اس ناولٹ ’’وفا کی قیمت‘‘ (1984ء) کا آغاز بھی پُرتجسس اور سنسنی خیز انداز میں ہوتا ہے جو رحمان مذنب کا اُسلوبِ خاص ہے۔ نواب اسداللہ کے مخالف اُس پر علانیہ اور درپردہ ہر طریقے سے حملہ آور ہیں۔ اُسے گولی لگتی ہے۔ اُس کی کنیزیں مرہم پٹی تو کرتی ہیں مگر وہ پیشہ ور نرس نہیں۔ اس لیے اُس کا زخم خراب کر دیتی ہیں۔ اتفاقیہ طور پر نواب کی والدہ اپنی ایک کنیز رخشندہ اُس کے کمرے میں بھیجتی ہے…… جو تھرڈ ایئر تک پڑھی ہوئی ہے۔ اُس کی پٹی سے نواب بہتر محسوس کرتا ہے۔ نواب تنہائی اور مایوسی کا شکار ہے اور ایک تصویر سے باتیں کرتا رہتا ہے جس پر روزانہ تازہ پھول چڑھائے جاتے ہیں جو گل بدن (جہاں آرا خاتون) کی ہے۔
رحمان مذنب ہمیں کوٹھے کے طرح طرح کے مناظر تو بڑی خوبی سے دکھاتے ہی رہے ہیں مگر اس ناولٹ میں وہ ایک نواب کے محل کا منظر بڑی جزیات کے ساتھ دکھا رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ واپڈا ملازم نہیں کسی نواب کے منتظمِ خاص بھی رہ چکے ہیں۔ منظر نامہ قاری کو حیران کر دیتا ہے۔ ایسی پُرشکوہ زبان روز روز پڑھنے کو کہاں ملتی ہے۔
’’یہ بھوکی مفلس، فاقوں کی ماری لڑکی کھانے میں بھی شرما رہی تھی اور گِن گِن کے لقمے اُٹھا رہی تھی۔ جب تک نواب نے بریانی کی پلیٹ صاف کی، رخشندہ نے صرف ایک چپاتی ہی کھائی لیکن بڑے سلیقے سے۔ سالن کی پلیٹ یوں چمک رہی تھی جیسے کسی نے اس میں کچھ کھایا ہی نہیں۔ نواب اُسے بڑی دلچسپی سے دیکھتا رہا۔ اُس کے شرمیلے پن اور شرافت میں بڑی کشش تھی۔ وہ ایک باوقار لڑکی تھی۔
اُس نے سوچا کہ بھوک اور فاقہ کشی کسی کو جرم اور گناہ کی ڈگر پر ڈال دیتی ہے، کسی کو خوددار اور سیر چشم بنا دیتی ہے۔‘‘
رخشندہ، نواب کی زندگی میں ایسے وقت آئی جب وہ ٹوٹا ہوا تھا۔ اُسے رخشندہ بھلی لگنے لگی اور جو اچھا لگنے لگے…… اُس کی ہر چیز بلا جواز بھی اچھی لگنے لگتی ہے۔ یہی معاملہ نواب کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ رخشندہ کا بنایا ہوا کیک اُسے بہت پسند آتا ہے اور اُس کی ہر ادا اُسے اچھی لگنے لگتی ہے۔
’’اتنے میں ڈاکٹر آگیا۔ نواب نے تصویر سے توجہ ہٹائی۔ ڈاکٹر نے نواب کے چہرے پر بشاشت دیکھی اور کچھ دور رخشندہ کو چائے پیتے دیکھا۔ بولا: ’’لڑکی نمکین ہے!‘‘ نواب نے بڑے زور کا قہقہہ لگایا اور کہا: ’’ڈاکٹر! مَیں نمک، بہت ہی کم کھاتا ہوں۔ تم نے کہا تھا زیادہ نمک کھانے سے دماغی فالج ہو جاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہی کہا تھا مَیں نے…… لیکن لڑکی کھانے سے تو منع نہیں کیا تھا۔‘‘
یہ اقتباس بتاتا ہے کہ غریب اور مجبور لوگوں کو دنیا کی کیسی کیسی باتیں سننی اور برداشت کرنی پڑتی ہیں…… مگر نواب دیگر نوابوں جیسا عیاش اور گھٹیا مذاق رکھنے والا نہیں۔ وہ ابھی تک اپنی مرحومہ بیوی کا غم دل سے لگائے ہوئے ہے۔ ورنہ ہوس پرست ہوتا، تو اُسے کاندھا دینے کئی لڑکیاں آجاتیں اور اُس کے آنسوؤں سے غسل کرتیں…… مگر نہ اُس نے ایسا چاہا نہ ایسا ہوا۔ نواب کی ماں بھی غیرت مند پٹھانی تھی جس کے ہوتے ہوئے نواب بھٹک نہیں سکتا تھا۔
’’اُسے بیوی بے نظیر ملی اور ریاست بھی بے نظیر ملی۔ ریاست تاراپور میں ایسے چشمے تھے جن کے پانی میں معدنیات تھیں۔ اُن کا پانی پی کر لوگ تن درست ہو جاتے۔ موسمِ بہار میں یہاں میلہ لگا رہتا۔ وہ ایک لحظے کے لیے بھی اپنی پیاری بیوی سے جُدا نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ بیوی کے ہم راہ چشموں کی سیر کو نکلا، اُسے کار تیز چلانے کی عادت تھی۔ بدقسمتی سے ایک جگہ اچانک سؤر سڑک پر آگئے۔ نواب نے کار کاٹی لیکن کنٹرول نہ رہا۔ کار پیڑ سے ٹکرائی۔ بیگم کے سر میں سخت چوٹ آئی۔ وہیں اللہ کو پیاری ہوئی…… اور قدِ آدم تصویر کے روپ میں محفوظ رہ گئی۔‘‘
ناولٹ میں اچانک ایک اور نئی کہانی داخل ہو جاتی ہے۔ لندن سے نواب کا دوست شہاب آتا ہے…… وہ اُسے اُس کے بھائی گل زمان کی باتیں بتاتا ہے کہ وہ کس طرح لندن میں عیش، عشرت میں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ اُس کے پیچھے گیان چند مہاجن نے اپنی لڑکی رجنی لگا دی ہے۔ گیان چند مہاجن کو ریاست تاراپور سے اُس کی غلط حرکتوں کے باعث نکالا گیا، تو وہ لندن چلا گیا۔ جہاں وہ نواب کے چھوٹے بھائی گُل زمان سے میٹھی چھڑی بن کر میٹھا انتقام لے رہا تھا۔ گل زمان اگر جوا ہار رہا ہو، تو وہاں رجنی اپنا پرس کھول دیتی ہے۔
نواب اپنے چھوٹے بھائی گُل زمان کو صراطِ مستقیم پر لانے کے لیے شہاب کے ذریعے لندن سے بلواتا ہے۔ گُل زمان کو نیٹ پریکٹس کے لیے پہلے ہاؤس کیپر کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ پھر اُسے ایک تقریب میں مسز شہلا یوسف سے متعارف کروایا جاتا ہے جو سیٹھ یوسف بمبئی والا کی مال دار…… مگر کم سن بیوہ ہے۔ گُل زمان ہوس پرست عاشق یعنی بھونرا ہے۔ شہلا کے لیے بچوں کی طرح مچلنے، تڑپنے لگتا ہے۔ مادام شہلا، گُل زمان سے قریب اور قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔
دوسری طرف نواب صاحب، رخشندہ کے بھائی کا علاج کروا رہے ہیں اور وہ تیزی سے ’’ٹی بی‘‘ جیسی بیماری سے نجات پا رہا ہے۔
گُل زمان، شہلا کو یہ بتا کر حیران کر دیتا ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کو مار کر ریاست پر قبضہ کرنے لگا ہے۔ دن زیادہ دور نہیں۔ اگلے دن کی بات ہے۔ نواب اور والدہ محترمہ کو مارنے کی پلاننگ کامل ہے۔ 20 ہزار میں معاملہ طے پاگیا ہے۔ محل میں ایک ناٹک منڈلی آئے گی۔ ناٹک ہو گا…… اور ایک منظر میں ولن ڈرامے کے ہیرو کو نشانہ بناتے بناتے نواب کی طرف رُخ کر کے اُسے دوسرے جہاں پہنچا دے گا۔
گُل زمان کو پتا نہیں کہ شہلا بیگم اصل میں رخشندہ ہی ہے…… جو نواب کی زیرِ ہدایات اُس کی جاسوسی پر مقرر کی گئی ہے۔ وہ نواب کے قتل کرنے کا ڈراما فلاپ کروا دیتی ہے۔ باغی مارے جاتے ہیں۔ گُل زمان غایب ہو جاتا ہے…… مگر یہ دلچسپ کہانی یہاں ختم کہاں ہوتی ہے۔ اس ناولٹ کو لکھنے والا ڈراما نگار رہا ہے۔ ریڈیو رائٹر رہا ہے۔ ٹی وی رائٹر رہا ہے۔ بہت سے علوم و فنون اُس کے پیکر میں یکجا ہو کر سانس لے رہے ہیں۔ وہ اُردو کہانی کے اُس سنہرے دور سے تعلق رکھتا ہے جب اُس پر علامتی کہانی والے آسیب اور نحواست کا سایہ نہیں پڑا تھا۔ ابھی افسانے کا قاری سر پر پاؤں رکھ کر نہیں بھاگا تھا۔ رحمان مذنب کو لفظوں کے جھوٹے توتے مینا بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ کردار، واقعات، منظر نامہ، جملے تخلیق کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ اگر وہ داستان گو ہوتا، تو تمام رات اُن کی کہانی سنتے سنتے گزاری جا سکتی تھی۔ ناولٹ ختم ہونے کو ہے مگر ہمارا دل چاہتا ہے کہ کہانی ختم نہ ہو۔ جاری رہے۔ ’’اسی آن پی اے کو بلوایا گیا اور اُسے کہا گیا کہ جلد امیر خان باغی کی فائل کا مطالعہ کرے او راس کے بارے میں نوٹ Put up کرے۔ پی اے نے پرانا ریکارڈ تلاشا او رفائل نکال کر اُس کا اچھی طرح مطالعہ کیا۔ پی اے نے اپنے نوٹ میں لکھا : ’’دیوان امیر خان سرکار کا وفادار تھا۔ وہ ہر معاملے میں بے حد چوکس رہتا۔ نواب صاحب مرحوم اُس پر پورا پورا بھروسا کرتے۔ اُس کے کام کو سراہتے اور وقتاً فوقتاً انعام دیتے۔ حاسدوں نے ایک خونی جماعت تیار کی جس کا کام نواب صاحب مرحوم کو ٹھکانے لگانا اور امیر خان کو سازش کا سرغنہ قرار دینا تھا۔ اُن کی سازش ناکام رہی لیکن نواب صاحب مرحوم کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ امیر خان غدار تھا۔ اُسے بندی خانے میں ڈال دیا گیا، جہاں سے وہ بعد ازاں فرار ہوگیا۔ اُس نے عدالت کا فیصلہ بھی نہ سنا اور صفائی بھی پیش نہ کی۔ داروغۂ جیل نے اُسے فرار ہونے میں مدد دی۔ نواب اسداللہ خان نے یہ نوٹ پڑھا اور امی حضو ر کے آگے رکھ دیا۔ انہوں نے طے کیا کہ نواب بہ نفسِ نفیس رخشندہ کے گھر جائے اور صورت حال سے آگاہ کرے۔‘‘
رخشندہ کی وفاداری کی بدولت اُس کے مرحوم باپ کی خطائیں بھی معاف ہو جاتی ہیں اور وہ رخشندہ سے ’’علیہ حضرت رخشندہ بیگم‘‘ بن جاتی ہے۔ محل میں لگی تصویر تبدیل ہو جاتی ہے۔ نواب اپنی مرحومہ بیوی جہاں آرا بیگم عرف گل بدن کو بھول کر دوبارہ نئی زندگی شروع کرتا ہے۔ اُسے نئی زندگی کی طرف لانے والی صرف اور صرف رخشندہ ہے۔
اس ناولٹ کا اسلوبیاتی مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ رحمان مذنب ہر طرح کی کہانی لکھنے پر قادر ہیں۔ اُن کا مواد تاریخ سے اخذ ہوتا ہے…… مگر وہ اُسے اپنے اسلوب کے ساتھ اپنا بنا لیتے ہیں۔ یہ مہارت اور برکت ہر ادیب کو نصیب نہیں ہوتی۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔