52 total views, 1 views today

تبصرہ نگار: ایچ اے ظفر 
صغیر ملال شان دار شاعر، افسانہ نویس اور ناول نگار ہیں۔ 50ء کی دہائی میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’انگلیوں پر گنتی کا زمانہ‘‘ منظر عام پر آیا…… اور اہلِ ادب نے انہیں بہت پذیرائی بخشی۔ انہوں نے علامتی اور تحریری افسانے لکھے۔
صغیر ملال نے جس مہارت اور سلیقے سے ان افسانوں کا اُردو میں ترجمہ کیا وہ قاری کو حیران کردیتی ہے۔ انہوں نے یورپ اور امریکہ کے مشہور افسانہ نگاروں کی بہترین کہانیوں کا انتخاب کیا ہے جو ’’بیسویں صدی کے عظیم افسانے‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا ہے۔
صغیر ملال وسیع النظر بھی ہیں…… اور وسیع المطالعہ بھی۔ یہ کتاب پڑھ کر اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ اعلا درجے کے نقاد بھی ہیں اور صاحبِ بصیرت بھی۔
صغیر ملال کی اُردو نثر کمال کی ہے۔ انہوں نے جس مہارت اور سلیقے سے ان افسانوں کا اُردو میں ترجمہ کیا…… وہ بھی قاری کو حیران کردیتی ہے۔ انہوں نے ان افسانوں کا اُردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ان کے تخلیق کاروں کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ یہ افسانے بڑے بڑے ادیبوں نے تحریر کیے ہیں…… جن میں ’’ٹالسٹائی‘‘، ’’جیک لنڈن‘‘، ’’الدٹکس کمہلے‘‘، ’’جوزف ہپلر‘‘، ’’فرانز کافکا‘‘، ’’جیمز جوایس‘‘، ’’ارنسٹ ہمینگوئے‘‘، ’’یاں یاں نے‘‘، ’’اونیری‘‘، ’’گراہم گرین‘‘، ’’ریمنڈ کاردر‘‘، ’’جین پال سارتر‘‘، ’’جیروم ویڈنین‘‘ اور دوسرے کئی ممتاز افسانہ نگار شامل ہیں۔
ان افسانہ نگاروں کا تعلق ’’روس‘‘، ’’امریکہ‘‘، ’’برطانیہ‘‘، ’’چیکو سلوواکیہ‘‘، ’’آیرلینڈ‘‘، ’’ہالینڈ‘‘، ’’میکسیکو‘‘، ’’کولمبیا‘‘، ’’برازیل‘‘ اور ’’فرانس‘‘ سے ہے۔
یعنی صغیر ملال نے ’’یورپ‘‘، ’’امریکہ‘‘، ’’لاطینی امریکہ‘‘ اور روس کے افسانہ نگاروں کا انتخاب کیا…… اور اس انتخاب کی داد دینی چاہیے۔ اکثر افسانوں کا کلائمیکس موت کی شکل میں برآمد ہوتا ہے…… لیکن بہرحال افسانہ نگار اپنے مشاہدے اور معروضی حالات کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اگر کچھ افسانوں میں غربت و افلاس کے اندھیرے ملتے ہیں، تو کچھ میں ایسے نفسیاتی کردار بھی ملتے ہیں…… جن سے قاری کے دل میں ان کے لیے بے پایاں ہم دردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
’’ٹالسٹائی‘‘ کا افسانہ ’’پیالہ‘‘، ’’جیک لنڈن‘‘ کا ’’الاؤ‘‘، ’’ارنسٹ ہمینگوئے‘‘ کا ’’روشن گاہ‘‘، ’’یاں یاں نے‘‘ کا ’’بھوک‘‘، ’’اوہنری‘‘ کا ’’بے گناہ‘‘ اور ’’جیروم ویڈین‘‘ کا ’’اندھیرا‘‘ قاری کو ہلا کے رکھ دیتے ہیں…… اور پھر کردار سازی بھی ایسی شان دار ہے کہ اس کی تحسین کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔
تقریباً ہر افسانے میں جزئیات کا خصوصی طور پر خیال رکھا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض قاری ان افسانوں کو پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچے کہ چوں کہ بیشتر افسانوں میں یاسیت، قنوطیت اور موت کے سائے ملتے ہیں، تو شاید صغیر ملال کی ذہنی ساخت بھی ان عوامل کے زیرِ اثر ہے، تاہم یہ ضروری نہیں۔ اب کافکا جیسے مشکل اور پیچیدہ افسانہ نگار کو سمجھنا اور اپنے آپ کو اس کے نظریات کے مطابق ڈھالنا (چاہے وقتی طور پر ہی سہی) کسی صورت آسان نہیں۔
ان افسانوں کا ایک اور وصف یہ بھی ہے کہ یہ زیادہ طویل نہیں۔ بعض تو بالکل مختصر افسانے ہیں…… لیکن اتنے مختصر بھی نہیں کہ آپ انہیں افسانچے کہہ سکیں۔ جیسے سعادت حسن منٹو کے افسانچوں کی مشہور کتاب ’’سیاہ حاشیے‘‘ ہے۔
اس طرح کوئی افسانہ اتنا طویل بھی نہیں کہ قاری کو اُکتاہٹ محسوس ہونے لگے۔
صغیر ملال نے اپنے آپ کو ایک اعلا درجے کا مترجم بھی ثابت کیا۔ خاص طور پر ’’الاؤ‘‘، ’’بھوک‘‘، ’’اندھیرا‘‘، ’’آئین‘‘، ’’بے گناہ‘‘، ’’مکڑی‘‘ اور ’’پیانو‘‘ میں ان کا یہ فن بھی اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔
صغیر ملال نے ایک اور زبردست کام کیا کہ ہر افسانے کے اختتام پر انہوں نے افسانے اور افسانہ نگار کے متعلق تبصرہ بھی کیا…… جو کہ فکر افروز ہے۔ اس میں قاری کے لیے بے حد معلومات ہیں۔ انہوں نے مختلف افسانہ نگاروں کے مشاہدوں کے بارے میں بالکل درست لکھا ہے۔ ہر افسانہ نگار مختلف زاویوں سے چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔
مجموعی طور پر صغیر ملال کی کتاب ’’بیسویں صدی کے افسانے ‘‘ ایک اعلا درجے کی کتاب ہے۔ اس کے مطالعے سے ادب کے قارئین کو مسرت ہوگی۔
اب صغیر ملال کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
اگر پڑ جائے عادت آپ اپنے ساتھ رہنے کی
یہ ساتھ ایسا ہے کہ انسان کو تنہا نہیں کرتا
ایسے کتنے ہی اشعار کہنے والے صغیر ملال 15 فروری 1951ء کو راولپنڈی کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔
ان کی شایع شدہ کتب میں اختلاف (شاعری، 1981ء) بے کار آمد (افسانے، 1989ء)، نابود (ناول)، آفرینش (ناول، 1985ء) انگلیوں پر گنتی کا زمانہ (افسانے) اور بیسویں صدی کے شاہکار افسانے (تراجم) شامل ہیں۔
صغیر ملال کی پوٹھوہار کے پہاڑوں میں آباد اوسط درجے کے زمیں داروں کے ہاں پیدایش ہوئی۔ کراچی یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ مطالعے کا شوق دیوانگی کی حد تک تھا۔ مشاہدے کی خاطر اندھی گلیوں اور اندھیرے لوگوں سے معانقہ کیے۔ ہمہ وقت مضطرب، تیراکی، جوگنگ، مرغ بازی، پتنگ بازی اور کتے پالنے کا شوق تھا۔
صغیر ملال پر اُردو کے ثقہ اور تجریدی ادب کا غلبہ ہے…… اور وہ ان ادیبوں میں شامل ہیں جو قارئین کی تعداد کی پروا نہیں کرتے۔ چند منتخب قارئین اور کبھی محض اپنا اطمینان ان کے لیے بہت ہوتا ہے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔