تبصرہ نگار: یاسر رضا آصف
’’یادِ مفارقت‘‘ مشرقی افریقہ کے لکھاری عبدالرزاق گرناہ کا شاہکار ناول ہے…… جس کا ترجمہ ’’سید سعید نقوی‘‘ نے سلیس انداز میں کیا ہے۔
ناول کا مرکزی کردار حسن ہے، جس کا باپ شراب میں اپنی ناکامیوں کو ڈبونے کی کوشش میں ہے…… اور ماں سسکیوں کے پیچھے اپنا آپ چھپاتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کی بہن بے راہ روی کا شکار ہے…… اور حسن یہ سب بدلنے کی فکر میں گھلا جاتا ہے۔




ناول ’’یادِ مفارقت‘‘ کا ٹائٹل پیج۔

ناول کا پلاٹ جنسی استحصال، تشدد اور گھٹن سے عبارت ہے۔ ساحلی پٹی پر واقع شہر میں مچھلیوں کی بدبو اور کیچڑ ہے۔ بازار تو ایک طرف…… عبادت گاہ سے لے کر تعلیمی ادارے تک ابتری کا شکار ہیں۔ وہاں کے شہریوں کی زندگی جینے کی اور جیتے رہنے کی کوشش میں کٹ رہی ہے۔
ناول میں غربت، بے بسی، بد عنوانی اور غنڈہ گردی مل کر، ایک پوسٹ کالونیل معاشرے کی زندہ تصویر کشی کرتے ہیں۔ مایوسی کے سیاہ پنکھ پورے معاشرے پر کسی ’’ایلین شپ‘‘ کی طرح چھائے ہیں۔ ہر شخص سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ چیختا ہے، چلاتا ہے اور جو یہ سب نہیں کرسکتا، وہ روتا اور سسکتا ہے۔ ایسے اندھیرے میں حسن کے ہاں محبت کا چراغ روشن ہوتا ہے۔
عبدالرزاق گرناہ نے یہ ناول متکلم صیغے میں لکھا ہے۔ اسلوب نہایت شان دار اور دلچسپ ہے۔ واقعات کا گھماؤ اور اچانک سے بدلاو پڑھتے رہنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ محبت کی داستان والے حصے میں لگتا ہے کہ طوفان تھم گیا ہے اور اب سب کچھ بہتری کی جانب رواں ہے…… مگر یہ سب قاری کا واہمہ ثابت ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر پُراثر اور عمدہ ناول ہے جسے کتاب سے محبت کرنے والوں کو کم ازکم ایک مرتبہ ضرور پڑھنا چاہیے۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔