سدھارت گوتم کے متعلق پیشین گوئی ہوئی تھی کہ یا تو وہ کامیاب فاتح بنے گا…… یا پھر عظیم روحانی لیڈر۔
گوتم کے والد چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ایک کامیاب فاتح بنے۔ انہوں نے گوتم کو ہر اس درد اور تکلیف سے دور رکھا جس کی وجہ سے اس کے ذہن میں سوال اُبھرتے اور نفسیاتی تکلیف کے زیرِاثر وہ روحانیت کی جانب چل پڑتا…… لیکن ہوا کچھ یوں کہ گوتم کے سامنے کچھ ایسی حقیقتیں آئیں جس نے اُس کے والد کے بنائے ہوئے خول کو توڑ دیا۔ سدھارت پر انکشاف ہوا کہ زندگی صرف اس کے محل کی چار دیواری میں ہورہی ’’ہارڈکور پارٹیز‘‘ تک محدود نہیں۔ موت، درد، بڑھاپا، بیماری اور زندگی سے ملنے والی مختلف تکلیفوں سے وہ بھاگ نہیں سکتا۔ جس رات سدھارت اپنے محل کو چھوڑ کر گیا…… ہم کہہ سکتے ہیں کہ بہت ممکن ہے اس رات سدھارت نے ’’ویلٹشمرز‘‘ (Weltschmerz) کو محسوس کیا ہو!
ہم سب سدھارت کی طرح بچپن میں ایسی کہانیاں سنتے ہیں جس میں کردار کچھ عرصہ مصیبتوں کا سامنا کرکے ہمیشہ کے لیے ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ بالی وڈ اور ہالی وڈ کی فلمیں جن میں ہیرو پورے گاؤں/ شہر کو ولن سے نجات دلاتے ہیں اور یوں برائی پر اچھائی کی جیت ہوتی ہے…… یا پھر ہمیں والدین کہتے ہیں کہ ’’اچھا کرو گے، تو اچھا ہی ملے گا۔‘‘
ان آئیڈیل کہانیوں اور نظریات کے ساتھ جب ہم اصلی دنیا میں قدم رکھتے ہیں…… اور لوگ ہماری توقعات کے برعکس ہمیں رسپونس دیتے ہیں، یعنی اچھائی کا بدلہ جب برا ملتا ہے…… ایک مسئلہ حل ہونے کی خوشی ہوئی نہیں ہوتی کہ دوسرا مسئلہ سر کھڑا ہوتا ہے…… جب جیت ولن کی ہوتی اور ہمارے مقدر میں محض غم…… تب ہمارے آئیڈیل نظریات دنیا کی سخت حقیقت کے ساتھ ٹکرا کر چکنا چور ہوجاتے ہیں…… اور ہمیں درد، غصہ، بوریت اور بے چینی گھیر لیتی ہے (کبھی شعوری کبھی لاشعوری طور پر)، حقیقت کے آئیڈیل پر اس زوردار وار اور اس وار سے ملنے والی تکلیف کو "Weltschmerz” کہتے ہیں…… جو کہ جرمن زبان کا لفظ ہے۔
انسانی دماغ آئیڈیل سین تشکیل دینے میں اول نمبر پر ہے…… اور جب وہ آئیڈیل حقیقت سے میل نہ کھائے، تو ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔ ہمارا دماغ سوچتا ہے کہ دنیا میں ہر وقت امن ہو اور خوشحالی ہو…… ہمارے ذہن کو لگتا ہے کہ ہم انسان جنگیں اور دُکھ سہنے کے لیے نہیں بنے…… ہمارے ذہن فلموں میں دکھائی جانے والی ہمیشہ والی خوشی کی تلاش میں رہتے ہیں…… لیکن جب تک زندگی ہے…… یہ سب چلتا رہے گا۔ کبھی اچھائی کی جیت ہوگی، تو کبھی برائی کی…… کبھی حالات ولن کے حق میں ہوں گے، تو کبھی ہیرو کے حق میں۔
رائیٹر مارک مینسن کہتے ہیں کہ زندگی میں مسایل سے نجات ممکن نہیں…… بس اس بات کا خیال رہے کہ مسئلے معیاری ہونے چاہیے۔
تاریخ میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقوں سے "Weltschmerz” کو ڈیل کیا ہے۔ گوتم نے روحانیت سے اس احساس کو سمجھا…… حقیقت کو تسلیم کرکے اپنی تکلیف کو کم کیا۔
فرانسیسی فلسفی ’’البرٹ کیمو‘‘ کے مطابق زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ اس لیے جو بھی وقت میسر ہے…… اسے کوئی مقصد دے کر حقیقت کو تسلیم کرکے ہر قسم کے کٹھن حالات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی سے لطف اندوز ہوا جائے۔
اس کے برعکس فلسفی ’’سورن کیکر گارڈ‘‘ نے مذہب میں اس تکلیف سے نمٹنے کا حل تجویز کیا۔
اسٹائک فلاسفرز نے کہا کہ حالات ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ البتہ ہماری سوچ اور ہمارا رسپانس ہمارے کنٹرول میں ضرور ہوتا ہے۔ نتیجتاً "Weltschmerz” کو ڈیل کرنے کے لیے ہمیں آئیڈیل دنیا کا خواب بُننے کی بجائے حقیقت سے نظریں ملانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اچھائی اور برائی دونوں ہی ہماری دنیا کا حصہ ہیں۔ اچھا یقینا سب کو پسند ہے۔ کوئی بھی ہرٹ نہیں ہونا چاہتا…… لیکن "Weltschmerz” ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر آپ ایک "Optimist” ہیں…… زندگی کو لے کر پُرامید ہیں…… اچھا کرنا چاہتے ہیں، تو ضرور کیجیے…… لیکن یاد رکھیے کہ بہترین عمل سے ملنے والے بہترین نتیجے کی امید رکھے بغیر اس عمل کو انجام دیجیے۔ کیوں کہ اسٹائک فلاسفرز شاید صحیح کہتے ہیں کہ ہم سامنے والے کا رسپانس کنٹرول نہیں کرسکتے۔ البتہ سامنے سے بہتر عمل کی اُمید نہ رکھ کر خود کو ذہنی اذیت سے بچا سکتے ہیں۔
بے شک ’’ریٹرن‘‘ یا فایدے کی امید رکھے بغیر بہترین عمل کرنا میچور ٹی کی علامت ہے!
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔