43 total views, 3 views today

ناولٹ ’’اِک شاخِ تمنا‘‘ (1987ء) کا ابتدائیہ جو مصنف سیّد جاوید اختر نے ’’گستاخی‘‘ کے زیرِ عنوان لکھا ہے، پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
’’اک شاخ تمنا‘‘ میرا پہلا ناولٹ ہے۔ اس کو مَیں نے گزشتہ دس برس میں مکمل کیا ہے۔ ایک چھوٹی سی کہانی کے لیے دس سال کی مدت یقینا بہت طویل ہے۔ اگرمیں چاہتا، تو آج سے پانچ سال پہلے اسے شایع کرا سکتا تھا لیکن مَیں نے ایسا نہ کیا۔ ان دس برسوں میں، مَیں نے اس ناولٹ کو خوب چھانا پھٹکا ہے۔ کم و بیش تین مرتبہ پورے مسودے کا پوسٹ مارٹم کیا۔ وقتاً فوقتاً مختلف صاحبِ فکر اور اہلِ قلم احباب کو مسودہ پڑھنے کی زحمت دی اور اُن کے مشورے حاصل کیے۔ مثلاً پہلے مرحلے میں جناب آفتاب عالم، جناب رحیم بخش جتوئی، جناب اشفاق مرزا اور میری شریکِ حیات محترمہ عابدہ نسرین نے اس کتاب کو پڑھا اور میری رہنمائی کی۔ اس کے بعد جناب پروفیسر صابر علی سیّد، جناب پروفیسر عرش صدیقی اور جناب ناصر زیدی نے اپنی بیش قیمت آرا سے نوازا اور آخری مرحلے میں جناب پروفیسر سہیل اختر اور جناب ظہور نظر نے میری مدد کی۔ درحقیقت میں ان سب دوستوں کا ممنون ہوں کہ انھوں نے کسی نہ کسی طور میری معاونت فرمائی۔ اب میں اپنے تئیں مطمئن ہوں کہ ’’اِک شاخِ تمنا‘‘ کی اشاعت کا وقت آ پہنچا ہے۔
دوسری بات اس ناولٹ کی ڈکشن اور نظریے کے بارے میں ہے جیسا کہ میرے چند کرم فرماؤں نے خیال ظاہر کیا کہ اس ناولٹ کا اُسلوب راجندر سنگھ بیدی کے ناولٹ ’’اِک چادر میلی سی‘‘ سے ملتا جلتا ہے۔ ہو سکتا ہے ایسے ہو، کیوں کہ عظیم ادیب نئے لکھنے والوں پر اپنے اثرات ضرور مرتب کرتے ہیں، تاہم مَیں سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے شعوری طور پر کسی کا تتبع نہیں کیا۔ جہاں تک اس ناولٹ کی آئیڈیالوجی کا تعلق ہے، اس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں…… لیکن اس کا کیا مداوا کہ ہماری آپ کی زندگی انہی پُرپیچ راستوں میں گزرتی ہے او رفاختہ کے خوب صورت نرم و نازک پَر انسانی تہذیب کے لیے محل کی سیڑھیوں پر پڑے ہیں۔ بہرحال مَیں نے اپنے تصور میں فاختہ کو مرنے نہیں دیا۔ ‘‘
یہ ناولٹ ناشر و مدیر مولانا محمد متین غریب پوری کے آفس میں کام کرنے والے ایک اسسٹنٹ امجد کے گرد گھومتا ہے۔ یہ اپنے وقت میں ضرور مشہور ہوا ہوگا۔ کیونکہ ادارے کے مالک ناشر و مدیر کا کردار اصل میں ایک مشہور و ادبی شخصیت چراغ حسن حسرت سے اخذ کیا گیا ہے…… جن کا اُس زمانے میں بلکہ آج بھی بڑا نام ہے۔ امجد سے پہلے عقیلہ نامی خاتون ادارے میں کام کر رہی ہے۔ وہ امجد کے افسانوں کی پرستار ہے اور اُسی سے طویل ادبی گفتگو کرتی ہے…… جو مولانا متین سمیت پورے ادارے کو گراں گزرتی ہے۔
’’اس کے ماتحت عملے میں کئی آدمی تھے۔ آرٹسٹ انور جو ایک پُرکشش آدمی تھا اور چھوٹے چھوٹے برشوں اور رنگوں کے ملاپ سے رسالوں کے سرورق اور گیٹ اَپ کا کام کرتا تھا۔ ایک اور ادبی اسسٹنٹ مسٹر حنائی چونتیس سال کے پیٹے میں تھا اور اس سے کہیں زیادہ تجربہ کار ہونے کے باوجود اس کے ماتحت کام کرتا تھا۔ جتنا وہ تیز گفتارتھا، اتنا ہی اُس کا قلم انٹ شنٹ مضامین لکھنے میں تیز رفتار تھا۔ ’’پیلے ہاتھی‘‘ کا سگریٹ سلگا کر وہ کسی لکڑ ہارے کی مانند قلم کا کلہاڑا چلانے لگتا۔‘‘
یہ ایک اخباری دفتر کا منظر نامہ ہے جہاں امجد کام کرتا تھا، وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا، مگر ایسا آدمی لوگ پسند نہیں کرتے۔ امجد تو سیدھا ہے مگر دیگر عملہ سیدھا نہیں۔ عقیلہ اُسے دفتری کام کے سلسلے میں جب بھی بلواتی ہے، ادارے کا عملہ اس حوالے سے منفی باتیں کرتا ہے۔ آخر وہ بھی کسی حد تک عقیلہ میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔
’’اُس کا فلیٹ بیڈن روڈ کے بھرے پُرے بازار کی تیسری منزل پر تھا۔ شام بھیگ چکی تھی۔ ہر طرف رنگ برنگی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ وہ اُٹھ کر بالکونی میں جا کھڑا ہوا اور بازار کی رونق دیکھنے لگا۔ چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد کوئی نہ کوئی عورت وہاں سے گزر رہی ہوتی۔ کوئی خوب صورت نقاب میں سمٹی سمٹائی۔ کوئی راہ گیروں کو دعوتِ نظارہ دیتی ہوئی۔ اچانک اُسے اپنے بدن میں لہو کی حرارت کا احساس ہوا اور نگاہوں میں مس عقیلہ کی صورت گھوم گئی۔ چوڑے چکلے سینہ پر سیاہ رنگ کی اُفقی دھاریاں، جیسے کسی خوب صورت وادی کے دامن میں سرمئی رنگ کے بادل کی لہریں پھیل رہی ہوں۔ اُس کی کمر کا زیریں حصہ تو کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ نرم و گداز اور بھاری بھرکم لوچ!‘‘
مگر یہ سب معاملہ خیالات اور ذہنی فرسٹریشن کی حد تک تھا۔ جسمانی طور پر انہیں قریب آنے کا نہ تو کوئی موقع ملا تھا، نہ ان دونوں میں سے کوئی خوش ہی تھا۔ عقیلہ ایک تھی اور منھ میں پانی سب کے آرہا تھا۔ یہی صورتِ حال ہے ہمارے گھٹے ہوئے معاشرے میں۔ لوگوں کے منھ بند رکھنے کے لیے محبوبہ کسی کو بیٹی بنانی پڑتی ہے اور کسی کو بہن۔ یورپ میں ایسا نہیں۔ وہاں "Yes” یا ـ”No” چلتا ہے۔ کوئی اووں آں نہیں ہوتی۔ کسی کا وقت ضایع نہیں ہوتا۔ کیونکہ زندگی ایک ہی بار ملنے والی نعمت ہے۔
’’سرورقی تصویر ایک خیالی ماڈرن لڑکی کی تھی جو سنگھار میز کے سامنے ایک سٹول پر بیٹھی اپنے چہرے کے میک اَپ میں مصروف تھی۔ سامنے آئینہ میں اُس کی چھاتیوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔ ہلکے نارنجی رنگ کا عکس۔ جیسے جھیل میں چاند ڈوب رہا ہو یا جیسے کسی نے دو بڑے انار آئینہ پر لٹکا دیے ہوں۔ ’’ چچ چچ …… چچ‘‘ مولانا نے چشمہ پہن کر ایک نگاہ ٹائٹل پر ڈالتے ہوئے منھ سے آواز نکالی۔ ’’واہ بھئی واہ…… انور دل خوش کر دیا۔ جی چاہتا ہے آدمی تصویر ہی سے لپٹ جائے۔ کیوں امجد صاحب؟‘‘ وہ ایک لمحہ کے لیے خاموش ہوگئے۔‘‘
مولانا صاحب کا دل عقیلہ سے کسی حد تک بھر چکا ہے۔ وہ ایک نئی لڑکی فاخرہ بھرتی کرتے ہیں جو باقی سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ امجد، عقیلہ کے آفس کے باہر میکلوڈ روڈ کے ’’کنگز ہوٹل‘‘ کے ایک کیبن میں ملتا ہے۔ دونوں ذرا بے تکلف ہوتے ہیں اور دل کی باتیں کرتے ہیں۔ رقعے بازی اور پھر خط و کتابت شروع ہو جاتی ہے۔ امجد حقیقت پسند ہے اور جذبات کے کھلے اظہار پر یقین رکھتا ہے…… لیکن عقیلہ ذرا گھٹے ہوئے ماحول کی پیداوار ہے اور مذہب کے اثرات بھی اُس پر کسی قدر ہیں۔ وہ امجد کو روایتی مشرقی لڑکی کی طرح بہت لٹکاتی ہے…… مگر محبت اظہار مانگتی ہے۔ عقیلہ، امجد کو جتنا ٹال سکتی تھی، ٹال چکی تھی۔ آخر اُس نے بھی تو زندگی میں کسی نہ کسی کا تو ہونا ہی تھا۔ پھر وہ بے قرار ہو کر امجد کے گھر پہنچ جاتی ہے۔
’’وہ خاموش رہی اور اُس کی دبی دبی سسکیاں اُبھر اُبھر کر ڈوبتی رہیں۔ ’’اچھا اب مجھے پیار کرنے دو!‘‘ امجد نے اُس کے چہرے پر جھکتے ہوئے کہا۔ ’’خشک چراگاہوں میں بھٹکنے والی خوبصوت گائے۔ سرسبز وادیاں تمہارے تھنوں میں دودھ بھر دیں گی‘‘ یہ کہہ کر اُس نے عقیلہ کے ہونٹوں پر ایک مختصر سا بوسہ دیا۔ وہ اب تک رو رہی تھی اور آنسوؤں کا قافلہ تکیے تک پہنچ چکا تھا۔ ’’پلیز امجد ڈسٹرائے می۔ ڈسٹرائے می! مجھے آج رونددو کہ میں خاک ہو جاؤں، راکھ ہو جاؤں!‘‘ اُس نے ہچکیوں کے مابین التجا کی اور اپنی پوری طاقت سے امجد کو اپنے ساتھ چمٹا لیا۔
’’نہیں مس عقیلہ، نہیں!‘‘
امجد نے یکایک اپنے بازؤوں کی گرفت ڈھیلی کر دی۔ اُسے اپنا سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا۔ آواز لڑکھڑانے لگی۔ ’’ایسے نہیں ہو گا۔ ویسے نہیں ہوگا!‘‘ وہ بڑبڑایا۔ ہم پہلے شادی کریں گے…… ’’اور اُس کی آواز ٹوٹ گئی۔‘‘
امجد نام کا نہیں اندر سے بھی مثبت اور اچھا انسان ہے۔ وہ عقیلہ کی محبت کو آزما تو لیتا ہے، مگر باعزت طور پر۔ اُس کی کم زوری کا فایدہ نہیں اُٹھاتا۔ اُسے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی میں لانے کا مضبوط فیصلہ کرتا ہے۔
اس ناولٹ کا ’’اُسلوبیاتی تجزیہ‘‘ ہمیں بتاتا ہے کہ اسے بڑی عرق ریزی اور غوروفکر سے لکھا گیا ہے۔ صحافت کی منظر نگاری بہت عمدہ ہے اور باقی کہانی بھی فکری گہرائی اور زندگی کا فلسفہ لیے ہوئے ہے۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔