میں درجِ بالا حدیثِ مبارکہ پر احباب کا یوں عمل پیرا ہونا مسرور کرگیا۔ عثمان بھائی کے لیے از حد دعا۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔