39 total views, 1 views today

انتخاب: احمد بلال
مشہور سکاٹش ادیب اِئین بینکس (Iain Banks) کی وفات پر سید کاشف رضا صاحب نے ان کے فن پر ایک مضمون اور ان کے آخری انٹرویو کا ترجمہ کیا تھا جو دنیا زاد میں شایع ہوا تھا۔ اُسی مضمون اور انٹرویو سے انتخاب احباب کی نذر ہے۔
اِئین بینکس کی موت کے سلسلے میں ایک ایسی حیرت انگیز بات ہوئی جو خود فکشن کی کسی حیرت ناک کہانی سے کم نہیں۔ بینکس اسپتال میں ایک مرض کو معمولی جان کر اس کے علاج کے لیے گیا، جہاں اسے بتایا گیا کہ وہ سرطان میں مبتلا ہے اور یہ سرطان اس مرحلے میں ہے جہاں اس کا علاج ممکن نہیں اور یوں اب اس کے پاس زندگی کے صرف چند ہی ماہ باقی بچے ہیں۔ اس کے بعد بینکس نے اپنی زندگی کی اس ہول ناک حقیقت کا دلیری سے سامنا کیا اور اپنی زندگی کے باقی دن پورے وقار کے ساتھ بسر کیے۔ خود ترحمی سے گریز اس کے آخری انٹرویو میں بھی نظر آتا ہے…… لیکن یہ انٹرویو اس لیے بھی اہم ٹھہرتا ہے کہ اس کے ذریعے ایک ایسے ادیب کے خیالات سامنے آتے ہیں جو اچانک سامنے آ جانے والی موت کی حقیقت سے معاملہ کر رہا ہے۔ علامہ اقبال کا ایک شعر مجھے بہت پسند ہے :
نشانِ مردِ مومن باتو گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست
بینکس مومن نہیں۔ ایک اسکاچ تھا…… لیکن ہنسنے مسکرانے میں اس نے آخری وقت تک کنجوسی نہیں کی۔
انٹرویو نگار:۔سٹواَرت کیلی
آپ جانتے ہیں کہ یہ میرا آخری عوامی بیان ہو سکتا ہے؟ آئین بینکس نے مجھ سے فون پر کہا، جب مَیں اُس سے یہ انٹرویو طے کر رہا تھا۔ جب ہم اس کے گھر سے چلتے ہوئے، اس کی مطالعہ گاہ پہنچے، تو اس نے افسوس کیا کہ کتابوں کے شیلف ہمیشہ کتابوں کی تعداد کے لیے کم رہ جاتے ہیں۔ ’’یہ وہاں جو ڈھیر پڑا ہے!‘‘ وہ ایک بک شیلف پر بیس ضرب چار کے ایک ڈھیر کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ’’یہ سب میرے پڑھے جانے سے رہ گئے ہیں۔ اور، افسوس کی بات یہ ہے کہ امکانی طور پر ایسا ہی رہے گا۔
اپنی نئی کتاب ’’دی کویری‘‘ کے بارے میں، جس کی اشاعت کی تاریخ پیچھے کر دی گئی ہے، وہ کہتا ہے: ’’بہت حقیقت پسندانہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہت سادہ سی کتاب بھی ہے؛ بہت زیادہ کردار نہیں ہے۔ اس میں محلِ وقوع بھی صحیح معنوں میں صرف ایک ہی ہے اور یہ کتاب فلیش بیک اور بیانیے کی ترتیب میں بھی کچھ زیادہ گڑ بڑ نہیں کرتی۔‘‘
وہ اضافہ کرتا ہے کہ ’’اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ میری آخری کتاب ہوگئی، تو مَیں اس بات پر کچھ مایوس ہوتا کہ میں دوسری کتابوں کے مقابلے میں ایک کم تر چیز کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں؛ جب کہ اگر ’ٹرانزیشن‘ جیسی کوئی چیز ہوتی، جو فنٹاسی، سائنس فکشن اور مجنونانہ حقیقت ملاکر بنائی ہوئی ایک وحشیانہ اچھال ہے، تو وہ واقعی کوئی ایسی کتاب ہوتی جس کے ساتھ رخصت لی جاسکتی تھی…… مَیں اب بھی ’دی کویری‘ کے بارے میں بہت متفخر ہوں لیکن…… چلیے اس کا سامنا کرتے ہیں۔ بالآخر واقعی بہترین طریقہ تو یہ ہوتا کہ کسی عظیم بڑے اور ہلا دینے والے کلچر ناول کے ساتھ سائن آف کیا جاتا۔‘‘
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اس کے ہاں ایک محسوس ہونے والا رنج پایا جاتا ہے وہ بات کرتا ہے کہ ؛’’ایک بہت بڑا جھوٹ ہے یہ کہ ہمارے لڑکے افعانستان میں لڑ رہے ہیں، مار رہے ہیں اور مر رہے ہیں، صرف اس لیے کہ ہمیں محفوظ رکھ سکیں…… یہ بات سچائی سے 180 ڈگری کے زاویے پر ہے۔ ان کی موت غیر ضروری سے بھی کہیں زیادہ بے کار ہے؛ وہ صرف ان لوگوں کا سیاسی چہرہ بچانے کے لیے مر رہے ہیں، اور افعانستان کے ہر دکھیارے خاندان کے لیے ہم ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مزید ہلاکتوں کا سامان پیدا کرے۔‘‘
وہ آہ بھرتا ہے، ’’مَیں مستقبلِ قریب میں سے بہت کچھ کو دیکھ نہ پاتا۔‘‘ مجھے بہت پسند آئے گا اگر میں دیکھ سکوں کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ مشتری کے چاند یوروپا پر موجود سمندروں میں کیا ہو رہا ہے، اور ہم محض اپنے نظام شمسی میں مزید کیا پائیں گئے…… ہم دوسرے ستاروں کے گرد موجود سیاروں کی فضا کا جایزہ لینے سے بہت دور نہیں رہ گئے اور شاید وہاں زندگی کے آثار ڈھونڈ نکالنے سے بھی، یہاں اتنا کچھ ہے جیسے دیکھ پانا مجھے بے حد پسند آتا، اور مُثبت……؟ میں خوش قسمت رہا کہ مجھے اتنی اچھی زندگی ملی…… سادہ لفظوں میں کہوں، تو میری زندگی کے ابتدائی 30 سال کافی زیادہ اچھے تھے اور آخری 30 سال، جب میری تحریروں کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا، مکمل طور پر شان دار رہے ہیں۔ میرے اچھے دوست اتنے زیادہ ہیں اور مَیں ایک خوب پھیلے ہوئے خاندان کا رُکن ہوں اور مَیں اپنے پیچھے اپنی تحریروں کی کافی تعداد چھوڑ جاؤں گا۔‘‘
(نوٹ:۔ یہ مضمون اور انٹرویو 19 صفحات پر مشتمل ہے، یہاں اس کا ایک چھوٹا سا حصہ نقل کیا جاتا ہے، راقم)
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔