تبصرہ: بینا صدیقی 
روسی مصنف ’’دوستوفسکی‘‘ میرے پسندیدہ ترین مصنفین میں شامل ہیں۔ انہوں نے انسانی نفسیات کے گہرے مشاہدے کے بعد انتہائی دلچسپ اور آسان طریقے سے یہ نفسیاتی پرتیں اپنے قاری کے سامنے کھولی ہیں۔ جرم وسزا، ذلتوں کے مارے لوگ اور ’’ایڈیٹ‘‘ جیسے شاہکار ناولوں کے بعد جب دوستوفسکی کا ضخیم ترین ناول ’’برادر کرامازوف‘‘ کا اُردو ترجمہ جناب شاہد حمید صاحب کا کارنامہ میرے ہاتھ آیا…… جوکہ ایک نایاب ناول ہے۔ کیوں کہ یہ 1300 سے زاید صفحات کا ناول ہے اور اس کو تخلیقات پبلشرز نے شایع کیا تھا۔ اتنے ضخیم ناول کو ’’ری پرنٹ‘‘ کرنے کی ہمت اس کے بعد کسی پبلشر کو نہ ہوسکی۔
قارئین! مَیں نے اس ناول کو نہ صرف انتہائی دلچسپ پایا…… بلکہ یہ انسانی نفسیات کے ایسے ایسے راز کھولتا ہے…… جو خود ہمارے اندر کنڈلی مارے کسی گہرے اندھیرے میں چھپے بیٹھے ہیں اور یہ جملے پڑھ کے ہم سوچتے ہیں، خود ہمارے ساتھ بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے ……ہم بھی تو کبھی کبھی اتنے ہی بُرے ہوجاتے ہیں۔
٭کہانی:۔ کہانی کا مرکزی پلاٹ کراما زوف گھرانے کے گرد گھومتا ہے۔ کراما زوف ایک بڑی عمر کا، مگر لامذہب اور عیاش شخص ہے۔ اس کے تین بیٹے ایوان، متیا اور ایلوشا ہیں۔ ایوان، باپ کی طرح عیاش ہے۔ متیا، مست ملنگ اور چھوٹا والا ایلوشا سب سے الگ طبیعت کا ہے۔ کرامازوف برادران کی ماں ایک سیدھی سادی عورت تھی جس پہ اس کا باپ بہت ظلم وستم کرتا تھا، تو وہ معصوم عورت ہسٹیریا کا شکار ہوگئی……اور نفسیاتی مریضہ بنا کے کونے میں دھکیل دی گئی۔ چھوٹا بیٹا ایلوشا اسی دن سے باپ سے نفرت کرنے لگا تھا۔ باقی دو بھائیوں کو ماں سے غرض تھی نہ باپ سے۔ایک کو دولت اور دوسرے کو اپنی آزاد اور لااُبالی زندگی سے مطلب تھا۔ ایلوشا پاگل ماں کو کھانا کھلاتا ہے، تو ماں اسے خوب تھپڑمارتی، چٹکیاں کاٹتی اور گھونسے مارتی ہے…… مگر وہ ماں کی محبت میں مار کھاتا اور ماں اس سے وعدہ لیتی ہے کہ وہ ہر نوالے کے بدلے ایک تھپڑ کھائے گا۔ ماں کے ساتھ بیٹے کی محبت کا یہ بڑا ہی انوکھا انداز دوستوفسکی ہی دکھا سکتا تھا۔ ماں کی موت ایلوشا کو باپ سے اتنا برگشتہ کردیتی ہے کہ وہ گھر چھوڑ کے ایک چرچ کے پادری کے ہاں چلا جاتا ہے…… اور یوں مکمل لامذہب لادین کراما زوف گھرانے کا سب سے چھوٹا چشم و چراغ دین کی طرف مایل ہوجاتا ہے ۔ باپ کراما زوف اور بڑا بھائی ایوان ایک ہی عورت کے دامِ فریب میں الجھ جاتے ہیں جو ایک طوایف ہے ۔ باپ بیٹا اس عورت کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ فریبی عورت دونوں کو دھوکا دے رہی ہے۔ ایلوشا سے ایک اپاہج لڑکی جو پادری کے پاس دعا کرانے آتی ہے…… اسے محبت کرنے لگتی ہے مگر ’’ایلوشا‘‘ اس کو کوئی رسپانس نہیں دیتا۔ اُدھر کرامازوف باپ اپنے کمرے میں مردہ پایا جاتا ہے۔ قتل کے الزام میں تینوں بھائیوں کو عدالت میں بلایا جاتا ہے۔ کیوں کہ باپ کی لمبی چوڑی جائیداد کی خاطر تینوں کراما زوف میں سے کوئی بھی اس کو قتل کرسکتا تھا۔ یہاں عدالت کی بہت ہی طویل کارروائی جو لمبی لمبی تقاریر پہ مبنی ہے……قاری کو ذرا بور کرتی ہے، لیکن ان ہی تقاریر میں لادینیت اور عقا ید پہ بحث شروع ہوتی ہے…… جس میں ایلوشا سب کو قایل کرتا ہے۔ آخر میں منجھلے بھائی کو جیل اور بڑا بھائی ایوان ماں کی طرح ذہنی مریض بن جاتا ہے اور ہمارا ہیرو ایلوشا جنگلوں میں ایک پُرسکون زندگی تلاشنے نکل جاتا ہے۔
٭ ناول کا جایزہ:۔یہ بنیادی طور پہ بہت دلچسپ کہانی ہے…… جس کے تانے بانے بہت ہی چابُک دستی سے بُنے گئے ہیں۔ تینوں بھائیوں کے کردار بہت ہی نفاست سے تیار کیے گئے ہیں کہ تینوں کی علاحدہ علاحدہ شخصیت قاری کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ روس جیسے لامذہب معاشرے پہ ایلوشا کی زبانی گہرا طنز کیا گیا ہے۔ لوگوں کی خود غرضی، بے حسی اور بے پروائی پہ ایسی تنقید کی گئی ہے جو سیدھی دل کو لگتی ہے۔ کیوں کہ یہ تمام برائیاں اب پاکستانی معاشرے میں بھی پائی جاتی ہی۔
٭ ناول کا ترجمہ:۔اس ناول کا ترجمہ بے حد سلیس اور رواں اردو میں ہے۔قاری کہیں بھی اٹکتا نہیں۔ شاہد حمید صاحب اس شاہکار کو اُردو زبان میں مہیا کرکے اردو پہ احسان کرگئے ہیں۔ کیوں کہ اُردو میں ایسے ضخٰیم تراجم کم ہی ملتے ہیں۔ ایسا ضخیم دوسرا ترجمہ ٹالسٹائی کا ’’وار اینڈ پیس‘‘ ہے۔ وہ بھی جناب شاہد حمید کی مہربانی سے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔
٭ ناول کا منفی پہلو:۔ناول کا واحد منفی پہلو اس کی طوالت اور انتہائی لمبی لمبی تقاریر ہیں۔ ان میں جہاں انتہائی فکر انگیز جملوں کے موتی ملتے ہیں…… وہیں غیر ضروری طوالت اور موضوع کی تکرار قاری کو بوریت میں مبتلا کردیتی ہے۔ مجموعی طور پہ کرامازوف برادران ایک شاہکار ناول ہے جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور اس کو سوچنے پہ مجبور کر دیتا ہے۔
٭ ناول کا مثبت پہلو:۔ اس ناول میں مذہب کو ایک الجھے ہوئے اور مسایل سے بھرے ہوئے معاشرے کے حل کے طور پہ مذہب کو پیش کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اس ناول میں معاشرے کی بے حسی، دولت کی ہوس، خود غرضی کی دوڑ اور رشتوں کی بے حسی کے بارے میں جو کچھ کہا گیا…… اس سے ایک پاکستانی قاری مکمل طور پہ ریلیٹ کرسکتا ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں بھی یہ تمام برائیاں عام ہوچکی ہیں۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ احساس نہیں ہوتا کہ کسی کوہِ قاف کی کہانی پڑھ رہے ہیں، سب جیتے جاگتے انسان ہیں، جو شاید ہمارے ارد گرد بھی پائے جاتے ہوں۔
جناب شاہد حمید صاحب کی اللہ مغفرت فرمائے جنہوں نے یہ شاہکار ہماری زبان میں منتقل کرکے ہم تک پہنچایا اور اُردو کے دامن کو اس عظیم خزانے سے مالا ما ل کیا۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔