طاہر جاوید مغل بھی اُردو ادب میں مسلسل لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ اُن کی پیدایش 4 نومبر 1955ء (لاہور) کی ہے۔ اُن کے لکھے ہوئے مجموعی صفحات کی تعداد ہزاروں میں ہے اور الفاظ کی تعداد تو لاکھوں سے بھی متجاوز ہوگی۔ اُن کا بنیادی میدان ناول، سفر نامہ، تاریخی اور سلسلہ وار کہانیاں ہیں۔ ٹی وی کے 5 ڈرامے بھی لکھے ہیں اور اُن کی شاعری کی کتاب بھی زیرِ ترتیب ہے۔ ’’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘‘ جیسے مصرعے کو پیش نظر رکھتے ہوئے منھ کا ذایقہ بدلنے کے لیے ناولٹ بھی لکھے۔ فوری طور پر دستیاب ہونے والا ناولٹ ’’جذبۂ دروں‘‘ (2003ء) ہے جو اُن کے افسانوی مجموعے ’’پرستش‘‘ میں شامل ہے۔
یہ ناولٹ ہلکے پھلکے رومانوی انداز میں ماضی کی طرف سفر کرتے ہوئے ایک رومان کا تذکرہ ہے جس میں وہ کینو کے چھلکے پر "Love”لکھنے کا طریقہ اپنے قارئین کو سکھاتے ہیں۔ ماضی کا ذکر ہم سب کے لیے خوش کن ہوتا ہے۔
’’پھر جب مَیں سامنے آجاتا، تو اُس کے ہر رنگ سے، ہر ہر انداز سے مسرت کا خاموش اظہار ہوتا جیسے وہ شمسی توانائی سے چلنے والا کوئی آلہ ہو اور میری نگاہیں سورج کی طرح اُسے توانائی فراہم کرتی ہوں۔ ان دنوں مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ وہ کالونی کے ایک گرلز ہائی سکول میں دسویں جماعت کی طالبہ ہے۔ اس کے دو چھوٹے بھتیجے ہیں جن کی عمریں 8 اور 12 سال کے درمیان ہیں۔ وہ نہایت پڑھاکو قسم کے طالب علم ہیں جس کا ثبوت نظرکی وہ عینکیں ہیں جو اُن کے چہروں پر نظر آتی ہیں۔ پھر ایک روز اپنے ایک پیارے دوست رضوی کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ اس کا نام عالیہ ہے۔ اس کے والد انکم ٹیکس کے محکمے میں ایک ایمان دار آفیسر تھے۔ شاید اسی لیے جلدی فوت ہوگئے۔ گاؤں میں اُن کی تھوڑی بہت زمین بھی تھی جس کی آمدن سے گزر بسر ہو رہی تھی۔‘‘
اور یہ بھی بیانیہ انداز ہی کا ناولٹ ہے جیسا کہ زیادہ صورتوں میں ہوتا ہے۔ ناولٹ کا ہیرو ندیم جو خود ادیب ہے۔ وہ عالیہ کو کچھ ملاقاتوں کے بعد خط لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ اُسے دو خط لکھ چکا ہے جس کا اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ عالیہ کا خط اُس کے گھر کے پتے پر آتا ہے اور پورا گھر اُسے کھلے خط کی طرح پڑھتا ہے۔ میل ملاقات بڑھنے کی بجائے ختم ہوجاتی ہے اور پھر عالیہ کی منگنی اور بعد ازاں شادی بھی ہو جاتی ہے۔
بچھڑیں جو ایک بار وہ ملتے نہیں کبھی
مگر ندیم اپنا گھر بنوانے مری جاتا ہے، تو اُسے عالیہ اپنے خاوند اکرام سمیت اتفاقیہ مل جاتی ہے۔ مری اور لاہور کی انارکلی جگہ ہی ایسی ہے…… جہاں بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں۔ اکرام مری کا معروف ٹھیکیدار ہے اور اُسے اپنے باپ دادا سے ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ ایک اچھی لایبریری بھی ملی ہے۔ ادیب کے طور پر اکرام اُسے احترام دیتے ہوئے اپنے دادا کے مسودات پر کام کرنے کو کہتا ہے۔ جنہیں وہ کتابی صورت میں شایع کرنا چاہتا ہے۔
’’نجانے کیوں میں خود کو مجرم محسوس کرنے لگا۔ مَیں جانتا تھا کہ عالیہ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ایسے غلط بھی نہیں تھے۔ مَیں راجہ اکرام کے گھر کیوں جاتا تھا؟ میاں شمس کی کہنہ سال کتاب، اکرام کی دوستی اور ادب نوازی تو بے معنی باتیں تھیں۔ اصل میں وہ عالیہ کا روشن ہیولا تھا…… جو مجھے اس چار دیواری کی طرف کھینچتا تھا۔ مَیں عالیہ کے قریب رہنا چاہتا تھا اور اُس کے قریب رہ کر یہ اُمید پالنا چاہتا تھا کہ شاید کسی وقت کوئی انہونی ہوجائے کہ مَیں عالیہ کے مزید قریب جا سکوں۔‘‘
دل بار بار کوئے ملامت کو جائے ہے
پندار کا صنم کدہ ویراں کیے ہوئے
عالیہ کو سنبھالنا اُس کے بس کا کام نہیں۔ معاملات بگاڑنے میں خود اُس کا قصور ہے۔ ندیم ایک روز تنہائی پا کر عالیہ کو چھونے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس کے ارادوں کی طرح اُس کی یہ کوشش بھی کم زور ثابت ہوتی ہے۔ عالیہ اُسے پرے کرنے کے لیے دھتکار دیتی ہے، تو وہ زینے سے پھسل جاتا ہے۔ اُس کی ریڑھ کی ہڈی پر شدید چوٹ آتی ہے اور اُسے علاج کے لیے انگلینڈ جانا پڑتا ہے۔ وہاں سال گزار کر آتا ہے، تو اُسے پتا چلتا ہے کہ عالیہ اور اکرام کی علاحدگی ہوچکی ہے۔ یہ اُسے عالیہ کی سہیلی مارگریٹ بتاتی ہے…… جو اُس ہوٹل کی استقبالیہ کلرک ہے…… جہاں ندیم ایک رات کے لیے اسلام آباد میں ٹھہرا ہے۔ وہ اُسے بتاتی ہے کہ عالیہ اب مری چھوڑ کر اسلام آباد ہی میں اپنی خالہ کے پاس رہتی ہے۔ ندیم کو وہ عالیہ کا نمبر اور پتا دیتی ہے۔ ندیم اپنے کمرے سے عالیہ کو فون کرتا ہے اور اُسے فوری طو رپر ملنے کے لیے بلاتا ہے۔
’’معلوم نہیں یہ جراتِ رندانہ تھی یا اس طویل جدائی کا ردِعمل جو مَیں نے عالیہ کے حوالے سے کاٹی تھی۔ میرے ہاتھ بے اختیار اُٹھ کر اُس کے شانوں پر آگئے۔ وہ ذرا سی ٹھٹھکی۔ پھر میرے بازوؤں میں بہہ کر میرے سینے سے آلگی۔ مَیں نے کبھی عالیہ سے نہیں کہا تھا کہ مَیں کوئی جوگی عاشق ہوں اور اُس سے بے لوث محبت کرتا ہوں۔ وہ ہوش رُبا گھڑیاں تھیں۔ کچھ دیر کے لیے ہم سب کچھ بھول گئے۔ شاید ہم ایک ’’جگ سا‘‘ کے دو ٹکڑے تھے، جنہیں فطرت نے اربوں کھربوں سال پہلے ایک دوسرے سے جدا کر دیا تھا۔ آج یہ ٹکڑے آپس میں مل رہے تھے۔ ان کے خطوط، پیچ و خم ایک دوسرے پر منطبق ہو رہے تھے۔‘‘
ندیم کا معکوسی رویہ عالیہ کو ایک ’’این جی اُو‘‘ بنانے پر مجبور کر دیتا ہے اور وہ ایک لے پالک بچی پنکی کی پرورش شروع کر دیتی ہے۔ ندیم پر ایک بار پھر اُس کی محبت کا دورہ پڑتا ہے۔ عالیہ اور ندیم کے درمیان محبت کی یہ آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔ ندیم، عالیہ کو ایک روز پھر جذباتی طور پر پگھلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
’’شب خوابی کا لباس کس بات کی علامت تھا……؟ وہ کیوں تھی اس لباس میں……؟ پھر میرے کانوں میں وہ فقرہ گونجا جو عالیہ نے کچھ دیر پہلے کہا تھا: ’’جو بھی کہنا ہے، ایک ہی بار کہہ لیں۔ بار بار آکر مجھے کانٹوں پر نہ گھسیٹیں۔‘‘ یہ کیسا فقرہ تھا……؟ کیا معنی پوشیدہ تھے اس میں……؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے! مَیں عالیہ کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا اور آج وہ سرد مہری بھی درمیان میں حایل نہیں تھی جو اچانک میرے وجود پر حملہ آور ہوتی تھی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اپنا ہر حقیقی اور تصوراتی نقصان نظرانداز کرکے عالیہ کو اپنانے کا حتمی فیصلہ کرچکا تھا۔ مَیں نے عالیہ کو قریب کیا، تو وہ سرتاپا خود سپردگی محسوس ہوئی۔ اُس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ میرے ہاتھوں میں موم کی طرح پگھل رہی تھی۔‘‘
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
ندیم، عالیہ سے شادی کا حتمی فیصلہ کر ہی لیتا ہے او راُسے سر پر ایز دینے کے لیے لندن سے شادی کے "Invitation Cards” پرنٹ کرواتا ہے۔ ندیم کے اوور سیز دوست اور اُس کے پرستار اُس کی شادی سے بہت خوش ہیں۔ اُسے عالیہ کو سرپرایز دینا مہنگا پڑجاتا ہے۔ عالیہ اُلٹا اُسے سرپرایز دیتے ہوئے اُس کے لیے اپنے گھر میں ایک خط چھوڑ جاتی ہے۔ وہ خط نہیں ایٹم بم ہے جس کے تاب کاری اثرات ندیم کی باقی ماندہ زندگی میں نہ صرف جاری رہتے ہیں بلکہ اُسے مسموم بھی کرتے رہتے ہیں۔ عالیہ اُس کی طرف سے کھیلا جانے والا چوہے بلی والا کھیل ختم کرتے ہوئے پنکی کو لے کر ملک سے باہر چلی جاتی ہے۔ عالیہ کا یہ آخری خط ایسا خط ہے جسے ندیم اپنی زندگی میں بارہا پڑھتا ہے او راس کی کسک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ اب یادیں ہی اُس کا سرمایہ ہیں۔
’’اب بھی میں لکھ رہا ہوں۔ رات آدھی گزر چکی ہے۔ کھڑکی کھلی ہے۔ ہوا کے جھونکوں میں کچھ بہت پرانی سرگوشیوں کی گونج ہے۔
’’مجھ سے شادی کرو گی؟‘‘
’’اونہوں!‘‘
’’اچھا اگر ہماری شادی ہوگئی، تو کیا کروگی ؟‘‘
’’آپ کے کپڑے استری کروں گی۔ آپ کے بوٹ پالش کروں گی۔ جب صبح آپ کام پر جائیں گے، تو آپ کی گاڑی صاف کروں گی۔‘‘
’’اور کیا کرو گی؟‘‘
’’آپ کے لیے کھانا بناؤں گی، آٹا گوندھوں گی، مسالا پیسوں گی، لہسن اور پیاز کاٹوں گی۔‘‘
’’اور کیا کرو گی؟‘‘
’’بابا! سب کچھ کروں گی جو کہیں گے کروں گی۔‘‘
’’وعدہ……!‘‘
’’ہاں ہاں!‘‘
او رپھر ندیم کی زندگی میں اور، اور، اور کی ناختم ہونے والی جھڑی لگ جاتی ہے۔ یہی اس ناولٹ کا اختتام بھی ہے یعنی انسان کسی بھی حال میں خوش نہیں رہتا۔ آسانی سے ملنے والی چیز کی قدر نہیں کرتا۔ آسان کام مشکل ہو جاتے ہیں۔ مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں یہی زندگی ہے! طاہر جاوید مغل نے یہ ناولٹ سوانحی اسلوب میں لکھا ہے مگر اسے صرف ایک ہی لڑکی کے تعلق سے جوڑے رکھا ہے۔ اس میں حقیقت نگاری بھی ہے اور لفاظی بھی۔ قاری کے لیے یہ ادبی مسرت اور حظ سے لب ریز ناولٹ ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔