عمیرہ احمد اپنے ناولٹ ’’میری ذات ذرہ بے نشاں‘‘ (1999ء) کے تعارف میں لکھتی ہیں : ’’کہانی لکھنا بہت آسان کام ہوتا ہے۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہیں کاغذ قلم آپ کے پاس ہے اور آپ دنیا میں رہتے ہیں تو آپ کسی بھی وقت ایک عدد کہانی لکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک کہانی کے اچھا یا برا ہونے کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ آپ نہیں کرتے پڑھنے والے کرتے ہیں۔ یعنی دوسرے لوگ ۔ جو کہانی، کہانی کم حقیقت زیادہ لگے وہ اچھی کہانی ہوتی ہے اور جو کہانی بس کہانی ہی لگے وہ بری کہانی ہوتی ہے۔
’’میری ذات ذرہ بے نشاں‘‘ میری پہلی کتاب ہے اور اس میں شامل کہانیاں میری ابتدائی تحریروں میں سے ہیں۔ اچھی ہیں یا بری یہ مجھے نہیں پتہ (کیونکہ میں نے انہیں ہمیشہ جانبدار ی سے پڑھا ہے) بہرحال ایک چیز پورے دعویٰ سے کہتی ہوں انہیں میں نے سوچا ہے اور میں نے ہی لکھا ہے۔ میرے لئے یہ تینوں کہانیاں بچے کے پہلے قدم کی طرح ہیں اور بچے کا پہلا قدم کبھی بھی بہت متوازن، ہموار اور مستحکم نہیں ہوتا مگر پہلا قدم اٹھائے بغیر چلنا بھی تو نہیں آتا۔ ان تینوں کہانیوں میں کوئی خاص بات نہیں ہے مگر کبھی کبھی ’’عام‘‘ چیزوں کو بھی تو دیکھا اور پڑھناچاہیے بعض ’’عام‘‘ چیزیں اور باتیں آپ کو بہت ’’خاص‘‘ بننے میں مدد دیتی ہیں۔ ‘‘
’’میری ذات ذرہ بے نشاں‘‘ کی ہیروئین سارہ ہے جس کی ماں اُسے مرنے سے کچھ دن پہلے عارفین عباس نامی شخص کے نام فرانسیسی زبان میں لکھا ہوا ایک مختصر سا خط دے کر مر جاتی ہے۔ وہ گریجویٹ ہے اور ایک فیکٹری میں کام کرتی ہے۔ وہ ماں کا دیا ہوا خط لے کر عارفین عباس کے پاس ملنے جاتی ہے۔ فلیش بیک میں سارہ کی ماں صبا اور عارفین عباس کے تعلق کی تھوڑی سی کہانی چلتی ہے اور پھر ہم دوبارہ وہاں آجاتے ہیں جہاں سے کہانی کا آغاز ہوا تھا۔
عارفین عباس، سار ہ کو اپنے گھر لے آتا ہے کیونکہ اس کی ماں صبا کے مرنے کے بعد اس کا کوئی نہیں ۔ عارفین کا اکلوتا بیٹا حیدر بھی اس کے ساتھ ہی گھر میں رہتا ہے۔ وہ اپنے باپ سے کھانے کی میز پر فرنچ میں سارہ کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔ سارہ خود کو فرنچ سے نابلدظاہر کرتی ہے اس طر ح باپ بیٹا بڑی سہولت کے ساتھ اس کے بارے میں تبادلہ خیالات کرتے رہتے ہیں۔
یہ ناولٹ خشونت سنگھ کے مشہور ناول : ’’دِلّی‘‘ کی تکنیک کے ساتھ ماضی اور حال میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ آنا جانا جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس تکنیک سے کہانی کی رفتار بھی تیز رہتی ہے اور قاری بھی یکسانیت یا بوریت کا شکار نہیں ہوتا۔ ٹی وی ڈراے میں یہ انداز زیادہ تواتر سے برتا جاتا ہے۔ فلیش بیک میں چلنے والی صبا اور عارفین کی کہانی میں ان کا آپس میں نکاح تو ہو چکا ہے مگر رخصتی صبا کی ایم۔ اے کی وجہ سے دو سال بعد کی رکھی گئی ہے۔ دونوں کی آپس میں خط و کتاب جاری ہے جو کہ فرنچ میں ہے۔ ایسے ہی ایک خط میں یہ خوبصورت جملہ صبا، عارفین کے نام لکھتی ہے۔
’’جس چیز سے بے حد محبت ہو اس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہیے۔ سوچ شبہات کو پیدا کرتی ہے اور شبہ محبت کو ختم کر دیتا ہے۔ تم چاہتے ہو تم سے میری محبت ختم ہو جائے؟‘‘
پھر صبا اور عارفین عباس کی محبت کو ایک سازش کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے جو عارفین کی ماں کرتی ہے۔ وہ صبا کو عارفین کے کمرے میں اس کے بستر وغیر ہ درست کرنے کے بہانے بھجواتی ہے۔ جہاں اُس نے صبا کے کزن عادل کو عارفین کے کمرے میں بلب لگوانے کے بہانے پہلے سے بھجوا رکھا ہے۔ وہ باہر سے کمرہ لاک کر کے دونوں کو پورے خاندان کے سامنے ذلیل و رسوا کروا دیتی ہے۔ عارفین کی ماں کی سازش کامیاب ہوتی ہے۔ عارفین بھی صبا کو قصور وار سمجھ لیتا ہے۔ وہ اپنا شک رفع کرنے کے لئے اپنی ماں اور صبا کو قرآن اٹھانے کا کہتا ہے۔ اس کی ماں جھوٹی ہو کر بھی قرآن اٹھا لیتی ہے اورصبا سچی ہو کر بھی قرآن نہیں اٹھاتی۔ عارفین، صبا کو مجرم سمجھتے ہوئے فوری طور پر تین طلاق دے دیتا ہے اور فرانس واپس چلا جاتا ہے۔ اس خاندان میں آنے والے زلزلے کے آفٹر شاکس آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ پہلے عارفین کی ایک بہن بیوہ ہو کر چار بچوں سمیت گھر واپس آجاتی ہے اور مزید کچھ ماہ بعد دوسری بہن کو بھی طلاق ہو جاتی ہے۔ عارفین ، فرانس ہی میں بنک میں اپنے ساتھ کام کرنے والی ٹریسی کو مسلمان کر کے اس کا اسلامی نام اسماء رکھتا ہے اور شادی کر لیتا ہے۔ حیدر اسی کے بطن سے ہے۔ عارفین، اسماء کو اپنا ماضی پوری تفصیل سے بتا دیتا ہے۔
صبا کی شادی اس فرضی گھریلو سکینڈل کے باعث ایک ادھیڑ عمر کے ساتھ کر دی جاتی ہے جو پہلے ہی چار بچوں کا باپ ہے۔ صبا کی یہ شادی بھی ناکام رہتی ہے اور وہ اپنی اکلوتی بچی سارہ کے ساتھ تنہا زندگی گزارنے لگتی ہے۔ ایم۔ اے انگلش کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے اور وہ اپنی تعلیم سے کہیں کمتر نوکری ایک فیکٹری میں پیکنگ کی کرنے لگتی ہے۔ عارفین کی ماں کینسر کی آخری سٹیج پر صبا کے خلاف کی جانے والی سازش کا اعتراف کر لیتی ہے اور سب سے معافی مانگتی ہے۔ صبا بھی اُسے بستر مرگ پر آکر معاف کر دیتی ہے۔
سارہ کو اپنی والدہ صبا کے ساتھ ہونے والے ظلم کی مکمل تفصیل پتہ چل جاتی ہے اور و ہ اپنی رخصتی والے دن اچانک غائب ہوجاتی ہے۔ پورا خاندان ایک بار پھر ڈولنے لگتا ہے۔ حیدر، سارا کو تلاش کرتے میں دن رات صرف کر دیتا ہے۔ اور آخر کار اس کا پتہ چلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ سارہ کو ان الفاظ میں قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
’’اور و ہ اکیلے اس اذیت کا شکار نہیں تھے۔ ہمارے خاندان کے ہر فرد کو اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دادا کو، دادی کو، پھوپھو کو، میری ممی کو اور اب مجھے اور میں چاہتا ہوں یہ سلسلہ ختم ہوجائے۔ تمہاری امی نے خدا سے اتنی محبت کی کہ پھر اس کے علاوہ اور کسی چیز کی خواہش نہیں کی مگر سارہ تمہارا خدا کے ساتھ ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ تم کبھی صبا کریم جیسی قناعت حاصل نہیں کر سکتیں۔ تم گھر چھوڑ سکتی ہو، دنیا کو نہیں۔ تمہاری امی تمہاری طرح کسی اکیڈمی میں نہیں گئیں نہ انہوں نے اپنے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کی کوشش کی کیونکہ انہوں نے اب کسی Materialistic Pursuit میں شریک نہیں ہونا تھا اور تم، تم نہ دنیا چھوڑ سکتی ہو نہ خدا کو۔ کچھ وقت گزرے گا پھر تمہیں پچھتاوے ہونے لگیں گے اور میں چاہتا ہوں اس وقت سے پہلے تم واپس آجاؤ تمہیں یادرکھنا چاہیے کہ تمہاری امی نے تمہیں میرے پاپا کے پاس بھجوا دیا تھا۔ ا ن کی یہ خواہش ہوگی کہ تم ان جیسی زندگی نہ گزارو، عا م لوگوں کی طرح نارمل زندگی گزارو اپنے ماضی سے بے خبر رہ کر۔ اسی لئے انہوں نے تمہیں اپنے بہن بھائیوں کے پاس نہیں بھیجا۔ انہیں خدشہ ہوگا وہ اُن کے اور تمہارے ماضی کو چھپا کر نہیں رکھیں گے، اور یہ باخبری تمہیں ساری زندگی تکلیف دیتی رہے گی۔ میرے پاپا یہ کام کر سکتے تھے سو انہوں نے تمہیں اُن کے پاس بھجوا دیا تمہارے نانا، ماموں اور خالہ نے تمہیں ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی۔ تم نہیں ملیں۔ ایک ماہ پہلے وہ واپس چلے گئے۔ اب تمہیں صرف میں اور پاپا ڈھونڈ رہے تھے۔ ‘‘
اس ناولٹ کی کہانی کو عمیرہ احمد نے واقعی ڈوب کر لکھا ہے اور اس میں خاندانی نظام پوری طرح جلوہ گر نظر آتا ہے ۔ عمیرہ احمد کو بانو قدسیہ کی طرح خاتون ادیبوں میں انفرادیت حاصل ہے۔ وہ زنانہ ، مردانہ کرداروں کی یکساں سوجھ بوجھ رکھتی ہیں اور صرف فیشن کی بات نہیں کرتیں۔ جس طرح بانو قدسیہ کا ناول: ’’راجہ گدھ‘ ‘ مشہور ہے اسی طرح عمیرہ احمد کا ناول ’’پیر کامل‘‘ وہی مقام رکھتا ہے۔ جسے زنانہ مردانہ خانوں میں نہیں بانٹا جاسکتا۔ ایسی کہانی جو ہر کسی کے لئے پر لطف اور سبق آموز بھی ہو، قارئین کا وسیع تر حلقہ رکھتی ہے۔ عمیرہ احمد کے ناولٹ میں ناولٹ نگاری کے تمام لوازمات ملتے ہیں اور ان کا یہ ناولٹ تو ڈراما کی صورت میں ’’ہم‘‘ ٹی وی چینل پر کامیابی سے پیش بھی ہو چکا ہے جو اس ناولٹ کی مضبوط کہانی کا واضح ثبوت ہے کیونکہ وہی ناولٹ یا ناول اس دور میں ڈراما بننے سے بچے ہیں جن میں کہانی کی کمی ہے، لفاظی زیادہ ہے۔
عمیرہ احمد کا اسلوبِ نگارش جدید ہے۔ انگریزی اُردو الفاظ کی آمیزش ہے مگر اُن کی کہانی بڑی مضبوط ہے۔ وہ سادہ سے الفاظ میں بڑی بات کہہ جاتی ہیں۔ قارئین کا وسیع حلقہ رکھتی ہیں۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔