64 total views, 1 views today

والٹیئر کہتا ہے کہ آپ کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ جب سے دنیا بنی ہے، وحشی نسلوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں کی حکمرانی رہی ہے۔ کیوں کہ خیالات و نظریات اور علوم کو محض تصورات میں محفوظ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے کتاب ایک بہترین ذریعہ ہے۔
کتابوں کا انتخاب، ذہنی شعور اور پختگی کا معیار ظاہر کرتا ہے۔ کتاب ایک بہترین تحفہ ہے۔ فارغ اوقات میں یہ آپ کا بہترین ساتھی اور دوست ہوتا ہے۔ بہترین کتاب کا تحفہ بھیجنا ایک شخص کی طرف سے کسی دوسرے شخص سے سچی اور پُرخلوص دوستی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔
ابھی کل شام ’’سر شاہد عزیز صاحب‘‘ کی طرف سے بھیجا جانے والا بہترین کتابی تحفہ ’’اشپاتا‘‘ (امن اور محبت کی دھرتی چترال کالاش کے سفر) بدستِ ’’سر حنیف زاہد صاحب‘‘ مجھے ملا۔ شاہد عزیز صاحب نہ صرف ایک کتاب دوست انسان ہیں…… بلکہ ایک سینئر ٹورسٹ ، بہترین ٹریکر اور ’’سر مستنصر حسین تارڑ صاحب‘‘ کے دیرینہ ساتھی بھی ہیں۔




کتاب ’’اشپاتا‘‘ کا ٹائٹل (فوٹو: خالد حسین)

کہتے ہیں کہ پارس، پتھر کو بھی چھو جائے تو وہ سونا بن جاتا ہے۔ سر شاہد عزیز صاحب کی شخصیت کسی پارس سے ہرگز کم نہیں۔ اس کتاب کے ساتھ ان کے ہاتھوں کا لمس بھی مجھ تک پہنچا ہے۔ اسی لیے تو اس کی قدر و منزلت میرے نزدیک کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ پتھر کیا…… بلکہ ہم تو ایک کوئلہ ہیں۔ ان کے لمس کی طاقت نے ہمیں بھی چمکا دیا ہے۔
وہ گاہے بہ گاہے مختلف کتابیں بھیج کر مجھے اور مختلف دوستوں سے اپنی بے پایاں محبت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کا انتخاب ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ ان کا انتخاب یہ کتاب بھی یقینا ایک ’’بہترین کتاب‘‘ ہوگی۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات میری بھی دلچسپی میں شامل ہیں۔ مَیں بھی ان کا ایک ادنا سا عاشق ہوں۔ 57 سال کا ہوگیا ہوں۔ لڑکپن سے لے کر آج تک ہر سال کم از کم ایک دفعہ وہاں جانا میری ترجیحات میں شامل رہا ہے ۔
وادیِ کیلاش بھی تین چار بار جا چکا ہوں۔ آخری بار 2013ء میں گیا تھا۔ جب کہ پہلی بار 1990ء کی دہائی میں لواری پاس کے پار اتر کر کیلاش گیا تھا۔ جہاں پر ’’بمبوریت‘‘ میں فرنٹیئر ہوٹل میں جا کر ٹھہرا تھا۔ اس وقت سے لے کر جب بھی کیلاش گیا۔ اسی ہوٹل میں جا کر رکا۔ بابا شکر ولی اور ان کے بڑے بھائی زر ولی اور پھر بابا شکر ولی کے بچوں حسین اور اخلاق سے دوستی بن گئی…… بلکہ ایک بار تو ان بچوں کے ساتھ بمبوریٹ دریا کے ساتھ ساتھ چل کر نورستان (افغانستان) کی طرف کافی دور تک گیا۔ شیخاں دیہہ سے لے کر بھگٹ تک جیپ پر (جہاں تک یہ جیپ ٹریک جاتا تھا) اور پھر اس سے آگے پیدل چل کر دریا کے ساتھ ساتھ کافی آگے تک گیا تھا۔ پھر افغانستان میں طالبان کی حکومت آگئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالات ابتر ہوتے گئے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے ان راہوں پر پہرے بٹھا کر آگے جانے سے روک دیا گیا۔
میرے لیے یہ کتاب خصوصی دلچسپی کی حامل ہے۔ کیلاشی رہن سہن، تہذیب و تمدن، مذہب، معاشرت ان کی رسم و روایات، اس علاقے میں ان کی آمد میری بھی دلچسپی میں شامل ہیں۔
اُمید ہے کہ یہ نادر تحفہ میرے لیے ایک بہترین ساتھی اور مددگار ثابت ہو گا۔
مَیں ان سطور کے ذریعے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا سر شاہد عزیز صاحب کا کہ آپ نے بندۂ ناچیز کو یاد رکھا…… اور اس قیمتی، لاجواب اور نادر تحفے سے نوازا۔
سر عظیم اللہ میو صاحب کا بھی دلی شکریہ۔ انہوں نے اس عجوبہ خطہ کے لوگوں کے رہن سہن اور طرزِ معاشرت پر مغز کھپائی کر کے قلم آزمائی کی۔ قوی امید ہے کہ اس علاقے کے متعلق اس کتاب میں میرے اور دوستوں کے بہت سے سوالوں کے جواب ہوں گے۔
یہ تو تھی کتاب ملنے اور اس کے ساتھ یادوں کے چڑھتے دریا کی کہانی، کتاب پر تبصرہ پھر کبھی سہی۔ بقولِ ناصرؔ کاظمی
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
یار زندہ صحبت باقی!
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔