45 total views, 1 views today

’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ نصرت نسیم کی ایک ایسی اہم خود نوشت ہے جسے صوبہ خیبر پختون خوا کی کسی لکھنے والی خاتون کی پہلی خود نوشت قرار دیا جاسکتا ہے…… لیکن اس کی زیادہ اہمیت نصرت آپا کے منفرد اور مسحور کن اُسلوب کی وجہ سے ہے۔ آپ ایک دفعہ یہ خود نوشت پڑھنا شروع کرتے ہیں، تو زبان و بیان کے چٹخارے آپ کو مزید پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں۔
نصرت نسیم نے بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے سے اپنا تعلق استوار کر رکھا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے شعبہ سے بہ طورِ اُردو استاد وابستہ ہوگئیں۔ نثار شہید ڈگری کالج سے ریٹایرمنٹ کے بعد وہ ایک پرائیویٹ کالج میں پرنسپل کی حیثیت سے اپنے فرایض ادا کرتی رہیں۔
جس طرح ہر خود نوشت نگار اپنے بچپن سے لے کر عملی زندگی اور پھر ریٹایرمنٹ کے بعد کے حالات سپردِ قلم کرتا ہے، نصرت آپا نے بھی اپنے بچپن کے واقعات، ان سے جڑی یادیں اور قریب و دور کے رشتوں کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کچھ ایسے میٹھے انداز میں بیان کی ہے کہ لفظ مجسم صورت اختیار کرگئے ہیں اور اس خود نوشت کا ہر کردار عالمِ تصور میں زندہ چلتا پھرتا محسوس ہونے لگتا ہے۔
’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ ایک اعلا تعلیم یافتہ، شایستہ اور باوقار خاتون کی خود نوشت ہے جنھیں اپنے مختلف رشتوں سے بے لوث محبت ہے اور جن کا تذکرہ انھوں نے نہایت احترام اور محبت سے کیا ہے۔ یہ ایک ایسی نگاہِ دور رس رکھنے والی ادیبہ کے قلم کی لکھی ہوئی داستانِ حیات ہے جس میں انھوں نے معاشرتی اقدار اور ماضی کی روشن روایات کی ایک خوب صورت جیتی جاگتی تصویر کھینچی ہے۔ ان کے بچپن اور جوانی میں زندگی کے معمولات کس نوعیت کے تھے، لوگ باگ بزرگوں کا احترام کس طرح کرتے تھے، مختلف تہوار کیسے منائے جاتے تھے، شادی بیاہ کے رسم و رواج کیا تھے، کھانوں کے ذایقے کیسے تھے، گرمی اور سردی کس طرح گزرتی تھی، غم اور خوشی کے کیا تقاضے ہوتے تھے اور عام طور پر لوگ آپس کے تعلقات اور رشتے ناتے کس طرح نبھاتے تھے؟
یہ سب اور اس طرح کے بہت سے دوسرے موضوعات کے دلچسپ اور شیریں تذکروں نے اس خود نوشت کے مطالعہ کو بہت پُرلطف بنا دیا ہے۔
نصرت نسیم نے اپنی زندگی کے تلخ و شیریں واقعات اور تجربات و مشاہدات کا نچوڑ بہت سلیقے اور ادبی چاشنی سے مملو اُسلوب میں پیش کیا ہے۔ کوہاٹ ان کی جنم بھومی ہے اور انھوں نے جا بہ جا کوہاٹ کا تذکرہ اور اس کی سماجی زندگی سے وابستہ یادوں کو اپنے پُر سحر اندازِ تحریر سے اَمر کردیا ہے۔ انھوں نے زمانۂ طالب علمی اور اس کے بعد کے اپنے مختلف اسفار بڑے لذیذ انداز میں بیان کیے ہیں۔ نصرت آپا نے اپنی روحانی کیفیات کو بھی سپردِ قلم کیا ہے اور اپنے خوابوں اور ان کی تعبیروں کا طلسماتی تذکرہ بھی اپنی خود نوشت کا حصہ بنا دیا ہے۔
مَیں نصرت آپا کو اس خوب صورت اور دلچسپ خود نوشت لکھنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں…… اور ان کی ہمت اور جرات کو قابلِ رشک گردانتا ہوں کہ خاتون ہوکر انھوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنی خود نوشت لکھی ہے، ورنہ وطنِ عزیز میں ہم نے دیکھا ہے کہ کسی اہم عہدے سے ریٹایرمنٹ کے بعد عام طور پر مرد و زن ایک لحاظ سے اپنی زندگی کی سرگرمیاں محدود یا موقوف کردیتے ہیں اور ان کے پاس عملی زندگی کے جو مشاہدات، تجربات اور بصیرت افروز یادیں ہوتی ہیں، وہ دوسروں کو منتقل نہیں کرپاتے۔ اگر ریٹایرمنٹ کے بعد وہ اپنی زندگی کے حالات سپردِ قلم کریں، تو ان کی پوری زندگی کے مشاہدات اور تجربات ایک کتاب کی صورت میں سمٹ کر نئی نسل کے لیے رہنمائی اور کچھ سیکھنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے نصرت آپا کی خود نوشت کا اگر مطالعہ کیا جائے، تو اس سے نئی پود بہت کچھ سیکھ سکتی ہے اور اپنے لیے کام یابیوں کے در وا کرنے میں مدد حاصل کرسکتی ہے۔
’’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں‘‘ کی طباعت کا انتظام شعیب سنز پبلشرز سوات نے کیا ہے…… جب کہ ناشر کی حیثیت سے اس کی تزئین و آرایش لندن میں مقیم پروفیسر ظفر اقبال صاحب اور ان کے ادارہ ’’پریس فار پیس فاؤنڈیشن‘‘ نے کیا ہے۔ 80 گرام کے کاغذ پر نفیس طباعت کے ساتھ اس کتاب کا گٹ اَپ بہت عمدہ ہے۔
یہ دلچسپ خود نوشت پشاور میں یونی ورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار (فون: 0912212534)، اسلام آباد میں سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ (فون: 0512651656) اور کراچی میں فضلی سنز اردو بازار (فون: 03362633887) کے علاوہ ملک بھر کے اچھے بک اسٹوروں میں دست یاب ہے۔ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات مارکیٹ مینگورہ، سوات (فون: 03409552373) سے یہ کتاب بذریعہ ڈاک بھی طلب کی جاسکتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔