تحریر: ناصر عباس نیر
ممتاز جرمن-امریکی ماہرِ نفسیات ’’ایرخ فرام‘‘ (Erich Fromm) سے ہم اُردو والے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کی کتابیں آزادی سے فرار، صحت مند معاشرہ، محبت کرنے کا فن، آدمی اپنے لیے، آدمی کی فطرت، تحلیلِ نفسی اور مذہب، بھولی بسری زبان: خوابوں، حکایتوں اور اساطیر کی تفہیم وغیرہ سے اکثر قارئین واقف ہیں۔
معاصرمغربی دنیا…… اور اس کے اثرسے باقی دنیا جس رُخ پر چل رہی ہے، اس سے متعلق بنیادی باتیں فرام نے گذشتہ صدی کے دوسرے نصف کے آغاز میں لکھ دی تھیں۔ اس کے علم کی وسعت و تنوع اور تجزیاتی بصیرت حیرت انگیز ہیں۔ اس نے ’’آدمی اپنے لیے: اخلاقیات کی تحلیل نفسی کی تفتیش‘‘ میں ’’استبدای ضمیر‘‘(Authoritarian Conscience) کا تصور پیش کیا ہے جو ہمیں آج کی صورتِ حال کے کچھ پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ اسے انفرادی ضمیر کے مقابل واضح کرتے ہیں۔ انفرادی ضمیر کسی شخص کی وہ باطنی اخلا قی حس ہے، جو صحیح اور غلط میں تمیز کرتی ہے…… اورجس کے سامنے وہ خود کو جواب دہ تصور کرتا ہے۔ انفرادی ضمیر کا حامل ہونے کا مطلب، ایک طرح سے خود کو مسلسل خدا کے آگے جواب دہ محسوس کرنا ہے۔ کسی غیر اخلاقی عمل ہی نہیں، کسی غیر اخلاقی خیال پر بھی انفرادی ضمیر آدمی کو پہلے اشارے سے منع کرتا ہے…… پھر ٹوکتا ہے…… پھر گرجنے برسنے لگتا ہے اور اگر پھر بھی کوئی شخص باز نہ آئے، تو باقاعدہ کوڑا اٹھا لیتا ہے۔
میرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے
تو دوست ہے، تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
یہ الگ بات ہے کہ جو اس کی پروا چھوڑ دیتے ہیں، انھیں یہ بھی ایک دن خدا حافظ کہہ دیتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اسے خاموش رکھنے کے طریقے ایجادکرلیتے ہیں۔ یہی نہیں، وہ اسے اپنا ہم نوا بھی بنالیتے ہیں اور کچھ اس سے آگے بڑھ کر دنیا کو بھی اپنے مجرمانہ فعل کو معصومانہ تسلیم کروانے میں بھی بامراد ٹھہرتے ہیں۔ وہی ضمیر جو پہلے کچوکے لگاتا یا کوڑے مارتا تھا، اب صرف تماشا دیکھتا ہے۔ کچھ محض ممنوعہ، خفیہ لذتوں کے لیے اس کی زبان بندی کرتے ہیں اور کچھ دنیا کمانے کے لیے اسے بازار میں باقاعدہ فروخت کرتے ہیں؛ کچھ تو ایک سے زیادہ بار فروخت کرتے ہیں۔ کچھ بار بار کرتے ہیں۔ ہر بار پہلے سے زیادہ قیمت ملتی ہے۔
انفرادی ضمیر کے مقابلے میں ’’استبدادی ضمیر‘‘ چیزے دیگر ہے۔ بسااوقات آدمی اپنے زمانے یا تاریخ کی کسی مقتدرہستی، علامت یا آدرش کو اپنی نفسی دنیا میں پوری طرح حل کرلیتاہے۔ وہ اپنا آپ یعنی اپنا دل، دماغ، تخیل اس کے آگے ہار دیتا ہے۔ پھر وہ خود نہیں سوچتا، خود نہیں محسوس کرتا، خود کسی کو خیال میں نہیں لاتا، خود کسی شے کی آرزو نہیں کرتا، خود کسی کے خلاف ہم دردی یا دشمنی کے جذبات پیدا نہیں کرتا…… بلکہ نہایت غیر محسوس انداز میں یہ ’’استبدادی ضمیر‘‘ آدمی کی ہستی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے…… اور اس سے سب طرح کے فیصلے کرواتا ہے۔ اس میں اخلاقی فیصلے بھی شامل ہیں۔ اس کے لیے خیر وہی ہے، جو اس کے ضمیر میں براجمان ہیرو کے لیے خیر ہے…… اور شر وہی ہے جس کی تعریف وہی ہیرو کرتا ہے۔ آدمی اپنی زندگی میں شاید ہی اس مقتدر شخص سے ملے، جس کے آگے وہ اپنی پوری ہستی ہار دیتا ہے…… مگر وہ اسی کی نظر سے دنیا کے ایک ایک واقعے، ایک ایک شخص اور تاریخ کے پورے عمل کو دیکھتا ہے۔ وہ اس کے لیے اپنے عزیز رشتوں سے لے کر اپنی جان تک قربان کرنے پر تیار رہتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ اس کے ہیرو تک اس کی خبر تک نہیں پہنچے گی۔ بہ قولِ داغؔ:
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
ہیں جہاں سو ہزار، ہم بھی ہیں
’’ایرخ فرام‘‘ نے اس کے اسباب پر بحث کی ہے۔ اس کے نزدیک استبدادی ضمیر آدمی کے اندر اس لیے جگہ بنانے میں کامیاب ہوتاہے کہ آدمی آدرش پسند ہے، وہ کسی بڑے آدرش کے لیے دل میں تحسین کے گہرے جذبات رکھتا ہے، لیکن یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اسے خود، اکیلے کیسے حاصل کرے؟ ایک بڑے آدرش کے ساتھ، ایک شخصی، بشری کم زوری کا احساس عام طور پر وابستہ ہوتا ہے۔ یہ آدرش سیاسی، سماجی، اخلاقی اور روحانی ہوسکتا ہے۔ پھر یہی آدرش آدمی میں کاملیت کی جستجو پیدا کرتا ہے۔
ہم عام طور پر کاملیت کاایک ایسا تصور رکھتے ہیں جو ہم سے ہماری ذات سے کہیں بڑا اور وسیع ہو…… اس لیے ہم خود سے’’باہر‘‘ خود سے بڑا، عظیم شخص تلاش کرتے ہیں اور پھر اس کے آگے اپنا سب ہار دیتے ہیں…… لیکن یہ حقیقی، گوشت پوست کے شخص سے زیادہ ایک ’’اعلا ترین صفات کا مجموعہ یاعلامت‘‘ ہوتا ہے، جس کی تعمیر میں سماج کی کئی قوتیں کام کررہی ہوتی ہیں…… جو خود کو پس منظر میں رکھنے کا اہتمام کرتی ہیں۔ ہم اس مقتدر شخص کے لیے تحسین کے نہایت گہرے اور اعلا ترین جذبات ہی نہیں رکھتے…… اس کے دفاع کے لیے ہر پل مورچہ بند بھی رہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ہمارا ہی نہیں پوری دنیا کا ’’حتمی نجات دہندہ‘‘ ہے۔
ایرخ فرام یہ بھی کہتا ہے کہ یہ یقین اس وقت بھی نہیں ٹوٹتا جب حقیقی تجربات، ہمارے محبوب طاقت ور شخص سے متعلق ہمارے تصورات کی صریحا ً نفی کرتے ہوں۔ہما رے دلوں، روحوں، ذہنوں اور تخیل میں آسیب کی طرح موجود شخصیات، ہمیں حقیقی دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے ہی نہیں دیتیں، اور اسی سبب سے ہمارے مصایب ختم ہونے میں نہیں آتے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔