تبصرہ: عمیر احمد 
’’بے چارے لوگ‘‘ ایک ایسی کتاب جس کا مختصر سے مختصر تعارف یہ ہے کہ اسے دوستوئیفسکی نے لکھا ہے اور سب سے بڑا اور عمدہ تعارف بھی یہی ہو سکتا ہے کہ اسے دستوئیفسکی نے لکھا ہے۔ وہی دستوئیفسکی جس کے بارے ٹالسٹائی نے کہا تھا: ’’اگر تم دستوئیفسکی سے ملو، تو اُسے کہنا مَیں اس سے پیار کرتا ہوں۔‘‘
تبصرہ لکھنا مجھے اس دنیا کا سب سے کٹھن کام لگتا ہے، شاید اس لیے کہ یہ نہ پڑھنے والوں کو کتاب پڑھانے کا مشکل کام ہے جب کہ تبصرہ لکھنے کے لیے کوئی ایسی ٹھوس مثال ڈھونڈنا اس سے بھی مشکل کام ہے۔ کیوں کہ لوگ تبصرے کے نام پر کہانی ہی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ میری کوشش ہو گی کہ میں بنا کہانی کھولے اس کتاب کے بارے میں کچھ بات کر جاؤں۔
اشتراکیت کے وطن روس میں جنم لینے والا فیودر دوستوئیفسکی اشتراکی انقلاب سے تقریباً 100 سال بڑا تھا لیکن اس انقلاب کو جنم دینے والے تمام انقلابی اُن جیسے ہی خیالات کے حامل ہوں گے، شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ انقلابیوں نے اُن سے سیکھا ضرور ہوگا۔ مزدور، کرانتی، مالشی، کلرک، ہاری، کسان، منشی اور چھوٹے ملازم یہ وہ لوگ ہیں جو اُن کی کتابوں میں اُن کی عکاسی کرتے ہیں۔ پھانسی کی سزا معاف اس ملزم (دوستوئیفسکی) کے قلم سے جو نگینے پھوٹتے ہیں شاید انھیں محسوس کرنے کے لیے ایک تلخ زندگی کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔
’’بے چارے لوگ‘‘ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں لکھی گئی ایک کتاب جن کے پس منظر میں خود اُنہوں نے اپنے آپ کو کاغذوں کے پیرہن میں اتارا ہے۔ اگر یہ کتاب ’’ادب برائے زندگی‘‘ کا ایک عملی مظہر ہے، تو وہیں اس میں خیالوں میں موجود ربط، کہانی کا تسلسل، پلاٹ کی ترتیب اور کرداروں کی تخلیق ایسے پہلو ہیں جو اسے جمالیاتی اقدار میں ڈھال کر ’’ادب برائے ادب‘‘ کا نمونہ اور ہر لحاظ سے کامل بنا کے پیش کرتے ہیں۔ علامت نگاری، تمثیل نگاری، مارکسی نقطۂ نظر ایسی خصوصیات ہیں جو اس کتاب کو آج کے ادب میں بھی ایک شاہکار سے کم نہیں دکھاتیں۔ اچھی کتاب ہے مگر کہیں کہیں ایسے جامد مقامات ہیں جہاں کہانی طویل ہوتی دکھائی دیتی ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ ہر لحاظ سے مکمل ترجمہ اور ایک زبان سے براہِ راست دوسری کا ترجمہ ہے نہ کہ روسی زبان سے انگریزی اور پھر اُردو۔ ترجمہ نگار نے دیگر کی بہ نسبت کہیں انگریزی کا کوئی لفظ استعمال کیا نہیں جو کتاب کے معیار کو اور زبردست بنا دیتی ہے۔ لکھنے والوں کے لیے یہ کتاب بہترین استاد کا کام کرے گی۔
(دوستوئفسکی کے ناول کا ترجمہ "بے چارے لوگ” کے عنوان سے ’’ظ-انصاری‘‘ نے کیا)
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔