پروین سرور کا یہ ناولٹ (1972ء) آندھی سے شروع ہوتا ہے اور آندھی پر ہی ختم ہوتا ہے۔ آندھی بدلتے جذبات، واقعات اور ارتقا کا استعارہ ہے جسے پروین سرور نے بڑی خوبی کے ساتھ پورے ناولٹ میں نبھایا ہے۔ اس ناولٹ کی ہیروین ناہید ایک سٹور میں سیلز گرل ہے، وہاں ناولٹ کا ہیرو بہزاد شاپنگ کے لیے جاتا ہے ۔اُسے ناہید اچھی لگتی ہے۔
’’پسند نہیں آئی؟‘‘ ’’پسند تو ہیں بہت پسند ہے…… بے حد! ‘‘ اس نے نظریں اٹھا کر بے خیالی میں اس شدت سے پسندیدگی کا اظہار کیا کہ ناہید کو جھٹکا سا لگا۔ وہ ایک مقناطیسی کشش سے کھینچ کر جلدی جلدی اردگرد پھیلے ہوئے ڈبے سمیٹ سمیٹ کر واپس الماریوں میں بھرنے کے لیے دوسری طرف مڑگئی۔ بہزاد اپنی سہمی ہوئی بات اور اپنے انداز پر بوکھلا کر بولا: ’’مَیں پھر آؤں گا، پھر کسی وقت!‘‘ ’’بڑی خوشی سے؟‘‘ وہ ایک خالص کاروباری کی طرح کاؤنٹر سے دور جاتے ہوئے بولی۔ ’’آپ کی اپنی دکان ہے!‘‘ ’’میری!‘‘، ’’جی ہاں۔ آپ کی اپنی!‘‘ اس کا چہرہ جلتی ہوئی موم بتی کی طرح روشن ہوگیا: ’’زہے نصیب!‘‘ وہ بے اختیار مسکرایا۔ اور تیز تیز قدموں سے باہر سڑک پر نکل آیا۔ اس نے قمیص نہیں خریدی تھی، ایک لمحہ خرید لایا تھا۔ دبے دبے انبساط اور مسرتوں سے بھرا ہوا ایک لمحہ! اس کا دل بڑے سرور سے جھوم اٹھا۔ جیسے اس نے اندھیری رات میں جگنو کی چمک کو پا لیا ہو۔‘‘
ناولٹ کا آغاز ہلکے پھلکے رومانٹک انداز میں ہوتا ہے جو رفتہ رفتہ واقعی آندھی بنتا چلا جاتا ہے۔ ناہید اپنے گھر میں بڑی ہے اور خاصی حد تک گھر اُسی پر انحصار کرتا ہے۔ جانوروں اور پرندوں کی دنیا میں بھی یہی اصول ہے کہ مادہ اپنے بچوں اور گھرانے کو پالتی ہے۔ شکار کے لیے مادہ باز ہی سدھائی جاتی ہے اور شکار پر اُس کے ڈائیو کرنے کی یہ رفتار ہوتی ہے کہ جہاز سے گوشت کا ٹکڑا اور مادہ باز ایک ساتھ پھینکے جاتے ہیں اور مادہ باز اُسے زمین تک جانے سے پہلے پہلے دبوچ لیتی ہے۔ بہزاد، ناہید سے واجبی سی محبت سے آغاز کرتا ہے، مگر ناہید کو گھر کی ذمہ داریاں بتاتی ہیں کہ اگر اُس نے اپنی کلاس یعنی مڈل کلاس کے بندے سے شادی کرلی، تو ساری زندگی روتے سسکتے ہی گزرے گی۔ یہی سوچ کر وہ اپنی کلاس بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور اپر کلاس کی طرف جمپ لگانے کے لیے اشتہارات میں ماڈلنگ شروع کر دیتی ہے۔ دنیا خود اُس کی طرف بھاگی ہوئی آتی ہے۔ وہ ایک امیر زادے انجم کو اپنا جیون ساتھی چن لیتی ہے اور میڈیا کو بہزاد کی طرح فارغ کر دیتی ہے، اور اپنی شادی تک میں نہیں بلاتی۔ مگر بہزاد، ناہید کو نہیں بھلا پاتا۔ ناہید بیاہ کر پیرس چلی جاتی ہے۔ بہزاد شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اُسے بھی بعد میں اچھی نوکری مل جاتی ہے اور وہ بھی اپنا سماجی مرتبہ بلند کرلیتا ہے۔ ناہید کی بدولت اُس کا تمام گھرانا بہت بہتر ہو جاتا ہے او ر وہ بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ دوڑ اپنی اپنی کے مصداق سبھی زندگی کے جھمیلوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی وقت گزرتا چلا جاتا ہے کہ بہزاد کی زندگی میں ناہید کی واپسی ایک آندھی کی طرح ہوتی ہے۔
’’ابھی وہ اپنے کام سے فارغ ہوا ہی تھا کہ وہی لمبی سی کار پھاٹک میں داخل ہوئی اور ایک جھٹکے سے پورچ میں آکر رک گئی۔ ایک طویل ہارن بجتا چلا گیا۔ بہزاد نے چونک کر ایک مرتبہ پھر سے کھڑکی میں جھانک کر دیکھا۔ اُس کا دل مدتوں بعد بڑے زوروں سے دھڑک اُٹھا۔ اُسے یہ دھڑکن بہت تکلیف دہ معلوم ہوئی۔ آخر اب اُسے کیا سروکار؟ اُسے کسی سے کیا؟ انجم خود ڈرائیو کر کے آیا تھا۔ اور وہ اُس کے ساتھ اگلی سیٹ پر بڑا سا جوڑا کیے کالی عینک لگائے بیٹھی تھی۔ اُس نے ایک نظر میں پہچان لیا۔ انجم پہلے سے کہیں زیادہ مکروہ صورت ہو رہا تھا۔ اُس کے چہرے کی پختگی اور بھدے ہونٹوں کی نیلاہٹ دور ہی سے دکھائی دے رہی تھی ۔ اُس نے کار سے اترتے ہی لپک کر ناہید کے لیے دروازہ کھولا اور اُسے اپنے بازو کے سہارے نیچے اُتار لیا۔‘‘
سچا پیار یہی ہوتا ہے جو سال ہا سال کے وقفے کے بعد بھی دل میں زندہ رہے۔ بہزاد کے ساتھ بھی کچھ یہی معاملہ تھا۔ وہ اعلا سرکاری افسر تو بن گیا تھا، مگر ناہید اُس کی زندگی کا وہ خلا تھی جسے کوئی پُر نہ کر سکی تھی۔ گو یہ وہ ناہید نہیں تھی پرانے زمانوں والی، مگر تھی تو ناہید ہی۔ انجم کچھ دیر بعد ناہید کو بہزاد کے ساتھ اکیلا چھوڑ کر یہ کہتے ہوئے چلا جاتا ہے کہ وہ ناہید کی دوائی گھر بھول آیا تھا، مگر انجم کے جاتے ہی ناہید بہزاد کو بتاتی ہے کہ وہ سفید جھوٹ بول کر گیا ہے۔ دوائی لینے نہیں بلکہ وہ اپنی محبوبہ سے ملنے گیا ہے اور دو، تین گھنٹے سے پہلے نہیں لوٹے گا۔ بہزاد کو ناہید بتاتی ہے کہ اس نے دولت تو پا لی مگر دل کا سکون اُسے نہیں ملا۔ وہ بہزاد کی ہو جانا چاہتی ہے۔ وہ بہزاد کو بتاتی ہے کہ انجم جانتا ہے کہ وہ اب بھی بہزاد کو چاہتی ہے۔ انجم بے حد رومان پرور آدمی ہے اور یورپ کے ہر ملک میں اُس کی کم از کم ایک محبوبہ لازمی موجود ہے۔ ناہید، بہزاد پر واضح کر دیتی ہے کہ انجم سے اس کی شادی محض پیسے کے لیے تھی، مگر اُسے سکون بالکل نہیں ملا۔ وہ دماغی امراض کے ہسپتال میں بھی مہینوں داخل رہی اور اب اُس کے پاس اپنی روح سونپ دینے کے لیے رُکی ہے۔
’’بہزاد نے فوراً بتی جلا دی۔ انجم کے زخمی ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔ ناہید کے دانتوں کے نشان بہت گہرے تھے۔ وہ اُسے ایک درندے کی طرح چبا گئی تھی۔ اس نے گھبرا کر دوسری طرف دیکھا۔ ناہید نے ایک ترسے ہوئے شرابی کی طرح وہسکی کا کاگ اُڑایا، بوتل منھ سے لگائی اور آن کی آن میں خالی کرکے فرش پر پھینک دی۔ بہزاد کے پاؤں بندھ گئے۔ وہ آہستہ آہستہ اس کے پاس چلتی آئی۔ پھر ایسی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی، جیسے کہہ رہی ہو: ’’آپ ایک شمع کو خول میں بند کر دیجیے۔ وہ اندر ہی اندر جلتی رہے گی۔ پگھلتی رہے گی۔ بہزاد صاحب! دیکھنے والوں کو باہر سے خول کتنا خوش نما…… کیسا حسین نظر آتا ہے، مگر کسی کو کیا خبر……شمع پر کیا گزر گئی!‘‘ بہزاد نے جلدی سے آگے بڑھ کر اُسے سہارادیا ۔ گرتے گرتے سنبھا ل لیا۔‘‘
ناولٹ ’’آندھی‘‘ میں ثابت کیا گیا ہے کہ جسموں کے ملاپ سے زیادہ روحوں کا ملنا اصل معنی رکھتا ہے۔ سچی محبت اصل میں قربانی کا نام ہے اور اس ناولٹ کے ہیرو، ہیروین دونوں نے کسی نہ کسی صورت میں قربانی دی ہے۔ ناولٹ سادہ اسلوب میں لکھا گیا ہے۔ اپنے موضوع اور عنوان کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ رومانٹک انداز پورے ناولٹ میں چلتا ہے۔ نثر رواں اور شستہ ہے اور آخر تک تجسس برقرار رہتا ہے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔