ترجمہ: ڈاکٹر ثوبیہ طاہر 
علم و آگہی سے مایوس ہو کر مَیں نے زندگی کے مسئلے کا حل خود زندگی کے اندر تلاش کرنے کی کوشش کی۔ مَیں نے اپنے گرد و پیش کے انسانوں کا مشاہدہ شروع کیا کہ دیکھوں یہ زیست کو کس طرح برتتے ہیں اور ان سوالوں سے کس طرح نمٹتے ہیں، جنہوں نے مجھے اس حال تک لا پہنچایا ہے۔ مَیں نے یہ مشاہدہ ان لوگوں سے شروع کیا جو میری ہی طرح کے تھے…… یعنی جن کی حیثیت، تعلیم، طرزِ زندگی اور حسب نسب مجھ سے میل کھاتے تھے۔ مَیں نے دیکھا کہ میرے طبقے کے افراد نے زندگی کے سوالوں سے بچنے کے لیے فرار کے چار مختلف طریقے اپنا رکھے ہیں جو کہ کچھ اس طرح تھے۔
فرار کا پہلا اور سب سے مقبول طریقہ جہالت تھا۔ اس کے شکار افراد یہ جاننے اور سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے تھے کہ زندگی لغو یا بے معنی ہے۔ وہ اس کے شر کو جانچنے سے قاصر تھے۔ اس طبقے کی اکثریت عورتوں، نوجوانوں اور نہایت بے وقوف لوگوں پر مشتمل تھی۔ یہ وہ لوگ تھے جو سلیمان، بدھ، شوپنہار، یا سقراط کی ذہنی سطح سے کوسوں دور تھے۔ انہوں نے کبھی عفریت موت کو اپنے طرف بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور نہ اُن چوہوں کو جو اس شاخِ حیات کو کاٹ رہے ہیں، جس سے وہ لٹکے ہوئے ہیں۔ انہیں صرف شہد کے قطروں سے سروکار تھا جنہیں وہ متواتر چاٹ رہے تھے۔ ان سے میں قطعاً کچھ نہ سیکھ سکا۔
دوسرا طبقہ لذت پرستوں کا تھا۔ یہ مَسرت کو فرار کا بہتر طریقہ قرار دیتا تھا۔ یہ طبقہ زندگی کے حقایق اور تلخیوں سے بخوبی آگاہ تھا، لیکن کھانے پینے، عیش و عشرت اور انبساط و کیف کو ہر شے پر ترجیح دیتا تھا۔ وہ عفریت اور چوہوں سے بھی باخبر تھا اور ان کی موجودگی میں شہد چاٹنے ہی کو بہترین حکمتِ عملی مانتا تھا۔ سلیمان اس طریقے کو یوں بیان کرتا ہے۔ پھر مَیں نے تلاشِ مَسرت کو ہی ہرشے پر فایق مانا۔ کیوں کہ اپنی محنت کے صرف اسی پھل سے وہ کچھ دیر تک حقیقتاً فیض یاب ہوسکتا ہے۔ اپنی راہ پر چلو، خوشی سے اپنی روٹی کھاؤ اور اپنا مشروب نہایت مَسرت سے پیو۔ اپنی بیوی کے ساتھ نہایت فرحت اور محبت سے رہو، جو زندگی کی تمام تر بے معونیت کے باوجود عمر بھر تم سے پیار کرتی ہے۔ کیوں کہ زیرِ فلک اپنی محنت و مشقت کے صرف اسی حصے اور اسی پھل سے تم بہرہ ور ہوسکتے ہو۔ زندگی میں جو بھی کرسکو پوری ہمت، طاقت اور توانائی سے کرو۔ کیوں کہ قبر میں، جہاں تمہیں جانا ہے، کوئی بھی کام اوزار، علم یا حکمت انسانوں کی بڑی اکثریت اسی فلسفۂ حیات کے سہارے جیتی ہے اور اسے ہی کامیاب تسلیم کرتی ہے۔ یہ لوگ اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں اور مَسرتوں کو ناکامیوں اور محرومیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں انہیں زندگی کے مثبت پہلوؤں اور مَسرتوں کو ناکامیوں اور محرومیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں انہیں زندگی کی خوشیوں میں زیادہ اور بہتر حصہ ملا ہوتا ہے۔ اپنی ذہنی اور اخلاقی کم تری یا کند ذہنی کے باعث وہ یہ سوچنے اور سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ زندگی میں انہیں حاصل ہونے والی بیشتر نعمتیں حادثاتی ہیں اور یہ کہ سلیمان کی طرح ہر کسی کو ہزاروں محلات اور ہزاروں بیویاں میسر نہیں ہوسکتیں۔ وہ یہ بھی فراموش کردیتے ہیں کہ سلیمان کے ایک ایک محل کو ہزار ہا بے بضاعت مزدوروں نے تعمیر کیا اور ان کی زیبایش کے لیے اپنا خون اور پسینا نذر کیا۔ وہ یہ شعور نہیں رکھتے کہ تقدیر کے جس اتفاق نے آج انہیں سلیمان بنایا ہے۔ اسی کی ایک جنبش کل انہیں اسی سلیمان کا ایک حقیر اور ادنا غلام بھی بنا سکتی ہے۔ اپنی کم تر ذہنی حیثیت کی وجہ سے وہ یہ سوچنا بھی ضروری خیال نہیں کرتے کہ آخر کیوں گوتم بدھ قلب اور روح کے چین سے بری طرح محروم ہوگیا۔ وہ بیماری، موت اور بڑھاپے کی حقیقت کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھتے جو آج نہیں تو کل ان کا کام تمام کردیں گے۔ ان افراد کی اکثریت اپنی ذہنی و فکری بے وقعتی اور اخلاقی پستی کو ’’مثبت فلسفۂ حیات‘‘ کا نام دیتی ہے۔ کیوں کہ حیات و کاینات کا کوئی بھی واقعہ ان کے معمولات کے تسلسل اور ان کی دلچسپیوں میں کوئی کمی پیدا نہیں کرتا۔ میں ان لوگوں کی پیروی نہیں کرسکتا تھا۔ کیوں کہ ان کے برابر غبی، بے حس، بد اخلاق اور بے وقوف ہونا میرے لیے ممکن نہ تھا۔ شہد کے قطروں میں لذت ضرور ملتی تھی، لیکن ایک مخلص اور سچے انسان کی طرح مَیں ان چوہوں اور عفریت سے ابھی نظریں نہیں چراسکتا تھا، جنہیں ایک مرتبہ دیکھ چکا تھا۔
فرار کا تیسرا طریقہ طاقت اور مضبوطی کا تھا۔ اس کا طریقۂ کار یہ جاننے میں مضمر تھا کہ زندگی بے مقصد، شر پر مبنی اور لا یعنی ہے۔ لہٰذا اسے ختم کردینا چاہیے۔ اس راستے پر چند بہادر اور جرات مند انسان ہی چل سکتے تھے۔ جو کہ اس بے ہودہ مذاق کی حماقت کو سمجھنے کے بعد اسے ختم کرنے کی ہمت رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ راحتِ مرگ، کلفتِ زیست سے کہیں بہتر اور پسندیدہ ہے۔ چناں چہ زندگی کو فوری طور پر ختم کر ڈالنا بہترین حکمتِ عملی ہے۔ اس کے لیے وہ کسی بھی فوری طور پر دستیاب طریقے کو بروئے عمل لاسکتے تھے۔ خواہ وہ رسی ہو یا پانی، خنجر ہو یا ریل کی پٹڑی۔ مَیں نے دیکھا کہ اس راستے پر چلنے والوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، تاہم اس راہ کے مسافروں میں زیادہ تر بے حد نوجوان افراد شامل تھے، جو بھری جوانی میں اس وقت یہ قدم اُٹھاتے تھے، جب اُن میں ہمت اور طاقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی تھی، اور وہ عادات ابھی پیدا نہ ہوئی ہوتی تھیں، جو انسانی عقل کو گہنا دیتی ہیں۔ مَیں نے محسوس کیا کہ یہی بہترین راستہ ہے اور مَیں اسی پر چلنا چاہتا تھا۔
فرار کا چوتھا راستہ کم زوری اور بے مائیگی کا راستہ تھا۔ یہ اس زندگی سے چمٹے رہنے کا راستہ تھا جس کی لغویت سے ہر کوئی واقف اور آگاہ ہوا اور یہ بھی جانتا ہو کہ آیندہ بھی اس سے کوئی نتیجہ حاصل ہونے کا امکان نہیں۔ اس طبقے سے وابستہ افراد بخوبی جانتے تھے کہ موت، زندگی کی نسبت قابلِ ترجیح ہے…… لیکن ان کی قوتِ فیصلہ اس قدر کم زور تھی کہ یہ کچھ کر گزرنے کی ہمت نہ رکھتے تھے اور کسی موہوم ’’بہتری‘‘ کی امید میں بس جیے ہی چلے جاتے تھے۔ ان کی زندگی محض ’’انتظار‘‘ پر مشتمل تھی۔ مَیں خود بھی اسی گروہ کا فرد تھا۔ مَیں اس مفروضے کے جھوٹ سے اچھی طرح واقف تھا کہ زندگی سے کسی بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ اگر بہتری کا کوئی امکان تھا، تو کیوں مَیں نے اور میری طرح دیگر انسانوں نے اس سے کوئی فایدہ حاصل نہیں کیا؟
حاصلِ کلام یہ ہے کہ زندگی کے ناقابلِ برداشت تناقضات سے بچنے کے لیے انسان فرار کی چار راہیں اختیار کرتے ہیں۔ اگرچہ مَیں نے اپنے ذہن پر حد سے زیادہ زور ڈالا، پھر بھی کوئی پانچواں راستہ تلاش نہ کرسکا۔
٭ پہلے راستے میں تو یہ جاننا ممکن نہیں کہ زندگی بے معنی، بر اور لاحاصل ہے اور زندہ رہنا کوئی بہتر عمل نہیں۔ مَیں بدقسمتی سے یہ راز جان گیا…… لیکن پھر ایک لمحے کے لیے بھی گیان کی اس اذیت سے چھٹکارا نہ پاسکا۔
٭ دوسرا راستہ زندگی کو اس کی اسی صورت میں بروئے عمل لانے کا تھا…… جس میں آپ مستقبل کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ مَیں یہ راستہ نہ اپنا سکا۔ شاکیہ منی کی طرح موت، بڑھاپے اور بیماری کی اصلیت سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی زندگی کو تج نہ سکا…… اور اس کے معمولات کو ترک نہ کر پایا۔ میرا تخیل اس قدر زرخیز، کیف و نشاط یا خوشی کے چند لمحات سے بھی میرے کثرت غم کا مداوا نہ ہوسکا۔
٭ تیسرے طریقے پر عمل کرنا بھی شاید میرے بس کا روگ نہیں تھا۔
٭ رہ سہ کے آخرِکار میں چوتھے راستے پر ہی چلنے پر مجبور تھا جس پر مجھ سے پہلے سلیمان اور شوپنہار چل چکے تھے۔ وہ راستہ بس جیے چلے جانے کا تھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک بھونڈا مذاق ہے، جو کسی نے ہم سے ہماری مرضی کے خلاف کیا ہے۔ تو بس میں نہاتا دھوتا بھی تھا، کپڑے بھی پہننا تھا، کھاتا پیتا تھا، باتیں کرتا تھا اور تو اور کتابیں بھی لکھتا رہتا تھا…… لیکن یہ صورتِ حال بھی میرے لیے نہایت تکلیف دہ تھی…… اور مَیں اس میں زیادہ دیر تک رہنا اپنے لیے ناممکن پاتا تھا۔
آہستہ آہستہ میں اس جواب تک پہنچا کہ میں خود کو اب تک کیوں ہلاک نہیں کر پایا، وہ یہ تھاکہ میرے اندر ایک نامعلوم سی آگاہی تھی کہ میرے سبھی خیالات غلط ہیں۔ اگرچہ مَیں اپنے خیالات کا کڑا تجزیہ کرتا تھا اور ان کی درستی اور صحت سے واقف تھا۔ ساتھ ہی ساتھ ان مفکرین کے خیالات پر بھی گہرا عبور رکھتا تھا…… جن کی تحریروں نے مجھے اس نتیجے پر پہنچنے میں مدد دی تھی کہ زندگی بے مقصد و لاحاصل ہے۔ اس کے باوجود میرے اندر کبھی کبھی یہ شک سا اُٹھتا تھاکہ اس سارے عمل میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ضرور ہے…… اور شاید میرا آخری نتیجہ پوری طرح صحیح نہیں۔
مَیں نے اپنے شبہے کا اظہار اس طرح کرتا تھا: ’’اپنی عقل کے مطابق مَیں نے یہ سمجھا کہ زندگی یکسر غیر منطقی ہے اور عقل سے بالاتر کچھ نہیں (اور یقینا کچھ نہیں اور ثابت بھی نہیں ہوسکا) تو پھر عقل ہی میرے لیے زندگی کی خالق ہے۔ عقل کے بغیر میرے لیے زندگی کا کوئی تصور نہیں۔ پھر عقل اس زندگی کے وجود سے کیسے انکار کرسکتی ہے، جس کی وہ خود خالق ہے۔‘‘
اسی بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اگر زندگی نہ ہوتی، تو میری عقل بھی نہ ہوتی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ عقل خود بھی زندگی کی اولاد ہے۔ زندگی ہی سب کچھ ہے۔ زندگی ہر شے پر فایق ہے۔ عقل خود زندگی کی اولاد ہے۔ زندگی ہی سب کچھ ہے۔ جس سے خود پیدا ہوا، مجھے محسوس ہوا کہ یہیں پر کچھ غلطی یا گھپلا ہے۔
زندگی ایک بے معنی برائی ہے اور یہ سچ ہے…… لیکن اس کے باوجود میں جیتا رہا اور اب بھی جی رہا ہوں۔ صرف میں ہی نہیں، انسانیت روزِ ازل سے زندگی گزارتی چلی آرہی ہے اور آج بھی زندہ اور موجود ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہوا……؟ اگر زندہ نہ رہنا ممکن ہے، تو پھر انسان مر کیوں جاتے، کیوں جیے جانے ہی کو ترجیح دیتے ہیں؟ کیا اب تک صرف میں اور شوپنہار ہی اس قدر عقل مند ہوئے کہ زندگی میں پنہاں شر، برائی اور بے معنویت کو سمجھ پائیں؟
اس کا مطلب ہے کہ زندگی کی حقیقت یقینا اتنی پیچیدہ نہیں کہ عام اور سادہ لوگ اسے سمجھ نہ پائیں۔ وہ اس سے صدیوں سے باخبر ہیں…… اسی لیے نہ صرف یہ کہ وہ ہمیشہ جیتے رہے…… بلکہ آج بھی اسی ذوق شوق سے زندہ ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اتنے عرصے سے زندہ ہیں اور انہوں نے زندگی کی منطق پر کبھی شبہہ نہیں کیا۔ میرے علم اور دنیا کے تمام دانشوروں کی حکمت نے اس امر کا اثبات کیا تھا کہ کاینات کی ہر شے خواہ نامیاتی ہو یا غیر نامیاتی…… زندہ ہو یا بے جان…… نہایت ہی حسن و خوبی سے ترتیب دی گئی ہے۔ اس کی تنظیم میں غیر معمولی ذہانت اور تدبر کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ صرف میر ی اپنی حیثیت ہی ناقابلِ فہم ہے…… لیکن یہ بے وقوف اور سادہ لوح انسانوں کی اکثریت جو زندگی کی نامیاتی اور غیر نامیاتی ترتیب کے متعلق کچھ نہیں جانتی…… مزے سے جیتی ہے…… زندگی کو بے حد منظم اور بامعنی سمجھتی ہے۔
چناں چہ مجھے احساس ہوا کہ زندگی میں کچھ اور بھی ہے، جو اَب تک میں سمجھ نہیں پایا۔ جہالت کا طریقۂ کار یہی ہوتا ہے…… جو میرا تھا۔ یقینا جہالت اسی طرح سمجھتی اور گفتگو کرتی ہے…… جیسے میں کرتا تھا۔ جہالت خود کو عقلِ کُل گردانتی ہے اور ہر اس شے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے جسے خود نہ سمجھ پائے۔ انسانیت کا ایک بہت بڑا حصہ ہمیشہ جوش و جذبے سے زندگی گزارتا آیا ہے…… اور آج بھی گزار رہا ہے…… جو یقینا زندگی کے مفہوم سے آگاہ ہے…… بصورتِ دیگر وہ زندہ نہ رہ پاتا۔ جب کہ ایک مَیں ہوں کہ زندگی کو یکسر بے معنی خیال کرتا ہوں اور زندگی سے گُریزاں ہوں۔
مجھے اور شوپنہار کو کسی نے زندگی کی نفی سے منع نہیں کیا…… ایسے میں، مَیں خود سے کہا کرتا تھا، تو پھر ٹھیک ہے میاں…… مار ڈالو خود کو…… تاکہ ہمیشہ کے لیے اس جھنجھٹ سے آزاد ہوجاؤ…… اگر تمہیں زندگی کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا، تو بہتر ہے اسے ختم کر ڈالو…… لیکن ایسی تحریریں پیدا کر کے دوسروں کو تو گم راہ نہ کرو…… اگر تم کسی خوش باش مجلس میں بیٹھے ہو، جہاں ہر کوئی ہنس رہا ہے اور اپنے مقصد سے آگاہ ہے…… جب کہ تم بجھے ہوئے اور ناخوش ہو…… اور تمہیں یہ سب کچھ بُرا اور قابلِ اعتراض معلوم رہا ہے، تو جاؤ اپنی راہ لو۔ کیوں کہ آخر میں نتیجہ یہی نکلا کہ ہم لوگ جو خودکشی کی اہمیت و وقعت سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے کر گزرنے سے گریزاں ہیں، یقینا اپنی نگاہ میں دنیا کے بے وقوف، ادنا اور غبی ترین انسانوں سے بھی گئے گزرے ہیں…… جو ایسا سوچتے ہی نہیں اور کم از کم اپنی دُھن میں مگن زندگی کے ساز پر رقص کر رہے ہیں۔
ہم لوگ تو دنیا کے کم زور اور نااہل ترین لوگ ہیں۔ کیوں کہ ہماری اعلا ترین حکمت و دانائی، عقل و خرد اور علم و دانش ہمیں زندگی کے مطلب تک سے بھی آگاہ نہیں کر پائے…… جب کہ وہ انسان جنہیں ہم جاہل اور بے علم کہتے ہیں…… کسی بھی شک و شبہے یا الجھن کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔
حقیقت یہ تھی کہ زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی کچھ انسانوں نے نہ صرف زندگی کے مفہوم پر غور شروع کردیا تھا…… بلکہ اسے کچھ نہ کچھ مفہوم عطا بھی کیا تھا۔ انہوں نے زندگی کو سلیقے سے جی کر گزارا تھا اور اس میں مقصد کا رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی۔ ہر دور میں انسانوں کی کچھ تعداد ایسی ضرور موجود رہی تھی، جنہیں زندگی، اس کے مطلب اور اس کے نشیب و فراز کی سمجھ تھی…… انہوں نے اسے کھوجا تھا اور پھر مجھ تک منتقل کیا تھا۔ میرا وجود اور میرے گردوپیش میں پایا جانے والا سب کچھ اسی معمۂ حیات کی جستجو اور کھوج کا نتیجہ تھا۔ یہ ان کی محنت کا ثمرہ تھا۔ عقل و منطق کے وہ تمام پیمانے جن سے میں زندگی کو جانچ کر اسے لاحاصل اور بے معنی پاتا تھا…… انہوں نے بتائے تھے، مَیں نے نہیں۔ مجھے انہوں نے پیدا کیا…… پروان چڑھایا اور تعلیم سے بہروہ ور کیا تھا۔ یہ مجھ سے پہلی نسل کے انسان تھے…… جنہوں نے غاروں سے لوہا کھود کر نکالا تھا…… جنگل اُگائے تھے…… ہمیں لکڑیاں کاٹنا سکھایا تھا…… مویشی اور گھوڑے پالے تھے…… ہمیں فصلیں بونے اور اکھٹے رہنے کے طریقے بتائے تھے…… انہوں نے زندگی میں ترتیب، تنظیم اور سلیقہ پیدا کیا…… اور مجھے سوچنے اور بولنے کی صلاحیت سے آگاہ کیا۔ مَیں انہی کی اولاد تھا…… انہی کے ورثے سے یہاں تک پہنچا تھا…… انہی کی محنت سے اس قابل بنا تھا کہ زندگی کو اپنے طور پر پرکھ سکوں…… اور آج مَیں نے ہی ان کی ساری محنت سے اس قابل بنا تھا کہ زندگی کو اپنے طور پر پرکھ سکوں…… اور آج مَیں نے ان کی ساری محنت ومشقت کو صفر اور لاحاصل قرار دے دیا۔
یہیں پر کچھ غلطی ہے۔ مَیں خود سے کہا کرتا۔ مَیں نے کہیں نہ کہیں غلطی ضرور کی ہے…… لیکن میں اس غلطی کا سراغ نہ لگا پاتا۔
(لیوٹالسٹائی کی کتاب "A Confession” سے مقتبس)
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔