ناولٹ ’’لمحے کی صلیب‘‘ (1972ء) کا ہیرو سلمان ہے جو ہسپتال میں داخل ہے۔ وہاں سسٹر بانو اس کی بہت خدمت کرتی ہے۔ وہ نوجوان ہے اور ہر نوجوان کی طرح جذباتی ہے۔ وہ بانو سے ایک سگی بہن کی طرح محبت کرتا ہے…… مگر دنیا اُن کی اس محبت کو قبول نہیں کرتی۔ وہ بھی اس صورت میں کہ اس کی اپنی بھی دو بہنیں ہیں۔ وہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جب بانوسے ملنے جاتا ہے، تو وہ خاصا مشکل اور پروفیشنل رویہ اختیار کرتی ہے…… مگر سلمان اُس سے مسلسل مل مل کر اور اسے تحفے دے دے کر مانوس کر ہی لیتا ہے۔ چوں کہ سلمان کے دل میں کوئی چور نہیں، کوئی منفی جذبہ نہیں، تو وہ بانو کواپنے گھروالوں سے ملوانے بھی لے جاتا ہے مگر اس کے گھروالے بھی وہی کہتے ہیں جو ساری دنیا کہتی ہے یعنی وہ سلمان اور بانو کے بھائی بہن ہونے کو سرے سے تسلیم نہیں کرتے…… جس پر بانو بھی اپنی توہین اور تذلیل محسوس کرنے لگتی ہے۔ سلمان، بانو کی محبت کے ساتھ ساتھ اُس کی سہیلی مارتھا کو بھی اپنی دوستی میں شامل کر لیتا ہے اور انہیں اپنے ہاسٹل بلا لیتا ہے۔ وہ دونوں اُسے مزے مزے کے کھانے پکا کر کھلاتی ہیں جو گھر سے دور کسی بھی پردیسی کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ کا درجہ رکھتے ہیں۔
اس ناولٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا شریف اور صالح نوجوان کو بھی پاک باز رہنے نہیں دیتی۔ ایک وقت آتا ہے کہ بانو اور مارتھا دونوں سلمان سے واشگاف جسمانی محبت کا تقاضہ کرنے لگتی ہیں۔ انسان آخر انسان ہے۔ خطا کا پتلا۔ سلمان بھی آخرِکار جذبات کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
’’اپنے ہوسٹل آکر مَیں نے ہمیشہ کی طرح دروازہ بند کر لیا تھا۔ بانو سرس کے پاس چپ چاپ کھڑی تھی۔ ہمارے درمیان اپنائیت اور پاکیزگی کی فضا نہیں تھی۔ ہاں مَیں نے اُس کے بجھے بجھے چہرے پر ایک تحریرپڑھ لی تھی۔ اور پھر سفر کا وہ لمحہ شروع ہوا جس کو عبور کر کے ہم ایک نئے جہنم زار میں داخل ہوگئے تھے۔ اپنے جسم کے جہنم زار میں۔ اور رات کو جب میں لیٹتا ہوں، تو مجھے لگا جیسے میں خالی دل اور خالی دامن ہوں۔ میرے دل کی ساری بہاریں کسی نے نوچ لی ہیں اور روشنی کی وہ کرن جو آج تک مجھے اپنے اندر روشن لگتی تھی، بجھ گئی ہے۔ مَیں اُٹھ کر زار و قطار رو رہا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ کوئی میرا اپنا ہو جس سے لگا میں اتنا روؤں کہ گناہ کا داغ میرے دامن سے دھل جائے۔‘‘
سلمان کو احساسِ ندامت یہ ہے کہ جسے وہ بہن کہتا ہے اور کہتا تھا، وہ جذبات کی آگ میں جل گئی تھی۔ دنیا جو کہتی تھی وہ سچ نکلا تھا۔ سچے رشتے سچے ہی ہوتے ہیں۔ سلمان اور بانو کا اختلاط رنگ لاتا ہے اور چند ماہ بعد ڈاکٹر بتاتا ہے کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ سارا منظر نامہ بدل کے رہ جاتا ہے۔ بانو کا ہوسٹل ختم ہو جاتا ہے۔ سلمان کو اُس کے لیے علاحدہ گھر کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔ اُدھر سلمان کی ماں اُسے کہتی ہے کہ وہ اپنی بہن بانو کی شادی اپنے بڑے بھائی سے کروا دے۔ سلمان اور مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔ بانو بھی نہیں مانتی…… مگر گھروالوں کا اصرار بڑھتا ہے اور یہ شادی ہو جاتی ہے…… مگر شادی کی رات بانو، سلمان کے بھائی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی اور اُسے بتلا دیتی ہے کہ وہ سلمان کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ یہاں معاملہ مزید خراب ہو جاتا ہے۔ سلمان اور بانو کی بہت ذلت و رسوائی ہوتی ہے۔
’’چار سال کے یونیسکو اسکالر شپ پر جب مَیں مزید تعلیم کے لیے کراچی کے ایئر پورٹ پر کھڑا تھا، تو میری دلہن میرے ساتھ تھی۔ اُس کے ہاتھوں پر مہندی کی جوت اور لالی تھی۔ امی ابا اور بھائی جان سب خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات سے اپنے ہاتھ میں ہار لیے کھڑے تھے۔ مختلف ائیر لائنوں کے اشتہار روشن تھے اور بچے خوشی سے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ مَیں نے چاہا تھا کہ بانو اور بچوں کے متعلق نہ سوچوں…… لیکن مَیں اپنی دلہن کے چہرے میں بانو کا پرتو ڈھونڈ رہاتھا۔‘‘
یہ چھوٹا سا پیرا اس ناولٹ کا ایک بڑا اہم موڑ ہے۔ سلمان، پاکستان سے برطانیہ جا رہا ہے بانو اور اپنے بچے کو اُن کے حال پر چھوڑ کر۔ سلمان کا بڑا بھائی بھی بانو کو طلاق دے چکا ہے۔ سلمان کی نئی بیوی شمسہ امیر خاندان سے ہے۔ وہ برطانیہ جا کر ایک انگریز بزنس مین کی سیکرٹری بن جاتی ہے۔ وہاں کا آزاد ماحول سلمان میں برداشت پیدا کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کی بیوی شمسہ ویسے بھی آزاد خیال ہے۔ وہ سلمان کو مزید نکیل ڈالنے کے لیے بھاری رقم کے حق مہر والے نکاح نامے پر دستخط بھی کروا لیتے ہیں…… مگر سلمان زیادہ دیر تک ایسی زندگی نہیں گزار سکتا۔ وہ واپس پاکستان آتا ہے اور بانو کو تلاش کرتا ہے۔
’’جب اُس نے ہاتھ پکڑ کر مجھے کرسی پر بٹھایا، تو میرا سارا وجود سائیں سائیں کی آواز کے ساتھ تیز تیز گھوم رہاتھا اور زمین میرے پاؤں کے نیچے سے کھسکتی جارہی تھی۔ ’’آیندہ تم یہاں نہیں آؤ گے!‘‘ اُس نے اپنی فوجی وردی کے بٹنوں کو چھوتے ہوئے تیز آواز میں کہاتھا۔ وہ بے چینی سے کمرے میں پھر رہاتھا۔ اس نے کھونٹی پر ٹنگی اپنی ٹوپی کو اُتارا۔ سر پر اُوڑھا جیسے وہ ابھی باہر جانے کے لیے تیار کھڑا ہو، لیکن دوسرے لمحے اُس نے ٹوپی کو دوبارہ کھونٹی پر لٹکادیا تھا…… اور میرے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اُس کا دراز قد میری نظروں کے سامنے چھا گیا تھا…… اور اُس کی آنکھیں……’’تم اب اتنے برسوں بعد یہاں کیا لینے آئے ہو جب کہ تم اس کو طلاق دے چکے ہو؟‘‘ وہ شاید اپنے اندر کھولتے غصے کو ٹھنڈا کرنے کا سوچ رہا تھا۔ مجھے اُس کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ مَیں تو بزدل تھا۔ مَیں نے تو اُسے کھو دیا تھا۔ مَیں تو اتنے برسوں اُس کی یاد کو بھلانے ہی میں لگا رہاتھا اور بھلا نہیں سکا تھا۔ مَیں نے دورکھڑی بانو کو دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں التجا تھی، اُس کا بھرم رکھنے کی التجا۔‘‘
انسان بیک وقت دو سمتوں میں سفر نہیں کر سکتا…… یا آپ کراچی کو جائیں گے یا پشاور کی طرف ۔ سلمان کی بزدلی نے اُسے جو راستہ دکھایا تھا، اُس پر وہ سفر کر چکا تھا۔ و ہ کامیابی تھی یا ناکامی…… یہ اُسے سفر کرنے کے بعد پتا چلا تھا۔ اُس کی عدم موجودگی میں بانو خود کو کسی نہ کسی طرح برقرار رکھے ہوئے تھی…… مگر سلمان کا بیٹا فرقان جو ماں بانو کے پاس اُس کی فوٹو دیکھ چکا ہے، اُسے ڈیڈی ڈیڈی کہتا ہے…… مگر بانو اُسے کہتی ہے کہ تمہار ے ڈیڈی مر چکے ہیں۔ وہ سلمان سے بھی یہی درخواست کرتی ہے کہ وہ دوبارہ اس کے پاس نہ آئے۔ یوں سلمان کو دونوں سمت کا سفر کر کے مسافت تو ملتی ہے، منزل نہیں ملتی اور مسافت کا حاصل تھکاوٹ ہے اور وہ تھک کر رہ جاتا ہے۔
اس ناولٹ کا اسلوب سادہ ہے جو ہمیں مرد، عورت پر معاشرے کے جبر کے بارے میں بتاتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وقتی طور پر اچھے لگنے والے فیصلے آنے والے وقت میں برے بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ سائرہ ہاشمی اُردو فکشن میں مستقل لکھنے والی ادیبہ ہیں اور اُن کا یہ ناولٹ موضوع سے جُڑا ہوا ہے۔ تحریر کی سادگی کے باوجود اُن کی تحریر بڑی پُرکشش ہے جو اُن کی محنت او رمہارت کو ظاہر کرتی ہے۔ اُن کی افسانہ نگاری کی مشقت اس ناولٹ میں بھی موجود ہے، جو مقابلے کی فضا میں لکھا گیا ہے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔