تحریر: یاسر جواد 
مَیں خود کو اُردو کا بہترین اور قابل ترین مترجم نہیں سمجھتا۔ شاہد حمید، عمر میمن، پروفیسر محمد اجمل، سید ذاکر اعجاز اور سلیم الرحمان صاحب میرے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مَیں نے ہمیشہ ترجمے کو اصل متن سے قریب تر رکھنے کے علاوہ تنوع، جھنجوڑنے والے موضوعات کا انتخاب اور فکر انگیز کتب کے انتخاب پر زیادہ توجہ دی ہے…… لیکن سب سے زیادہ چیزیں آپ خراب یا بے توجہی سے کیے گئے تراجم کی مدد سے سیکھتے ہیں۔ تب آپ کو شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اِسے ٹھیک کرکے دیکھیں…… لیکن بدقسمتی سے اُردو زبان میں چھپنے والی کتاب کی تعداد اور پڑھنے والے اِس قدر کم ہوگئے ہیں کہ ایسا کرنے کی گنجایش شاذ ہی بنتی ہے ۔
ہمارا قاری جب تک جلد اور 70 یا 80 گرام کاغذ کی جانچ سے نکل کر متن کو سراہنا نہیں سیکھے گا…… زیادہ بہتری کی توقع نہیں۔ کاغذ کی موٹائی یا رنگ پر بات کرنے والے قارئین وہی لوگ ہیں جو کے ایف سی کے برگر میں کچھ بھی ڈال کر دیے جانے پر کھا لیتے ہیں…… یا باٹا سروس سے چمڑے کے نام پر سنتھیٹک میٹریل کے جوتے پہن کر شکر ادا کرتے ہیں۔
لہٰذا وہ خوشونت سنگھ کے ناول ’’دِلی‘‘ کے نام پر برسوں سے نجانے کیا پڑھتے رہے ہیں…… لیکن میں ایک ایک صفحے کا موازنہ اصل متن سے کرنے کے بعد محفوظ انداز میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ’’ناول‘‘ کسی نے نہیں پڑھا…… جو پڑھا ہے وہ بس ’’دِلی‘‘ کا محض ایک خاکہ ہے۔
خیال اور طبع زاد تحریر یا مصوری کی طرح کوئی ترجمہ چاہے کتنا ہی اضافیاتی رنگ رکھتا ہو، مگر مترجم پر لازم ہے کہ وہ درجِ ذیل نِکات سے تجاوز یا انحراف نہ کرے:
٭ کسی جملے کے مفہوم کو بدلنا یا اُلٹنا۔
٭ اپنے تعصبات یا خوف کی بنیاد پر کچھ حذف یا ایزاد کرنا…… جو اصل عبارت کو کند یا شدید بنا دے۔
٭ تحریر کی ہیئت تبدیل کرنا، مثلاً نئے ابواب بنانا یا دو ابواب کو ضم کر دینا۔
٭ تہذیبی تناظر کا خیال نہ رکھنا…… کیوں کہ ترجمہ بہرحال دو تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا نام ہے۔
٭ مشکل پیش آنے پر توقف اور کوشش کی بجائے آسانی کی راہ اپنانا۔
٭ عجلت سے کام لینا۔
٭ ناموں، القابات، کرداروں کے پس منظر سے متعلقہ الفاظ کا خیال رکھنا۔
مَیں اوپر بیان کردہ چند ایک اصولوں کی کسوٹی پر ہی سابق تراجم کو پرکھوں گا۔ ذیل میں چند مثالیں دی جا رہی ہیں:
٭ اورنگ زیب کے ہاتھوں سکھ گورو کے قتل کا سارا واقعہ ہی حذف کر دیا گیا جو چار پانچ صفحات پر محیط تھا۔
٭ آسمان پر کوئی پتنگ بھی نہیں اُڑ رہی تھی۔ (مصنف نے "kite” لکھا ہے جو یقینا پتنگ نہیں بلکہ چیل ہے)
٭ خلجی کا منھ چڑھا بن گیا۔ (خلجی کا منظورِ نظر بن گیا)
٭ ہمارا سالا بھی بن گیا۔ (ہمارا ہم زُلف بھی بن گیا)
٭ پیغمبر عیسیٰ۔ (پیغمبر یسعیاہ)
٭ یاسمین مینار۔ (سمن برج)
متعدد جگہوں پر ڈائیلاگز کو مسلمانی مزاج کے مطابق بنایا گیا۔ مثلاً اگر بھاگ متی اللہ کا نام لیتی ہے، تو اُس کی جگہ بھگوان لکھ دیا گیا۔ مغل بادشاہوں کے مظالم کے واقعات کو حذف یا بہت مختصر اور نرم کر دیا گیا، اسلامی تاریخ کے تذکرے چھوڑ دیے گئے۔
ایک بہت ہی قبیح بات خسرو سے متعلقہ ابواب میں کہہ مکرنیوں جب کہ میرتقی میرؔ اور بہادر شاہ ظفرؔ کے ابواب میں درجنوں اشعار اور غزلوں کو حذف کیا جانا ہے۔ مترجمین نے نہ صرف اصل شعر ڈھونڈنے کی کوشش نہ کی…… بلکہ اُن کا ناقص سا مفہوم ہی بیان کیا…… یا پھر بالکل چھوڑ دیا…… یا پوری غزل حذف کرتے ہوئے اتنا ہی لکھا کہ یہاں وہ اپنی غزل سناتا ہے۔ اِس کے علاوہ سعدیؔ اور حافظؔ کے اشعار بھی نکال دیے گئے…… جو کئی ابواب کی جان تھے۔ مثلاً میرتقی میرؔ کے شعر کا مفہوم لکھنے پر اکتفا کی گئی: ’’جذبوں نے ہی انسان کو انسان بنایا ہے!‘‘ جب کہ اصل شعر یہ ہے:
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
نیز ناموں میں بھی احتیاط نہ برتی گئی۔ زین الدین کو ضیاء الدین، ناصر الدین کو نصیر الدین اور میرٹھ کو میروت اور مالچا کو مالچھا بنا دیا گیا۔
سو سابق تراجم میں اگر صفحات کے صفحات حذف ہیں…… متن کا مزاج بدلا گیا ہے…… مفہوم اُلٹ دیا گیا ہے…… نام اور سنین غلط ہیں…… ڈائیلاگز کے ختنے کیے گئے ہیں…… ابواب میں ردوبدل کیا گیا، تو میرے نزدیک یہ بہت بڑے جرایم ہیں۔
مَیں اپنے تراجم میں ہمیشہ اِن باتوں کا خصوصی خیال رکھتا ہوں اور اس ترجمے میں بھی رکھا۔
بُک کارنر والوں کا بھی شکریہ کہ اُنھوں نے یہ نیا ترجمہ کرنے کی تحریک دلائی اور اِسے خوب صورتی سے شایع کیا…… جو اُنھی کا طرۂ امتیاز ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔