ترجمہ نگار: توقیر بُھملہ 
ایک دفعہ ایک چالاک اور دھوکے باز شخص نے کہیں سے ایک گدھا چوری کیا اور اسے فروخت کرنے کے لیے قریبی بازار لے گیا۔ بازار جانے سے پہلے اس نے گدھے کے منھ میں اشرفیاں ٹھونس کر کپڑے سے اچھی طرح بند کر دیا۔
بازار کی پُرہجوم جگہ پر کھڑے ہوکر اس نے گدھے کے منھ سے کپڑا ہٹا دیا…… جیسے ہی کپڑا ہٹا گدھے کے منھ سے اشرفیاں نکل کر زمین پر گرنے لگیں۔ سکوں کی چھنکار سن کر لوگ متوجہ ہوگئے…… اور حیران ہوکر پوچھنے لگے کہ گدھے کے منھ سے سکے وہ بھی سونے کے……! یہ کیا ماجرا ہے؟ دھوکے باز کہنے لگا، بھائیو! یہ ایک عجیب و غریب گدھا ہے۔ مَیں اس سے بہت تنگ ہوں۔ مَیں جب بھی پریشان یا اداس ہوتا ہوں، تو دن میں ایک بار اس کے منھ سے سونے کی اشرفیاں گرنے لگتیں ہیں۔ اب تو میرے گھر میں اشرفیاں رکھنے کی جگہ بھی نہیں بچی۔ اس لیے مَیں چاہتا ہوں کہ اسے کوئی ضرورت مند اور جانوروں سے پیار کرنے والا تاجر خرید لے۔ لوگوں نے اشرفیاں گرتی ہوئی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تھیں…… اور باقی کا قصہ سن کر ہر کسی کی خواہش یہی تھی کہ یہ گدھا جتنے میں بھی مل جائے سستا ہے۔ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بولیاں لگاتے ہوئے آخرِکار ایک بڑے تاجر نے خطیر رقم کے عوض اسے خرید لیا۔ فروخت کرنے والے نے، رقم اور زمین پر گرے ہوئے سکے سمیٹے اور گھر چلا گیا۔
جس تاجر نے گدھا خریدا تھا، وہ فخر سے گردن اکڑائے ہوئے چل رہا تھا اور اہلِ قریہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچ گئے۔ سارے لوگ مل کر اُداس اور پریشان شکلیں بنا کر گدھے کے اِرد گرد بیٹھ گئے۔ لوگ گھنٹوں بیٹھ کر انتظار کرتے رہے…… اور بالآخر وہ سچ مچ پریشان ہوگئے۔ اس دوران میں گدھا جو کب سے بھوکا تھا، اس نے خوب چارہ کھایا مگر ایک سکہ تک نہ گرا۔آخر وہاں سے کسی دانا کا گزر ہوا۔ اس نے بتایا کہ تمھارے ساتھ دھوکا ہوچکا ہے۔ اس سے پہلے کہ فروخت کرنے والا بھاگ جائے…… فوراً اس دھوکے باز کو پکڑو۔
وہ تاجر اور اہلِ قریہ اکٹھے ہو کر جب اس دھوکے باز کے گھر کے باہر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹا کر اس کے متعلق استفسار کیا، تو اندر سے اس دھوکے باز کی بیوی نے کہا کہ وہ تو کہیں کام سے دوسرے گاؤں گئے ہوئے ہیں۔ آپ باہر ہی انتظار کریں۔ میں اپنا پالتو کتا بھیجتی ہوں۔ یہ جاکر انہیں آپ کے متعلق بتائے گا اور انہیں ہر صورت ساتھ بھی لے کر آئے گا۔
لوگ دلچسپی سے دیکھنے اور سوچنے لگے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کتا اپنے مالک کو گھر لائے؟ دراصل اس چالاک شخص نے جب دیکھا کہ تمام لوگ اس کے گھر کے باہر جمع ہیں، تو اس نے اپنی بیوی کو کتے والی پٹی پڑھائی۔ گھر میں پہلے سے بندھے ہوئے کتے کو آزاد کیا اور خود گھر کی پچھلی سمت سے چپکے سے نکل گیا۔ دور جاکر اس نے کتے کو پکڑ لیا اور اس کے ساتھ واپس گھر کی طرف چل دیا۔
تھوڑی دیر گزری، تو لوگوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہی شخص جس نے گدھا فروخت کیا تھا…… اسی کتے کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا آرہا تھا۔ اب سارے لوگ یہ بات بھول کر کہ وہاں کیوں آئے ہیں؟ کتے کے متعلق پوچھنے لگے کہ یہ کتا تو بڑے کام کا ہے، بتاؤ یہ کتنے کا ہے؟ اسے تو ہر صورت خریدنا ہوگا۔ اُس دھوکے باز اور چالاک شخص نے پہلے تو انکار کیا لیکن بعد میں اچھے دام ملنے پر وہ کتا اسی ہجوم میں سے ایک دوسرے تاجر کو فروخت کردیا۔
اب لوگ ٹولی کی شکل میں صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ کتا گھر سے گئے ہوئے شخص کو کیسے واپس لے کر آتا ہے، اُس تاجر کے ساتھ چلتے گئے۔ تاجر نے گھر جاکر غلام کو کہا کہ تم ساتھ والے گاؤں جاؤ، تاکہ کتا تمھیں ڈھونڈ کر واپس لے آئے۔ غلام جیسے ہی دوسرے گاؤں پہنچا، وہاں سے بھاگ نکلا اور کتا بھی کہیں دور چلا گیا جو واپس نہ آیا۔جب غلام اور کتا دونوں واپس نہ آئے، تو لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ ایک بار پھر ہمارے ساتھ دھوکا ہوگیا ہے۔
وہ دوبارہ اکٹھے ہوکر جب اسی دھوکے باز کے گھر گئے، تو وہ ایک بار پھر گھر کے پچھلے خفیہ دروازے سے بھاگ نکلا اور اس کی بیوی کہنے لگی کہ وہ ساتھ والے گاؤں کسی کام سے گئے ہوئے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ آج ہم اس کا گھر کے اندر بیٹھ کر انتظار کریں گے…… اور یوں دونوں تاجروں سمیت اِرد گرد کے تمام لوگ اس کے گھر میں بیٹھ گئے۔ کافی دیر جب گزر گئی، تو وہی دھوکے باز گھر میں داخل ہوا اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے ان کے سامنے جھک جھک کر آداب بجا لانے لگا۔ بیوی سے پوچھنے لگا کہ میرے خاص مہمانوں کی تکریم میں تم نے کیا کیا؟ ان مہمانوں کو کچھ کھانے پینے کو دیا یا بھوکا ہی بٹھایا ہوا ہے؟ وہ لوگ دل ہی دل میں شرمندہ ہونے لگے کہ ہم جسے دھوکے باز سمجھ رہے ہیں…… وہ تو بڑا سخی اور مہمان نواز بندہ ہے۔ اس کی بیوی نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ان فضول اور فالتو لوگوں کو کون اپنا مہمان بناتا ہے؟ مَیں نے تو انہیں پانی تک نہیں پوچھا۔ یہ سن کر وہ شخص غصے میں پاگل ہوگیا اور جیب سے ایک خنجر نکال کر بیوی کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ فوراً لہو بہہ نکلا اور اور اس کی بیوی لہرا کر نیچے فرش پر گر پڑی۔ وہاں بیٹھے ہوئے لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے کہ ہمارے پیسوں کو تو رہنے دو…… لیکن ہمارے لیے اپنی بیوی کو قتل کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟ وہ چالاک اور دھوکے باز کہنے لگا، آپ لوگ فکر نہ کرو یہ ہمارا روزانہ کا کام ہے۔ میں اسے غصے میں آکر قتل کردیتا ہوں، تو دوبارہ اس سینگ سے زندہ بھی کردیتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے اس نے دیوار پر ٹنگے ہوئے کسی جانور کے بڑے سے سینگ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر وہ سینگ اتارا اور مری ہوئی بیوی کے پاس بیٹھ کر سینگ کو منھ میں دبا کر سپیروں کی طرح جھوم جھوم کر پھونک مار کر بجانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہی مقتولہ جو کچھ دیر پہلے سب کے سامنے خنجر کے وار سے ہلاک ہوچکی تھی، اپنے زخم پر ہاتھ رکھے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ تمام لوگ حیرت زدہ رہ گئے…… اور ایک بار پھر وہ سب یہ بات بھول کر کہ یہاں کیوں آئے ہیں…… سینگ کو خریدنے کے درپے ہوگئے۔ دھوکے باز نے بولی بڑھانے کی خاطر کہنا شروع کردیا کہ یہ طلسماتی سینگ پوری دنیا میں ایک ہی ہے…… جو صرف میرے پاس ہے۔ مَیں اسے کسی بھی قیمت پر فروخت نہیں کروں گا۔ کرتے کرتے ایک بڑے تاجر نے سب سے زیادہ رقم ادا کرکے وہ سینگ خرید لیا…… اور سینگ خرید کر وہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
جس نے سینگ خریدا تھا، کہنے لگا: ’’مَیں جو اپنی بیوی کی چخ چخ سے تنگ ہوں۔ آج اگر اس نے لڑائی کی، تو مار دوں گا اور رات سکون سے گزار کر صبح سینگ کی مدد سے زندہ کرلوں گا۔‘‘ لیکن درحقیقت اس دھوکے باز نے جب اپنے گھر کے باہر لوگوں کا اکٹھ دوبارہ دیکھا، تو فوراً منصوبہ بنا کر اس میں اپنی بیوی کو شامل کرلیا۔ لال رنگ کو ایک تھیلی میں ڈال کر بیوی کے کپڑوں میں چھپا دیا۔ پھر ایک خنجر لیا جس کے دستہ میں خفیہ خانہ اور ایک بٹن تھا جس کو دبانے سے خنجر کا پھل اپنے دستے میں غایب ہوجاتا تھا اور ایک پرانا بے کار سینگ لے کر دیوار پر ٹانک دیا اور خود گھر کے خفیہ رستے سے نکل کر تھوڑی دیر روپوش رہ کر واپس آگیا، اور پھر بیوی کو زندہ کرنے کا ڈراما رچا کر بے کار سینگ فروخت کردیا تھا۔
اب جس نے سینگ خریدا، تو جیسے ہی گھر پہنچا، تو اس کی بیوی نے حسبِ معمول لڑائی شروع کردی۔ اس نے بے فکر ہو کر خنجر نکالا اور بیوی کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ نتیجتاً خون نکلا۔ وہ تڑپی اور ٹھنڈی ہوگئی۔ اس نے اُٹھا کر کمرے میں لٹا دیا اور پوری رات ایسے ہی رہنے دیا۔ صبح اُٹھ کر اس نے بہتیرا سینگ کو مختلف طریقوں سے بجایا مگر وہ تو مردہ ہوچکی تھی۔ دھیرے دھیرے اُسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہونے لگا۔ وہ پچھتاوے کے احساس کے ساتھ گھر سے نکلا، تو باہر تمام لوگ اس کے منتظر تھے کہ پتا کریں رات کیا بیتی اور سینگ نے کیا کمال دکھایا؟ وہ شخص دکھ اور شرمندگی کو چھپانا چاہ رہا رہا تھا…… مگر کچھ لوگوں نے جب اصرار کیا، تو اصل بات اگلوا ہی لی۔اب کی بار انہوں نے پکا ارادہ کر لیا کہ اس نوسرباز کی کسی بات میں نہیں آنا…… اور اس کو دیکھتے ہی قابو کرکے ایک بوری میں بند کرکے سمندر برد کر دینا ہے۔ سب نے اس پر اتفاق کیا۔
یوں ایک بار پھر وہ لوگ اکٹھے ہوکر اس دھوکے باز کے گھر پہنچے اور اندر جاکر اسے قابو کرلیا اور بڑی سی بوری میں ڈال کر سمندر کی طرف چل دیے۔ سمندر وہاں سے کافی دور تھا۔ بوری میں بند دھوکے باز شخص کو باری باری اٹھاتے ہوئے وہ سب لوگ تھک گئے تھے۔ سمندر سے نصف فاصلے پر پہنچ کر انہوں نے کہا کہ تھوڑی دیر سستا لیتے ہیں۔ اس کے بعد آرام سے اسے پانی میں پھینک دیں گے۔ وہ لوگ تھکے ہوئے تھے۔ اس لیے جیسے ہی آرام کرنے کے لیے رُکے، تو انہیں نیند نے آلیا اور وہ بے فکر ہو کر سوگئے۔ بوری میں بند شخص نے بھوک اور پیاس سے بے حال ہوکر چیخنا چلانا شروع کردیا…… مگر وہ تمام لوگ تو خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ اسی اثنا میں وہاں سے ایک چرواہے کا گزر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ لوگوں کا جم غفیر آڑھا ترچھا ہوکر سو رہا ہے اور ایک طرف پڑی بوری سے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی ہیں۔ اُس نے بھیڑ بکریوں کو ایک طرف کھڑا کیا اور آگے بڑھ کر جب بوری کھولی، تو اس نے دیکھا کہ اس کے اندر تو کوئی شخص بند ہے۔ چرواہے نے پوچھا کہ ایک شخص تو کون ہے…… یہ ارد گرد سوئے ہوئے لوگ کون ہیں اور تجھے بوری میں کیوں بند کیا ہوا ہے…… یہ ماجرا کیا ہے؟
دھوکے باز نے کہا، سنو یہ تمام لوگ میرے خاندان کے ہیں۔ یہ میری شادی سمندر پار ایک شہزادی سے زبردستی کرانا چاہتے ہیں…… مگر مجھے مال و دولت کی ذرا بھی ہوس نہیں۔ مَیں تو اپنی چچا زاد لڑکی سے محبت کرتا ہوں۔ چرواہا اس کی باتیں سن کر بڑا متاثر ہوا اور کہنے لگا، بتاؤ! کیا میں تمھارے کسی کام آسکتا ہوں؟ دھوکے باز کہنے لگا، ہاں ہاں……! کیوں نہیں۔ تم میری جگہ اس بوری میں آجاؤ اور جب شہزادی کے سامنے بند بوری کھلے گی، تو پھر اس کا تم سے شادی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ چرواہا یہ سن کر خوش ہوگیا اور ہنسی خوشی اس دھوکے باز کی جگہ بوری میں بند ہوکر بیٹھ گیا۔ دھوکے باز نے وہاں سے چرواہے کی بھیڑ بکریوں کو ساتھ لیا اور واپس اپنے گھر آگیا۔
وہ لوگ جب نیند سے بیدار ہوئے، تو انہوں نے بوری کو اُٹھایا اور چلتے چلتے آخرِکار سمندر میں پھینک دیا…… اور مطمئن ہوکر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔
اگلے دن انہوں نے دیکھا کہ دھوکے باز شخص کے گھر کے باہر تین چار سو کی تعداد میں بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی ہیں۔ وہ بڑے حیران ہوکر جب وہاں گئے، تو دیکھا کہ جس کو سمندر میں پھینک کر آئے تھے…… وہ تو گھر میں بیٹھا اپنی بیوی سے گپیں لڑا رہا ہے۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ ہم نے تو تمھیں کل سمندر میں پھینکا تھا۔ آج تم صحیح سلامت اپنے گھر میں ہو اور باہر بھیڑ بکریوں کا ریوڑ بھی ہے؟
وہ دھوکے باز شخص کہنے لگا، جب تم لوگوں نے مجھے سمندر میں پھینکا، تو وہاں سے ایک جل پری نمودار ہوئی اور وہ مجھے اپنے ساتھ زیرِ سمندر بنے گھر میں لے گئی۔ وہاں ہیرے جواہرات اور موتیوں سے بنے ہوئے بے شمار محل اور ہزاروں کی تعداد میں مال مویشی تھے ۔ جل پری نے مجھے مہمانوں کی طرح رکھا اور میری خوب خاطر مدارات کی۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی اور وہاں کا حاکم بنانا چاہتی تھی…… مگر جب مَیں نے کہا کہ میری پہلے سے ایک بیوی ہے اور مَیں اپنے گھر جانا چاہتا ہوں، تو اس نے کہا کوئی بات نہیں اور اپنی طرف سے بھیڑ بکریوں کا تحفہ دے کر کہنے لگی کہ اگر تمھارے علاقے میں کوئی ایسا ہوا جو یہاں کی جل پریوں سے شادی کرکے یہاں عیش و عشرت کی زندگی گزارنا چاہتا ہو، تو اسے یہاں لے آنا۔ یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہاں آئے ہوئے تمام بوڑھے اور جوان کہنے لگے، ہم وہاں جانا چاہتے ہیں اور وہاں جاکر حاکم بننا چاہتے ہیں۔ اس دھوکے باز شخص نے جواباً کہا کہ تم تو صرف چند افراد ہو۔ اگر اس قصبے کے تمام لوگ بھی وہاں چلے جائیں، تو پھر بھی کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قصبے کے ہر شخص کو اپنے ساتھ جانے کے لیے راضی کرلیں گے۔ دھوکے باز نے کہا، ٹھیک ہے۔ کل صبح کے وقت سمندر کے کنارے ہر شخص اپنے لیے ایک بوری اور ایک رسی لے کر پہنچ جائے اور وہاں پہنچ کر ہر شخص ایک دوسرے کو بوری میں بند کرنے میں مدد کرے گا۔
یوں اگلے روز صبح کے وقت دھوکے باز شخص نے سب کو بوری میں بند کیا اور اپنی بیوی کی مدد سے تمام بوریوں کو سمندر میں پھینک دیا۔ اس کے بعد وہ بے وقوفوں کے قصبے کا تنِ تنہا مالک بن گیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔