52 total views, 2 views today

"The Face of Judas Iscariot”
مترجم: نجمی صدیقی 
انتخاب: احمد بلال
یہ کہانی مجھے ایک پادری نے سنائی تھی۔ اب تک مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو اس کی اصلیت کے متعلق واضح طور پر کچھ بتا سکے۔
کئی سال گزرے ایک عظیم آرٹسٹ سسلی کے شہر میں ایک گرجے کی میورل پینٹ کر رہا تھا۔ ’’حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ تصویر کا موضوع تھا۔ دن رات کی مسلسل محنت کے بعد تصویر نے کچھ شکل اختیار کی…… مگر اس کی تکمیل کے لیے ابھی دو چہروں کی ضرورت تھی…… جن کا عکس اس کے ذہن کی گہرائیوں میں تو موجود تھا…… مگر اسے دیوار پر اتارنے میں وہ کئی بار ناکام ہو چکا تھا۔ نہایت مایوسی کے عالم میں ایک دن وہ شہر کے ایک پرانے حصے سے گزر رہا تھا۔ اس کی نظر کچھ بچوں پر پڑی جو گلی میں کھیل رہے تھے۔ ایک لڑکے کے چہرے کی پاکیزگی اور معصومیت نے مصور کے دامنِ دل کو اپنی طرف کھینچا۔ فرشتوں جیسا چہرہ، میلا کچیلا مگر یہی چہرہ وہ چہرہ تھا جس کی اُسے تلاش تھی۔
مصور اُسے ساتھ لے آیا۔ وہ لڑکا بہت دنوں تک نہایت صبر کے ساتھ مصور کے لیے ماڈل بن کر بیٹھتا رہا۔ آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بچپن کی شبیہ اپنی تمام تر پاکیزگی اور معصومیت کے ساتھ چرچ کی دیوار پر مکمل طور پر اُبھر آئی۔ اس طرح مصور کے شاہکار کے ایک پہلو کی تکمیل ہوگئی…… مگر ابھی اسے ایک ایسے چہرے کی ضرورت تھی جو ’’یہودہ اسکریوتی‘‘ کے ماڈل کا کام دے سکے۔ وہ کئی برس تک تلاش میں سرگرداں رہا۔ اب مصور بوڑھا ہوچکا تھا…… مگر اس کی تصویر ابھی تک ادھوری تھی۔ اس کے دل میں یہ خوف دن بہ دن بڑھنے لگا کہ شاید اُس کی ماسٹر پیس تصویر کبھی مکمل نہیں ہو سکے گی۔ اُس کی ناتمام تصویر کی کہانی دور دور تک پھیل گئی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو مصور کے سامنے یہودہ کے ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ اُن کا خیال تھا کہ اُن کے چہرے جرایم پیشہ لوگوں سے مشابہ ہیں۔ کم و بیش ہر برائی اُن کے چہرے پر لکھی ہوئی صاف نظر آتی تھی…… مگر اِن تمام چہروں میں کسی سے بھی مصور جو یہودہ کے خط و خال کی جھلک نہ دکھائی دی۔ اُسے تو ایک ایسے چہرے کی تلاش تھی جس کا آئیڈیل اُس کے ذہن کے پردے پر پہلے سے موجود تھا۔ یہودہ کا آئیڈیل…… ایک زندہ انسان کا آئیڈیل! جسے لالچ اور بے راہروی نے مسخ کر دیا ہو۔
ایک شام مصور پب میں بیٹھا اپنا پسندیدہ مشروب پی رہا تھا۔ اچانک چیخ کے ساتھ ایک تنومند مگر خستہ حال شخص لڑکھڑا کر اُسی کمرے کی دہلیز پر گرا جس میں وہ سستا رہا تھا۔ ’’وائن…… وائن…… وائن……!‘‘ وہ پکار رہا تھا۔ مصور بجلی کی سی تیزی سے اُس کی طرف بڑھا۔ لمبے بالوں سے پکڑا کر اس کے منھ کو اوپر اُٹھایا اور اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ بوڑھے مصور کے چہرے پر مَسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اُسے طویل مدت کے بعد یہودا کا ماڈل مل گیا تھا۔
مصور نے اُسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دی۔ ’’میرے ساتھ چلو…… میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا…… کپڑے پہناؤں گا…… اور شراب سے سیراب کر دوں گا……!‘‘
دوسرے دن یہودا کا ماڈل اُس کے سامنے بیٹھا تھا۔ مصور اپنے ناتمام ماسٹر پیس کی تکمیل میں محو تھا۔ وہ ماڈل کے ایک ایک نقش کو بار بار دیکھتا تھا اور کمال احتیاط سے اُسے دیوار کی سطح پر اُتار رہا تھا۔ تصویر روز بہ روز اجاگر ہوتی جا رہی تھی…… مگر جوں جوں تصویر کے خط و خال نمایاں ہو رہے تھے…… ماڈل کے تن بدن میں ایک عجیب سی تبدیلی نظر آنے لگی تھی۔ پہلے سی بے رغبتی اور بے توجہی کی جگہ اب ماڈل کے رگ و ریشہ میں خلاف معمول ایک تناؤ پیدا ہو رہا تھا۔
ایک دن ماڈل کی تھکی تھکی سرخ آنکھیں اُس کے سامنے دیوار پر گیلی تصویر پر جمی ہوئی تھیں۔ مصور نے ماڈل کے چہرے پر گھبراہٹ اور بے چینی کے آثار کو پڑھ لیا۔ اُس نے برش کو احتیاط سے رنگ میں لتھڑی ہوئی پیالی میں چھوڑتے ہوئے ماڈل سے اُس کی پریشانی کی وجہ پوچھی۔ وہ رو پڑا اور روہانسے چہرے کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں چھپا لیا۔ کچھ دیر بعد ماڈل نے سر اُٹھایا اور آنسوؤں میں ڈبڈبائی آنکھیں بوڑھے مصور کے چہرے پر گاڑ دیں۔ ’’کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟‘‘ ماڈل نے مصور سے کہا۔ ’’آپ کئی سال پہلے مجھے عیسیٰ علیہ السلام کے روپ میں پینٹ کر چکے ہیں……!‘‘
بوڑھے مصور کے زرد چہرے پر ٹھنڈے پسینے کے باریک قطروں کی کہکشاں اُبھری اور اُس کی نگاہ دور آسمان کی گہری نیلاہٹوں میں گم ہوگئی۔
نوٹ: یہودہ اسکریوتی کا ذکر متی کی انجیل میں آتا ہے۔ وہ یسوع مسیح کے 12 شاگردوں میں تھا۔ اس نے 30 سنہری سکوں کے عوض یسوع کو سردار کاہنوں کے حوالے کر دیا تھا…… مگر جب اُس نے دیکھا کہ یسوع کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے، تو وہ پچھتایا اور روپوں کو پھینک کر چلا گیا اور جاکر اپنے آپ کو پھانسی دے دی۔
(حوالہ:۔ اکادمی ادبیات بین الاقوامی ادب جلد 1)
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔