میری یہ تحریر مشہور یونانی فلسفی ارسطو کی کتاب ’’بوطیقا‘‘ کے اُردو ترجمہ کے حوالے سے ہے۔ یہ اُردو ترجمہ شمس الرحمان آفاقی نے کیا ہے۔
’’بوطیقا‘‘ کا یہ ترجمہ "S.H. BUTCHER” کے انگریزی ترجمے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے…… لیکن درجِ ذیل تراجم بھی سامنے رکھے گئے ہیں۔
’’سینٹس بری‘‘ (SAINT SBURY) نے اپنی کتاب "LOCI CRITICI” (لندن 1903ء) میں بوطیقا کا تقریباً مکمل ترجمہ مختصر حواشی کے ساتھ کیا ہے۔ اس ترجمے میں اس نے بوطیقا کے اولین انگریز مترجم ’’ٹوائننگ‘‘کے حتی الامکان اتباع کے ساتھ اپنے اجتہاد کو بھی راہ دی ہے اور "BUTCHER” سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ترجمہ نہایت سلیس اور حواشی باریک بینی سے مملو ہیں۔
عزیز احمد کا ترجمہ ( انجمنِ ترقیِ اُردو 1941ء) اس کا دیپاچۂ اول مفصل اور دلچسپ ہے۔ بعض حواشی کارآمد ہیں۔
’’ٹی ایس ڈورش‘‘ (T.S. DORSCH) کا ترجمہ قدیم ادبی تنقید نامی کتاب (پنگوئین 1965ء) میں شامل ہے۔ بالکل جدید زبان میں ہے۔ مختصر لیکن حل مشکلات کے لیے کار آمد ہیں۔
محمد یاسین: کلاسیکی مغربی تنقید ( انجمنِ ترقیِ اُردو 1975ء) یہ ترجمہ بائی واٹر کے مشہور ترجمے کی بنیاد پر ہے…… لیکن الجھا ہوا اور کہیں کہیں سے نامکمل ہے۔
جان وارنگٹن کا ترجمہ (ایوری مینس لایبریری 1963ء) بھی سلیس ترجمہ ہے۔ حواشی بہت عمدہ ہیں۔
’’ڈی ڈبلیو لیوکس‘‘ کی "POETICS” (آکسفورڈ 1968ء) اس میں متن یونانی ہے…… لیکن بہت مفصل شرح اور حواشی انگریزی میں ہیں۔
زیرِ نظر ترجمے میں بھی نہ تو محض خیال کو اپنے لفظوں میں ڈھال دیا ہے اور نہ لفظی ترجمہ کیا گیا ہے…… بلکہ ترجمہ اور ترجمانی دونوں کی کوشش کی گئی ہے۔ کبھی اہم مقامات پر "BUTCHER” اور دوسروں سے اختلاف نظر آیا، تو عبارت ایسی بنانے کی سعی کی ہے جو "BUTCHER” کا مطلب ادا کرنے کے ساتھ اختلافی ترجمے کو بھی محیط ہو۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔