تحریر: عمران اعوان 
پاؤلو کوئیلو دنیا بھر کے مشہور و محبوب ترین ادیبوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی تحریریں ایک الگ ہی طرح کے تجسس، نفاست اور زندگی کے بارے میں مثبت ترین رویے سے معمور ہوتی ہیں۔




ناول ’’الکیمسٹ‘‘ کا ٹائٹل

پاولو کوئیلو کا ناول ’’الکیمسٹ‘‘ جسے ان کا "Magnum Opus” کہا جاتا ہے، نہایت ہی دلچسپ و منفرد ہے۔ اس کا ترجمہ سید علاؤالدین نے اور دیگر مترجمین نے بھی کیا ہے۔تقریباً تمام ہی تراجم مزے کے ہیں۔
’’الکیمسٹ‘‘ کے تمام کردار اپنی اپنی جگہ کسی موزیک کے ٹکڑوں جیسے ہیں…… جو اپنی انرجی اگلے کردار کو کسی نا کسی طرح فراہم کر ہی دیتے ہیں۔
’’الکیمسٹ‘‘ سنٹیاگو، فاطمہ، الکیمی کی کھوج میں نکلا ہوا انگریز اور بلوریں شیشے فروخت کرنے والا دکان دار…… ناول کی فضا خواب و تکمیل پر قایم ہے۔ درمیان میں عشق و شوق کی منازل بھی ہیں۔ اگر آپ کو اپنے مقصد کی دھن ہو، تو سب سہل ہے…… وگرنہ سب کٹھن ہے۔بحیثیتِ مجموعی یہ رومانوی و متجسس فضا کا حامل ناول ہے۔
٭ کیا خواب پورے ہو پائیں گے؟
٭ کیا حاصل لاحاصل کی جگہ لے پائے گا؟
٭ کیا مثبت توانائی اتنی قوت رکھتی ہے کہ ہر ملنے والے ہر شخص کی زندگی بھی بدل ڈالے؟
٭ کیا مقصد کی کھوج انسان کو باقی سب کچھ سے بیگانہ کرسکتی ہے؟
٭ کیا جیتتے وہی ہیں جو کوشش کرتے ہیں؟
یہ سب سوال اور انہی سوالوں جوابوں میں لپٹی چراگاہوں، صحراؤں اور نخلستانوں سے معمور فضا اس ناول میں آپ کی منتظر ہے۔
اب ناول سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
٭ کیوں کہ کرۂ ارض پر یہی سب سے بڑی سچائی ہے۔ تم جو بھی ہو، یا تم جو بھی کرتے ہو، جب تمہیں کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے…… کیوں کہ وہ خواہش کاینات کی روح میں پیدا ہوتی ہے۔ زمین پر یہ تمہارا مشن ہے۔
٭ اگر تم نے شروع میں ہی ایک چیز کا وعدہ کیا جو تمہارے پاس نہیں ہے، تو پھر اس کے حصول کی خواہش ختم ہو جائے گی۔
٭ جب قسمت ہماری طرف ہو، تو ہمیں اس سے فایدہ اٹھانا چاہیے…… اور اس کی اتنی مدد کرو جتنی کہ وہ ہماری کرتی ہے۔ یہ مبارک اصول کہلاتا ہے یا کسی کام کو شروع کرنے والے کی قسمت۔
٭ اگر تم حال پر توجہ دوگے، تو ہمیشہ خوش رہو گے۔
٭ جب تم محبت میں گرفتار ہو، تو چیزوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
٭ محبت ایک شخص کو قسمت کے لیے جد و جہد سے کبھی نہیں روکتی۔ اگر وہ اس جد و جہد کو ترک کر دیتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ حقیقی محبت نہیں ہے۔
٭ خواب کی تعبیر سے پہلے دنیا کی روح ان تمام چیزوں کا ٹیسٹ لیتی ہے، جو تم اس راستے میں سیکھتے ہو۔ ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ یہ کوئی خرابی ہے بلکہ خوابوں کی تعبیر کے ساتھ ساتھ ہم جتنا بھی خوابوں کی جانب بڑھتے ہوئے سیکھتے ہیں…… ان اسباق کے ماہر ہوتے جاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جس کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد اسے چھوڑ دیتی ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے، جیسا ہم صحرا کی زبان میں کہتے ہیں کہ کوئی عین اس وقت پیاس سے مر جاتا ہے…… جب اسے سامنے کھجور کے درخت دکھائی دینے لگتے ہیں۔
٭ اور جب تم کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہو، تو پوری کاینات اس طرح مددگار ہوجاتی ہے کہ تم اسے حاصل کر لو۔
قارئین! یہ ناول آپ نے اگر نہیں پڑھا، تو مشورہِ شدید ہے کہ پڑھیے۔ پڑھ چکے ہیں، تو دوبارہ پڑھیے۔کیوں کہ طلسماتی فضا میں حقیقت کی گتھیاں کھولتا یہ ناول یقینا ایک شاہکار ہے۔ کوئیلو کے دیگر ناول بھی جیسے ’’وہ پانچواں پہاڑ‘‘، ’’گریہ بر کنارِ دریا‘‘، ’’دیوتا کی بیٹیاں‘‘ وغیرہ بھی شاہکار ہیں…… اور ناول کے شایقین کے لیے بہترین ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔