انتخاب و ترجمہ: شوکت نیازی
ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، دراصل وہ سب کچھ مرنا ہی تو ہے۔ زندہ رہنا درحقیقت مرنا ہی تو ہے! ہاں، تم بھی جان جاؤگے۔ صرف 15 منٹ غور کرو، تو تم بھی جان جاؤ گے۔ اس دنیا سے اب تم کیا چاہتے ہو……؟پیار محبت…… چند روز کا بوس و کنار اور پھرتم بڑھاپے کے باعث یہ بھی نہ کر سکوگے۔اور کیا…… مال و دولت……؟ وہ بھی کس لیے……؟ عورتوں کے لیے…… چند لمحوں کی لذت کے لیے…… اچھا کھانے پینے کے لیے…… تاکہ بعد میں گوشت پوست کے پہاڑ بن جاؤ اور بیماریوں میں مبتلا ہوکر ساری ساری رات کڑوی کسیلی دوائیاں کھاتے رہو! اور اس کے علاوہ کیا چاہیے…… نام و نمود……؟ اس عزت و آبرو کا کیا فایدہ جب زندگی میں محبت نام کی کوئی چیز ہی نہ ہو ……! تو پھر یہ سب کس لیے……؟ آخر ہر چیز کا خاتمہ موت ہی پر تو ہوتا ہے۔ مجھے تو اب موت اتنی قریب دکھائی دیتی ہے کہ کبھی کبھار میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی بانہیں پھیلاؤں اور اسے گلے سے لگا لوں۔ موت سارے جہاں پر پھیلی ہوئی ہے اور ہر جگہ موجود ہے۔ مَیں جہاں نظر ڈالتا ہوں، مجھے موت ہی دکھائی دیتی ہے۔ راستے میں قدموں میں کچلے ہوئے چھوٹے کیڑے مکوڑے، خزاں رسیدہ پتے، کسی دوست کے بالوں میں جھلکتی ہوئی سفیدی…… میرے دل کو چیر دیتے ہیں اور میں پکار اُٹھتا ہوں: ’’وہ رہی موت!‘‘ مَیں جو کچھ کرتا ہوں…… جو کچھ دیکھتا ہوں…… جو کچھ کھاتا ہوں…… جو کچھ پیتا ہوں…… وہ سب کچھ جس سے میں لطف اندوز ہوتا ہوں…… چودھویں کے چاند کی چاندنی…… ابھرتے ہوئے سورج کی پہلی کرن…… سمندر کی نیلی وسعتیں…… دریا کی لہریں…… موسمِ گرما میں شام کو چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے…… موت ان سب چیزوں کے لطف کو کرکرا کر دیتی ہے۔‘‘
’’گے دی موپاساں‘‘ کے ناول ’’بیل آمی‘‘کے اُردو ترجمے سے اقتباس۔