ڈاکٹر مشتاق عادل ’’جامعۂ سیالکوٹ‘‘ کے شعبۂ اُردو میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور راقم کے اچھے دوست ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ بہ عنوان ’’پاکستانی اُردو ناول اور طبقاتی کشمکش‘‘ نینل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز ،اسلام آباد سے ڈاکٹر روبینہ شہناز کی نگرانی میں لکھا۔
یہ مقالہ 384 صفحات پر مشتمل ہے…… جسے ’’فروغِ زبان پبلشرز، ساہیوال‘‘ نے جولائی 2021ء کو چھپوایا۔
اس مقالے کے پانچ ابواب ہیں۔ پہلا باب پاکستانی اُردو ناول میں پس ماندہ طبقہ اور بنیادی مباحث پر مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں پاکستانی اُردو ناول میں کسانوں کے مسایل کی عکاسی موجود ہے۔ تیسرے باب میں پاکستانی اُردو ناول میں مزدوروں کے مسایل کی عکاسی کی گئی ہے۔ چوتھے باب میں پاکستانی اُردو ناول میں دیگر پس ماندہ طبقات کے مسایل کی عکاسی کی گئی ہے جب کہ پانچویں باب میں پہلے چار ابواب کا مجموعی جایزہ پیش کیا گیا ہے ۔
کتاب کے فلیپ پہ راقم کے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد افضال بٹ صدر شعبۂ اُردو گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ رقم طراز ہیں: ’’اس کتاب میں پس ماندہ طبقات کے مسائل کو اُردو ناول کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں سماجی طبقات کا معاشی اور سماجی سطح پر جائزہ لیتے ہوئے سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام پر گہری ضرب لگائی گئی ہے۔‘‘
اس تحقیقی مقالے میں معاشرے کی چھے اقسام ’’دیہی معاشرہ‘‘، ’’بلدیاتی معاشرہ‘‘، ’’خانہ بدوش معاشرہ‘‘، ’’اقامتی معاشرہ‘‘، ’’روایتی معاشرہ‘‘ اور ’’جدید معاشرہ‘‘ بیان کی گئی ہیں۔ نیز پاکستانی سماج میں معاشی امتیازات کے حوالے سے بھی مفید معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے پاکستان میں جاگیردارانہ نظام اور طبقاتی تفریق کے حوالے سے بھی قاری کو معلوم سے نامعلوم تک پہنچایا ہے۔ ’’وٹے سٹے کی شادی‘‘ کے مضر اثرات، غریب مزارعوں پر ہونے والے مظالم، دیہاتوں میں رہنے والے چھوٹے کاشت کار اور مزارعوں کاہمیشہ سے بڑے زمین داروں کے ظلم و ستم کا سہنا، معمولی جرایم میں ملوث افراد کا قاتل بن جانا، جاگیر داروں کا جائیداد کی لالچ میں سگے بھائی کو مارنا،سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیاں، اس ملک میں مزدوروں پر ہونے والے مظالم اور ان کے بچوں کی تعلیم سے دُوری اور ان کے بے راہ روی کے شکار ہونے کے واقعات کو منفردانداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے ان خواتین کے بارے میں بھی لکھا ہے…… جو اپنی عزت بچانے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار رہتی ہیں، مگر بد قسمتی سے معاشی حالات سے تنگ آکر کام کاج کے لیے گھروں سے نکلتی ہیں اور آخرِکار جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
اس تحقیقی مقالے میں پاکستان میں دیگر پس ماندہ طبقات کے مسایل کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں فرقہ پرستی، سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث کے علاوہ بھی کئی چھوٹے چھوٹے فرقوں کی موجودگی اور ان کے نقصانات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
مقالہ نگار کہتے ہیں کہ بد قسمتی سے مذہبی شدت پسندی اور فرقہ پرستی کا سلسلہ اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ اس مذہب کے پیرو کار جو انسانوں ہی نہیں، جانوروں پر بھی ظلم کرنے سے روکتا ہے، یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ ایک فرقہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو مارنا نہ صرف جایز سمجھتا ہے…… بل کہ مارنے والے کی عظمت کا اعتراف کرکے اسے ’’ہیرو‘‘ کا درجہ دیتا ہے۔
مقالہ نگار ان مسایل کو پس ماندگی کی وجوہات قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے ناول ’’خدا کی بستی‘‘، ’’دستک نہ دو‘‘، ’’تنہا‘‘، ’’پریشر ککر‘‘، ’’سانجھ بھئی چودیس‘‘ اور ’’سانپ سے زیادہ سیراب‘‘ کا حوالہ دیا ہے۔ اس تحقیقی مقالے کے نچوڑ میں مقالہ نگار ڈاکٹر مشتاق عادل کہتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں 60 فی صد سے زاید لوگ غربت اور پس ماندگی کی زندگی بسر کررہے ہیں…… اور ان کے مسایل حل ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہیں تعلیم کی سہولت میسر ہے…… اور نہ علاج معالجے کی۔ یہ طبقہ جاگیر داروں اور سر مایہ داروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہو رہا ہے۔ اب تک حکم ران طبقہ ان کی مشکلات کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے کئی جامع منصوبہ بندی نہیں کرسکا۔
مقالہ نگار نے اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ خواتین مزدوروں کے مسایل و مشکلات کی عکاسی پر الگ سے تحقیقی کام کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ان کے استحصال کی کئی صورتیں ہیں۔
مقالہ نگار نے اس تحقیقی مقالے کی تکمیل کے لیے تقریباً 112 کتابوں، 10 مختلف رسایل و جراید، 5 لغات، 3 انگریزی کتب اور تین ویب سایٹس سے استفادہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مصنف کی دیگر کتب میں ’’ساہیوال دے ہیرے‘‘، ’’تاریخِ ساہیوال‘‘، ’’سورج لبھدا سایہ‘‘، ’’قلم کا قرض‘‘، ’’یاراں رنگ‘‘، ’’مراتب اختر، شخصیت و فن‘‘، ’’ساہیوال کی ادبی تاریخ‘‘، ’’نقوشِ ساہیوال اور تنقید‘‘، ’’ماضی ، حال اور مستقبل(مرتبہ)‘‘ شامل ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔