42 total views, 5 views today

’’چین کی طرزِ حکم رانی‘‘ چینی صدر جناب ’’شی چن پنگ‘‘ کی نومبر 2012ء سے لے کر 13 جون 2014ء تک اہم تقریروں، مباحثوں، انٹرویوز، ہدایات اور خط و کتابت پر مشتمل کتاب "The Governance of China” کا اُردو ترجمہ ہے۔ کتاب میں شامل 79 مضامین کو 18 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔
سرِ دست کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
٭ماؤزے تنگ تھاٹ کی پائیدار روح کو آگے بڑھائیں:۔ ماؤزے تنگ تھاٹ کی پائیدار روح سے مراد اس فکر میں پیش کیا گیا موقف، نقطہ نظر اور طریقہ ہیں۔ یہ پائیدار روح تین بنیادی اصولوں یعنی حقایق سے سچ کی تلاش، عوامی راہِ عمل اور آزادی وخودمختاری پر مشتمل ہے۔ نئے حالات میں ہمیں اپنی پارٹی کی تعمیر اور چینی خصوصیات کی حامل اشتراکیت کے عظیم مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ماؤزے تنگ تھاٹ کی پائیدار روح سے وابستہ رہنا اور اس کا نفاذ کرنا چاہیے۔
مارکسزم کے بنیادی اصول کے طور پر حقایق سے سچ کی تلاش چینی کمیونسٹوں کے لیے دنیا کو سمجھنے اور تبدیل کرنے کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ہماری پارٹی کی بنیادی سوچ، کام اور قیادت کے بنیادی طریقے ہیں۔ ہمیں اس اصول سے وابستہ رہنا چاہیے کہ ہم جو بھی کریں، اس کی بنیاد حقیقت پر ہو۔ نظریے کو عمل سے جوڑیں اور سچ کو عمل کے ذریعے آزمائیں اور آگے بڑھائیں۔
ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ ’’حقایق‘‘ معروضی طور پر موجود تمام اشیا ہیں، ’’سچ‘‘ ان کے درمیانی رشتوں یعنی انہیں چلانے والے قوانین کا نام ہے، اور ’’تلاش‘‘ کا مطلب مطالعہ ہے۔ انہوں نے تیر کو نشانے پہ لگانے کا استعارہ بھی استعمال کیا تھا یعنی ہمیں مارکسزم کے تیر کو چینی انقلاب، تجدیداور اصلاح کے نشانے پہ لگانا چاہیے۔
حقایق سے سچ کی تلاش کے لیے ہمیں معاملے کی گہرائی میں جا کر اس کی اصلیت سمجھنا چاہیے۔ معاملے کی سطح سے گزر کر اس کی تہ تک پہنچنا چاہیے اور بکھرے ہوئے مظاہر کے درمیان موجود معاملے کے پیچیدہ ربط کو دریافت کرنا چاہیے۔
ہمیں معاملے کے وجود اور اس کے ترقیاتی قوانین کو سمجھنے کی بنا پر معروضی قوانین کی پیروی کرنی چاہیے۔ حقایق سے سچ کی تلاش کے اصول سے وابستگی کو قطعی طور پر ایک مرتبہ لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اس اصول کی پیروی کرتے ہوئے کسی ایک جگہ اور کسی ایک وقت میں کامیاب ہوجائیں…… لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس اصول کی پیروی کرتے ہوئے آپ کسی اور جگہ اور کسی اور وقت میں بھی کامیاب ہی ہوں گے۔ ایک جگہ اور ایک وقت سے حاصل کیا گیا نتیجہ یا تجربہ کسی دوسری جگہ اور دوسرے وقت پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں شعوری طور پر حقایق سے سچ کی تلاش کے اپنے عقیدے کو مضبوط بنانا چاہیے اور اسے لاگو کرنے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ اصول ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے اور اپنے کام پر اس کا نفاذ کرنا چاہیے۔
دراصل حقایق سے سچ کی تلاش کا مطلب یہی ہے کہ ہم واضح طور پر اپنی بنیادی قومی صورتِ حال کو سمجھیں اور وہ یہ ہے کہ ہمارا ملک اشتراکیت کے ابتدائی مرحلے میں ہے اور آیندہ لمبے عرصے تک یہ اسی مرحلے میں رہے گا۔ اصلاح اور ترقی کو بڑھاتے اور اصول اور پالیسیاں بناتے ہوئے ہمیں اپنی بنیادی قومی صورتِ حال کی روشنی میں سب کچھ کرنا چاہیے۔ معروضی حالات اور وقت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے جلد حاصل ہونے والی کامیابی سے گریز کرنا چاہیے اور حقیقت سے بُعد رکھنے والے یا حقیقت کی بنیادی تبدیلیوں سے غافل فرسودہ یا خوش کن تصورات اور امور کو بلااستثنا درست کرنا چاہیے۔
حقایق سے سچ کی تلاش کرتے ہوئے ہمیں ہمیشہ عوام کے مفاد کے لیے سچ سے وابستہ رہنا چاہیے اور غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہیے۔ ہمیں راست باز، بے لوث اور نڈر ہونا چاہیے۔ جرات مندی سے حقایق پر مبنی سچ بولنا چاہیے۔ فیصلہ سازی اور دوسرے معاملات میں ہونے والی نظریاتی گم راہیوں اور غلطیوں کو بروقت دریافت کر کے ان کی تصحیح کرنی چاہیے…… جیسے ہی وہ ظاہر ہوں اور ہر طرح کے تنازعات اور مسایل کے سامنے آنے پر انہیں بروقت حل کرنا چاہیے، تاکہ ہمارے نظریات اور اعمال معروضی قوانین، وقت کے تقاضوں اور عوام کی امنگوں کے مطابق ہوں۔ (بہ شکریہ جمہوری پبلی کیشنز)
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔