انور سجاد کے ناولٹ ’’جنم روپ‘‘ (1985ء) کا انتساب ’’محمد عمرمیمن‘‘ کے نام ہے جو فکشن میں ایک اعلا مقام رکھتے ہیں۔ ناولٹ ’’جنم روپ‘‘ کا آغاز اس پیرے سے ہوتا ہے: ’’مَیں دشمن کے وار کو اپنے بدن کی دھار پرروکتی ہوں۔ تم سب کو فریب دے کر جلتی وادیوں کو ترک کرکے فرار ہوگئے۔ مَیں بے خوف بھڑکتی آگ میں لپکتی لپٹوں کے ساتھ ہم بستر، میری آنکھیں سربستہ رازوں کی حدت لیے دہکتی ہیں۔ جب مَیں اپنا گھونگٹ اُٹھا کے دیکھتی ہوں، تو تم سب میں گھل مل جاتے ہو۔ مَیں چیخ کر کہتی ہوں: ’’غدار‘‘ یہ وہ زبان ہے جو سنگین رات کو فاتح صبح میں بدل دیتی ہے۔ جو بارود اور پرچم کے بھولے بسرے بوجھ کو حافظے سے پھسلا کر سامنے لے آتی ہے۔ جو غداروں پر کوڑھی شبہے کے داغ دیتی ہے۔ جو بزدلوں، منافقوں کی روحوں کو سر بمہر کر دیتی ہے…… جو نیکیوں کو چور بازار میں بیچتے ہیں۔ مَیں ہر شے کا بطن ہوں۔ مَیں ستارہ میں پھول بن جاتی ہوں۔ مَیں کہتی ہوں ستارہ پھول میں چٹان اور بجلی…… جب مَیں کہتی ہوں چٹان اور بجلی، تو میں راکھ اور وطن بن جاتی ہوں۔ اُداسی اور ایقان اب مَیں چلا کر کہتی ہوں۔ راکھ وطن اُداسی اور ایقان کوئی گواہی نہیں دیتا کہ میں نے تمہیں دیکھا ہے۔ دشمن سی گولیاں میرے بدن میں سرخ پھولوں کی طرح مہک اٹھتی ہیں۔ مَیں نے اپنے خوابوں کو حقیقت میں شناخت کرلیا ہے۔ مَیں پکارتی ہوں، لیکن کوئی جواب نہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ مَیں وہ زبان بولتی ہوں جو آنے والے کل کے پہلے پہر کی زبان ہے۔‘‘
یہ ناولٹ بھی اُن دنوں لکھا جانے والا ہے جب پاکستان پر جبرو آمریت کی سیاہ رات چھائی تھی۔ علامتی اور مزاحمتی ادب کا دور دورہ تھا۔ سیدھی سادی بات حکم رانوں کو چبھتی تھی۔ کوئی بھی ادیب کہانی سے کتنا بھی بھاگ لے…… لامحالہ اُسے کہانی کی طرف آنا ہی پڑتا ہے۔ ’’جنم روپ‘‘ بھی کہانی کی طرف آتا ہے…… ور نہ ابتدائی صفحات میں خود کلامی اور شعور کی رو ساتھ ساتھ چل رہی ہے، کہانی کے بغیر ۔
’’دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی سر پر رکھی کپڑوں کی گٹھڑی کو تھامے ہاتھ اچانک ماں کے پیٹ پر جاتے ہیں۔ گٹھری سر سے لڑھک جاتی ہے۔ ماں دونوں ہاتھوں سے پیٹ کو تھامے دہری ہوجاتی ہے۔ ماں اسی طرح دوہری، ’’مَیں ابھی آئی‘‘ کہہ کر، پلٹ کے بھاگتی، گرتی، اٹھتی، گھر کی سیڑھیاں چڑھتی غایب ہو جاتی ہے۔ ہر منٹ بعد اوپر کی منزل سے چیخ کی آواز آتی ہے۔ پھر پانی بہتا ہے۔ وہ نالی کی طرف دیکھتی ہے۔ نالی کا پانی گدلا سرخ جس میں تیرتا جامنی رنگ کا لوتھڑا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ صدیاں بعد ماں لرزتے قدموں سے گلی میں آتی ہے۔ کانپتے ہاتھوں سے کپڑوں کی گٹھڑی اُٹھا کر سر پر رکھتے ہوئے نالی میں دیکھتی ہے۔ آہ بھرتی ہے: ’’میرا بیٹا!‘‘وہ حیران و پریشاں، ماں کو دیکھتی ہے۔ ماں کا چہرہ زرد ہے۔ اس کا پیٹ اب اتنا پھولا ہوا نہیں۔ اس کی سمجھ میں اب بھی کچھ نہیں آتا۔ وہ ماں کی مدد کرنا چاہتی ہے، لیکن کیسے؟ دور تک اسے باپ کے قہقہے پیچھا کرتے سنائی دیتے ہیں۔‘‘
اس ناولٹ میں دکھ ہی دکھ اور اداسی ہی اداسی ہے۔ کیوں کہ یہ اُس دور کی کہانی ہے جو صرف وردی والوں کے لیے خوشیاں اور سہولتیں لے کر آیا تھا۔ سفید پوشوں کے لیے اُس دور میں کچھ نہیں تھا۔ اپنے گھروالوں کو ٹھیک سے کچھ میسر نہ تھا مگر افغانی مہمان روٹیاں پھاڑ رہے تھے…… خود گھروالے، اپنا گھر عزت کے ساتھ چلانے کے لیے خلیجی ریاستوں میں بے عزت ہو رہے تھے۔
’’وہ اس کی انگلیوں میں اُنگلیاں ڈال کر اُس کے بازو پھیلاکے اُسے بستر پر مصلوب کر دیتا ہے۔ نہیں۔ وہ اس کے جسم کو چیر دیتا ہے۔ نہیں…… اور دن بھر کا جمع شد تناؤ، تشنج کی صورت میں اس کے گھاؤ میں اُتار دیتا ہے۔ گھاؤ میں مرچیں، چنگاریاں بھر دیتا ہے۔ نہیں نہیں نہیں۔ زبان، ہاں کا سانچہ۔ اُڑی اُڑی رنگت، میلی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، چہرے پر خوف کا سایہ۔ دمکتا گلنار چہرہ، ابرو محرابیں جن میں روشن چراغوں پر جھکی لانبی گھنی بھیگی بھیگی پلکیں، نازک ہونٹ، ناک میں پڑی تیلی بہت بھلی لگتی ہے۔ نہیں۔ وہ مڑتی ہے۔ گم شدہ بچے والی گھایل شیرنی کی طرح جھپٹنے کے لیے پلٹتی ہے، لیکن وہاں کوئی نہیں۔‘‘
اس ناولٹ کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے قاری کو جتنا ذہین اور فراخ دل ہونا چاہیے، فی زمانہ ایسی توقع رکھنا بیکار ہے۔ اس علامتی اور مزاحمتی ناولٹ میں کہیں کہیں وہ نثری ٹکڑے بھی آجاتے ہیں جنہیں تھوڑا بہت قاری سمجھ سکتا ہے۔
’’وہ رات کی تاریکی سے، سنہرے پانی کلر رنگے بالوں، گہرے میک اَپ اور مصنوعی پلکوں والی حسینہ کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنی چارپائی پر اُتارتا ہے جس کی بانہیں سڈول، سینہ چھتیس انچ، کمرساڑھے چوبیس انچ، کولہے پینتیس انچ ہیں، جس کی ناف میں چکر ہے اور جس کے ساتھ وہ ایک مدت سے بغل گیر ہونا چاہتا ہے۔ وہ ساری رات اس کے ساتھ چمٹ کر، چومتا چاٹنا، جسم کی کپکپی کو آہوں سراہوں میں بہاتا اپنی بیوی کے قتل کا سوگ مناتا ہے۔‘‘
اس ناولٹ میں لفاظی اور علامتی انداز کی توبھر مار ہے…… مگر روایتی کہانی کا کہیں نام و نشان تک نہیں جس سے قارئین کی اکثریت اُنسیت اور شغف رکھتی ہے۔ ایسی تحریریں دو چار قریبی دوستوں کے محفلِ مے نوشی میں تو بھرپور داد سمیٹ سکتی ہیں…… مگر عام قاری کو ان تحریروں سے کوئی علاقہ نہیں۔
’’وہ امریکی کا کا۔ رسالے کو پھاڑ کر چولہے میں جھونکتی ہے۔ آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ سیکریچ آؤل کا خاکہ چولہے سے باہر رہ جاتا ہے۔ وہ مسکراتی ہے۔
اگر ان چھاتیوں میں دودھ ہوتا، تو یہ مری ہوئی چھپکلیوں کی بجائے دو گڑھکتی ہوئی کبوتریاں ہوتیں۔ اور، تب وہ ماں ہوتی، جوان، خوب صورت، نکھرا نکھرا بدن، اور اس وقت توڑی کے ڈھیر کی اوٹ میں بیٹھی ہے گل گو تھنے بچے کے منھ میں چوچی دے کر، گود میں لیے اپنی چھاتیوں میں گرم سی اتری دھوپ ہلا رہی ہوتی۔ لیکن وہ ماں نہیں ماں نہیں بن سکی، بن سکتی نہیں۔‘‘
اس ناولٹ کے کسی کردار کا کوئی نام نہیں۔ سب کے سب وقت کی پکار بن چکے ہیں…… جو اپنے درد کا نوحہ ہیں۔ بے ثمر ہیں۔ بے معنویت میں گھرے ہوئے۔
اس ناولٹ کا اسلوب علامتی اور مزاحمتی ادب سے تعلق رکھتا ہے جو عام قاری کو تھکا دینے والا ہے۔ قاری زیادہ تر تحریریں ذہنی سکون کے لیے پڑھتا ہے۔ عام قاری کے لیے اس ناولٹ میں کچھ نہیں۔ اس میں شعور کی رو والی تکنیک کا بھی جابجا استعمال ہوا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔