53 total views, 1 views today

بے شک من پسند موضوع پر کتاب کا تحفہ اور وہ بھی صاحبِ کتاب کے دستِ مبارک سے میسر ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ہم شکر گزار ہیں مرشد پاک کوہ نورداں اور پہاڑ گرداں سر محمد عبدہ، کوہ نوردوں کے مہا گرو ڈاکٹر محمد احسن اختر، گرین ہارٹ فیصل آباد کی ٹیم، بورے والا ٹریکرز کے ناخداؤں محترم ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب، میاں خالد حسین صاحب، ہر دل عزیز میاں صابر حسین اور ان کی پوری ٹیم کے جن کی محبتوں سے یہ اَن مول تحفہ میرا مقدر ٹھہرا۔
شدت سے اس عہد ساز کتاب کا انتظار تھا، جیسے ہی میسر ہوئی…… پہلی فرصت میں ورق گردانی کرتے کرتے 133 صفحات پڑھ ڈالے۔ دوسری نشست میں 13 مزید صفحات سے حظ اٹھایا اور پھر تیسری نشست میں آخری صفحے تک کتابیات تک پڑھے بغیر چین نصیب نہ ہوا۔ میرے نزدیک کتاب کو آخری صفحے تک پڑھے بغیر تبصرہ کرنا کفرانِ نعمت تھا۔
بے شک مصنف نے منج کی رسی میں موتی پرو دیے ہیں۔ نادر و نایاب معلومات کے مخزنِ بے کراں سے بھرپور ہے۔
کتاب کا آغاز پہاڑوں کے متعلق آیتِ کریمہ سے کیا گیا ہے۔ انتساب یکتا، پہاڑوں کی ہیئت و ساخت، قرآن و سائنس کی روشنی میں، شمالی پہاڑی سلسلوں کی نایاب معلومات، دریاؤں کی تہذیب پروری، منبعوں اور راہ گزاروں کے ذکرِ خیر سے لے کر پاکستان اور دنیا کی 8 ہزار میٹر سے بلند تمام چوٹیوں کا تعارف، پاکستان کی 7 ہزار میٹر سے بلند تمام تر چوٹیوں کے نام اور تفصیلات اس کتاب میں انتہائی دلچسپی کا ساماں مہیا کرتے ہیں۔ ان میں سے چند چوٹیوں کے نام تفریحِ طبع کے لیے بطورِ حوالہ ذیل میں درج کیے دیتا ہوں:
ٹریور، نوشاق، مالو بتنگ، استورونل، بوجاہا گردوانا سر، شن جیک زوم، اوگرے، شاکاوار، لینگار، سنگِ مر مر وغیرہ۔
واللہ! جغرافیہ کے طالب علم ہونے کے باوجود ان بہت سی چوٹیوں کے دل کش نام پہلی دفعہ نظر سے گزرے ہیں۔ ان میں سے وہ چوٹیاں جن کا غرور دلیر و جری سر پھروں نے خاک میں ملا دیا، ان پہ قربان ہوئے یا ان کو سر کرنے کے لیے جان جوکھم میں ڈالی…… ان بہادر کوہ پیماؤں کے کارناموں کی فہرست بھی اس کتاب کا خاصا ہے۔ شاید ایسی معلومات کا مجموعہ کسی ایک کتاب میں موجود نہ ہو۔




پاکستانی پہاڑوں کا انسائیکلو پیڈیا ’’پہاڑ اور کوہ پیمائی کی تاریخ‘‘ کا ٹائٹل پیج۔ (فوٹو: حنیف زاہد)

کوہ نوردی یا ٹریکنگ، ان کی اقسام کیا ہیں؟ پاکستان کے خواب ناک ٹریکس کے ٹو بیس اور غونڈو غورو پاس، سنو لیک سارپو لوگو، لک پے پاس، مشکل ترین خوردوپن، پاکستان کا بلند ترین 6450میٹر بلند ویٹوریو سیلا پاس، دوسرا بلند ترین ساووایا پاس 6300 میٹر، تیسرا سکاینگ پاس 6150 میٹر اور سب سے کم بلند ینز پاس 2800 میٹر کا تذکرہ موجود ہے۔
علاوہ ازیں کل 113 مشہور اور گم نام پاسز کے نام مع بلندی اور ان کے ٹریکس کو کتنے دنوں میں کیا جا سکتا ہے؟ اس کی معلومات بھی سلاست سے دستیاب ہیں۔
ہمالیہ، قراقرم اور خصوصاً ہندوکش کے تمام تر ٹریکس جو نظروں سے اوجھل ہیں…… مصنف کی عرق ریزی کے باعث ان کی حیرت انگیز بنیادی معلومات بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔
کوہ نوردی کے لیے بنیادی طور پر کس طرح کے سامان کی ضرورت ہوتی ہے، آسان ٹریکس سے مشکل ترین ٹریکس کی تفصیلات قارئین کے لیے دستیاب ہیں…… چاہے وہ نووارد ہوں یا پختہ کار، پکے پریٹھے…… سب کی حسرتوں اور خوابوں کا سماں تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ بدرجہ اتم موجود ہے۔
قطب شمالی کے باہر موجود سب سے بڑے برفانی گلیشیرز سیاچن، بیافو، بتور، ہسپر اور کل 261 برفانی تودوں کی بنیادی جامع معلومات اس عالی کتاب کا حصہ ہیں۔
’’الپائن کلب آف پاکستان‘‘ کی شروعات سے لے کر تاحال کاوشوں، ترقی و ترویج کی داستان، اس کے کام کی بہتری کی عملی تجاویز کو بھی صفحۂ قرطاس پر احسن طریقے سے منتقل کیا گیا ہے۔
کوہ پیمائی کے سامان اور اس کی تیاری کی تفصیلی معلومات، اس کے آلات کو خریدنے سے لے کر استعمال تک تمام تر تفاصیل اس میں درج کر کے کتاب کو مزید دلچسپ بنایا گیا ہے۔
کوہِ پیمائی کے دوران میں جن جن بیماریوں سے پالا پڑ سکتا ہے…… ان سے بچنے کے اقدامات اور ان کے علاج کو بڑی عرق ریزی سے کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔
جب کتاب انتہا تک پہنچتی ہے، تو سوکھا پاس (سنو لیک کے نواح میں) جو دنیا کا مشکل ترین پاس گردانا جاتا ہے…… اس کی وجۂ تسمیہ، اس کو عبور کرنے والی جناتی ہستیوں کے محیرالعقول کارنامے قاری پر سحر طاری کر دیتے ہیں۔ ان جناتی ہستیوں میں ڈاکٹر احسن اختر، شیخ ذیشان، محمد کاشف اور سلمان مشتاق کے اس پاس کے ٹاپ تک پہنچنے اور نیئر قاسم کے تیسری کوشش میں اس کو عبور کرنے کا کارنامہ پڑھ کر قلبی میلان و سکون ملتا ہے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔
ہمیں فخر ہے کہ ہم محمد عبدہ جیسے بے مثل مصنف کے ہم عصر و دوست ہیں۔ ان کی اب تک سات تصانیف دستیاب ہیں اور کچھ بقول ان کے زیرِ طبع ہیں۔ یہ سب ایک سے بڑھ کر ایک ہیں…… مگر شاید خود مصنف یہ بر ملا بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کی تمام تصانیف میں ’’پہاڑ اور کوہ پیمائی کی تاریخ‘‘ ان کی چہیتی کتاب ہے ۔
آخر میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالا ہمارے محترم دوست اور بھائی ’’سر محمد عبدہ‘‘ کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے…… اور ان کی جان، مال، اولاد اور عزت کو سدا سلامت رکھے، آمین!
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔