’’سر! کوئی ابرہیم صاحب ہیں، خود کو آپ کے محلے داربتلا رہے ہیں۔‘‘
ملک جان دروازہ کھول کے گویا ہوا۔ مَیں نے آنے کا اشارہ کرکے سکرین کی طرف نظر دوڑائی، تو ریسیپشن پر ابراہیم صاحب کو دو بچوں کے ہم راہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کسی جاننے والوں کے بچوں کو ادارے میں داخل کرانے لایا ہوگا۔ کیوں کہ ابراہیم صاحب کے بچوں سے تو مَیں واقف تھا۔ مَیں اسی پیچ و تاب میں تھا کہ ابراہیم صاحب دروازے میں نمودار ہوئے :’’السلام علیکم! کیسے ہیں بھائی؟‘‘
’’وعلیکم السلام! ابراہیم بھائی…… کیسے آنا ہوا؟ ابھی رات ہی کو تو درسِ قرآن کے بعد آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ کوئی کام تھا، تو اُدھر ہی بتا دیا ہوتا…… تکلیف تو نہ ہوتی آپ کو!‘‘ مَیں نے مروت سے کام لیتے ہوئے ابراہیم صاحب کو خوش آمدید کہا۔
’’ارے نہیں، کلیم صاحب! یہ تو کام ہی ایسا تھا کہ مجھے لازماً آنا پڑا۔‘‘ ابراہیم صاحب جواباً گویا ہوئے ۔
’’جی فرمائیے، کیا خدمت کرسکتا ہوں آپ کی……!‘‘
’’کلیم صاحب ! (ابرہیم جھجکتے ہوئے بولے) یہ میرے مرحوم بھائی ’’مجیب‘‘ کے بچے ہیں۔ آپ کو تو پتا ہے کہ مجیب کے یوں اچانک انتقال کرنے کی وجہ سے ان کی ساری ذمے داری ہم پر آن پڑی ہے۔ آپ اور آپ کے خاندان نے ہمیشہ ہمارے محلے کے لوگوں کی مدد کی ہے۔ مَیں بہت امید لے کر ان کوآپ کے پاس لایا ہوں کہ ان بچوں کو اپنے ساتھ یتیموں کے کوٹے میں داخل کروادیں۔‘‘
مَیں اُن بچوں کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور ذہن کے پردے پر ابھی دو تین مہینے پہلے رونما ہونے والا واقعہ پردۂ سیمیں کی طرح جلوہ گر ہوا۔ مجیب واپڈا میں لاین مین تھا اور ہمارے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتا تھا۔ چوں کہ ہمارا ادارہ یتیموں کا کل وقتی ادارہ ہے۔ سو بچوں کی تعداد زیادہ ہونے کی بنا پر ہم نے نئے کمرے بنوائے…… اور اس کے لیے نیا بجلی کا میٹر لگوانے کی خاطر ہم نے داخلہ کررکھا تھا۔ مجیب کو ہمارے ادارے کا پتا نہیں تھا۔ لہٰذا میٹر لگوانے سے پہلے منظوری والے انسپکشن کے لیے آتے۔ ساتھ ہی اس نے اکاؤنٹینٹ سے پانچ سو روپے بخشش مانگی۔ اکاؤنٹینٹ میرے پاس پیسوں کی ادائی کی اجازت لینے آیا، تو مَیں نے کیمروں کی فوٹیج والی سکرین میں دیکھا کہ یہ تو ہمارے محلے کا مجیب ہے۔ مَیں نے مجیب کو اپنے کمرے بلا کر چائے وغیرہ پلائی اور اس سے پیسوں کی بابت پوچھا، تو اس نے معذرت کے ساتھ کسی بھی قسم کے پیسے لینے سے انکار کردیا اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔ مَیں نے اسے بتایا کہ چوں کہ یہ یتیموں کا ادارہ ہے، لہٰذا ہم اخراجات کے حوالے سے بہت احتیاط برتتے ہیں۔ یوں وہ وعدہ وعید کرکے چلا گیا کہ ’’مَیں مُثبت رپورٹنگ کرکے میٹر لگوانے کی سفارش کروں گا۔‘‘ ہم مطمئن ہوگئے کہ چلو بغیر کسی رد و کد کے آسانی کے ساتھ معاملہ حل ہوگیا۔
کچھ دن بعد جب سکول کا ذمے دار بندہ میٹر کی بابت پوچھنے بجلی کے دفتر گیا، تو وہاں اُسے بتایا گیا کہ لاین مین نے منفی رپورٹنگ کی ہے اور میٹر نہیں لگ سکتا۔ جب اس بات کا پتا چلا، تو میرا خون کھول اُٹھا اور نماز کے بعد بالجہردعا مانگتے ہوئے میرے منھ سے نکل گیا کہ اے اللہ! جو کوئی ان یتیم بچوں کا خیال نہیں رکھتا اور بجلی کی بابت ان کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے، تو ہی اسے پوچھ لے۔ سب بچوں نے ’’آمین‘‘ کہا۔
نتیجتاً مجیب کچھ عرصہ بعد ہی کرنٹ لگنے سے مرگیا اور آج یہ منظر میرے سامنے تھا کہ اُسی ادارے میں مجیب کے بچوں کو داخل کروانے کے لیے لایا گیا تھا۔ مَیں امید و بیم کی ملی جلی کیفیت میں ان بچوں کو تکتا رہا اور سوچتا رہا کہ اب ان کی تعلیم اور سہولیات کے لیے کس کس سے رابطہ کروں گا؟
مغرب کے بعد کبھی کبھی دعا مانگتا ہوں کہ اے اللہ! جو لوگ ہمارے ساتھ اس بڑے بوجھ کو اٹھانے میں تعاون کرتے ہیں، تُو ہی ان کے ساتھ تعاون فرما اور جو آسانی پیدا کرتے ہیں، تُو ان کے ساتھ آسانی کا معاملہ فرما…… جو نادانستہ مشکلات کا باعث بنتے ہیں، ان کو ہدایت دے اور جو دانستہ پراپیگنڈا کرتے اور مشکلات پیدا کرتے ہیں، ان کو اپنے معاملات میں ایسے پھنسا دے کہ ہماری جان چھوٹ جائے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔