39 total views, 2 views today

ماہِ رمضان میں لالچ تو کچھ زیادہ کتب پڑھنے کا تھا…… لیکن خیر جتنی پڑھ سکا، ساری بہت اچھی کتب تھیں۔ ذیل میں ان کا سرسری سا جایزہ پیشِ خدمت ہے:
1. "Manto Sahib, Friends and Enemies on the Great Maverick”
’’منٹو صاحب‘‘ دراصل "Vibaha S. Chauhan” اور "Khalid Alvi” کی ترجمہ شدہ کتاب ہے۔ یہ اُردو افسانے کے جانے پہچانے نام ’’سعادت حسن منٹو‘‘ کی شخصیت اور فن پر لکھے گئے مختلف قلم کاروں کے مضامین کا مجموعہ ہے۔ کرشن چندر، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمیؔ اور اُردو ادب کے دیگر بڑے قلم کاروں کے علاوہ خود منٹو، اُن کی بیٹی اور بھتیجے کے مضامین بھی شمال ہیں۔
منٹو کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں۔ اپنی 42 سالہ مختصر زندگی انہوں نے بطور ایک لکھاری کے مستقل تگ و دو میں گزاری۔ حساس طبیعت، مخصوص گھریلو اور معاشرتی ماحول اور زندگی کے کچھ حادثات نے ان کے اندر ایک بغاوتی روح پھونکی تھی۔ میٹرک میں اُردو میں فیل ہونے سے لے کر اُردو ادب کے اُفق پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بطور ایک منفرد افسانہ نگار کے اُبھرنے تک کا سفر بہت دلچسپ ہے۔ ایک لکھاری کو کن مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے، کیا مشکلات پیش آتی ہیں، کیسی زندگی بسر کرنی ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ کی تفصیلی رپورٹ پڑھنے کو ملتی ہے۔ منٹو کے نظریات، شوخ طبیعت، گھریلو زندگی، دوستوں کے ساتھ دلچسپ تعلقات، فُحش نگاری کے الزام کے سلسلے میں عدالتوں کی خواری، مختلف افسانوں کے پس منظر، لکھنے کا معمول، ممبئی اور لاہور کی زندگی میں فرق…… الغرض بہت سارے دلچسپ موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں چوں کہ منٹو کے قریبی دوستوں کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کے مضامین بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ ان کا تعلق موسم کی طرح بدلتا رہتا تھا۔ اس لیے ان کی شخصیت کے کئی رنگ آشکار ہو جاتے ہیں۔ منٹو کا انفرادی حسِ مِزاح، نفیس مزاج اور انا سے بھرپور شخصیت دریافت کرنے کی چیز ہے۔
یوں تو یہ کتاب ہر شخص کے پڑھنے کے لایق ہے…… لیکن نوجوان لکھاریوں کے لیے بطورِ خاص مفید ہے۔ اصل کتاب اُردو میں ہے۔ مَیں نے انگلش ترجمہ پڑھا ہے…… لیکن ترجمہ بھی بہت مزے کا ہے اور ادبی چاشنی لیے ہوئے ہے۔
2. "Sophies World”
اگر آپ فلسفے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو ’’جوسٹن گارڈر‘‘ کا یہ ناول آپ کے لیے ہے۔ اس کا اُسلوب اور ساخت چوں کہ بہت عام فہم ہے…… اس لیے فلسفے کے ابتدائی طالب علموں کے لیے اچھا انتخاب ہے۔
اس ناول میں بنیادی طور پر ’’صوفیہ‘‘ نامی ایک 14 سالہ لڑکی…… جس کا تعلق ناروے سے ہے، اور ’’البرٹو ناکس‘‘ نامی ایک اطالوی فلاسفر کے درمیان مختلف جگہوں پر ہونے والے دلچسپ مکالموں اور کچھ خطوط کا تذکرہ ہے۔ ان مکالموں اور خطوط میں قبل از سقراط دور کے ’’نیچرل فلاسفرز‘‘ سے لے کر 20ویں صدی کے فلسفہ دانوں اور کچھ تحریکوں کے بنیادی نظریات اور خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہانی کو دلچسپ بنانے کے لیے کچھ غیر مرئی اور خیالی کردار بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔ یہ انتہائی دلچسپ اور سبق آموز کتاب ہے۔
3. ’’الرحیق المختوم‘‘
مولانا صفی الرحمان مبارک پوری کی یہ کتاب سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی دنیا بھر کی کُتب میں اول انعام یافتہ ہے۔ اس کا اُسلوب سادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدایش سے لے کر وفات تک کی زندگی کے چیدہ چیدہ پہلوؤں اور واقعات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ ڈھیر سارے موضوعات کو بہت کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ سیرت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین انتخاب ہے ۔
4. "Unpopular Essays”
یہ کتاب بیسویں صدی کے عظیم فلاسفر ’’برٹرینڈ رسل‘‘ کے اُن مضامین پر مشتمل ہے جو عمومی طور پر متنازعہ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ان کی سب سے مشہور کتب میں سے ہے۔ رسل کی یہ دوسری کتاب تھی جو مَیں نے پڑھ لی۔ پہلی والی کتاب "Outline of Philosophy” کے مقابلے میں یہ والی زیادہ عام فہم لگی…… لیکن لوگ کہتے ہیں کہ اس کتاب کی زبان مشکل ہے۔ رسل کے نظریات، تنقیدی نقطۂ نظر اور منفرد نثر پڑھنے کے لایق ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں شامل مضامین کے موضوعات بہت دلچسپ ہیں۔
5. ’’یاد گارِ غالب‘‘ از الطاف حسین حالیؔ۔
اُردو (غزل) اور فارسی کے عظیم شاعر، مرزا غالبؔ پر لکھی گئی کتاب دلچسپ کیوں کر نہ ہوگی۔ حالیؔ کی دلکش نثر نے اس کا لطف دوبالا کر دیا ہے۔ اس سوانح عمری میں مرزا کی شخصیت، فن اور زندگی کے اُتار چڑھاؤ پر تفصیلی بحث موجود ہے۔ فارسی اور اُردو کلام کے مختلف ٹکڑوں کا انتخاب کر کے ان کی تشریح کی گئی ہے۔ غالبؔ چوں کہ صاحبِ طرز نثرنگار بھی تھے…… اس لیے اُن کی اُردو اور فارسی نثر کے نمونے بھی شامل کر لیے گئے ہیں۔
یار زندہ صحبت باقی!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔