’’ندرت‘‘ (1966ء) کے ٹایٹل پر بریکٹ میں ’’نفسیاتی ناول‘‘ لکھا گیا ہے جو کہ ناولٹ کے قاری کو گمراہ کرنے کی روایتی کوشش ہے۔
ناولٹ: ’’ندرت‘‘ کا پیش لفظ جو مصنف ابنِ حیات نے لکھا ہے…… نہ صرف قاری کی دونوں آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے…… بلکہ اس کی باطنی آنکھ بھی کھلے بغیر نہ رہ پائے گی۔
ابنِ حیات نے مختصر ترین الفاظ میں بہت گہری بات کر دی ہے۔
’’پیش لفظ ‘‘ دس…… ناولوں کے بعد یہ میرا پہلا ناولٹ ہے جو ناشر نے ڈنڈے کے زور سے لکھوا لیا ہے۔ دسواں یعنی ’’کوثر‘‘ 1963ء میں چھپا تھا۔ اور اب تین سال بعد یہ ناولٹ حاضر ہے۔ لیکن آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ناولٹ لکھنے میں تین برس صرف ہوئے…… بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ اس ناولٹ کے لکھنے کے بارے میں لاڈلے ناشر سے دو سال گیارہ ماہ جھگڑا ہو تارہا، اور ایک ماہ میں ناولٹ تیار کرنا پڑا۔ اگر کوئی غلطی ہو، تو میری نہیں، ناشر کی طرف رجوع فرمائیں ۔ ‘‘
ندرت ناولٹ کا ہیر و آفتاب ایم اے نفسیات ہے جو 1966ء کے زمانے میں بڑی قابلِ قدر ڈگری سمجھی جاتی تھی۔ پھر وہ لندن سے ایک سالہ ایڈوانس کورس بھی کرلیتا ہے نفسیات میں۔ اور اُسے وہاں کئی پُرکشش نوکریوں کی پیشکشیں ہوتی ہیں…… مگر وہ مملکتِ خداداد ِ پاکستان کی خدمت کا چھلکتا ہوا جذبہ لے کر پاکستان لوٹ آتا ہے۔
آفتاب پڑھے لکھے خوشحال ماں باپ کا بیٹا تھا اور اس سے دو سال چھوٹی بہن رضیہ بھی تھی جو بی اے کر چکی تھی۔
آفتاب کو نوکری کی جو آفرز آتی ہیں، وہاں وہ سفارش مانگتے ہیں۔ اس دورا ن میں اُسے ایک نواب راجہ مسعود خان کا خط موصول ہوتا ہے…… جو دو ہزار روپے ماہوار پر اس سے اپنی بیٹی کا نفسیاتی علاج کروانا چاہتا ہے۔ راجکوٹ سٹیشن پر نواب راجہ مسعود خان کا بھانجا نیاز احمد، ڈاکٹر آفتاب کو لینے آتا ہے۔ ’’ندرت‘‘ جو ناولٹ کی ہیروین ہے، گریجویٹ 25 سالہ بیوہ ہے۔ اُس کا خاوند پرویز فضائی حادثے میں ہلاک ہوچکا ہے اور وہ اس کے بعد نفسیاتی مریضہ بن چکی ہے۔
ہیرو آفتاب اور ہیروین ندرت کی ملاقات ناولٹ میں بڑے ڈرامائی اور دہشت انگیز طریقے سے ہوتی ہے۔ آفتاب اپنے کمرے میں سونے کی تیاری کر رہا ہے…… جو مہمان کے طور پر اُس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اُسے کمرے کے باہر پُراَسرار اور مشکوک سی سرگرمی کا احساس ہوتا ہے۔ اُس کی چھٹی حِس خطرے کی نشان دہی کرتی ہے، تو وہ اپنے بستر پر اپنی جگہ دو تکیے رکھ کر اوپر لحاف دے کر کمرے کے ایک اندھیرے کونے میں کھڑا ہو جاتا ہے اور کسی ایسی بھاری چیز پر نظر رکھتا ہے جو آنے و الے وقت میں مدافعت کے لیے ہتھیار کا کام دے سکے۔ اُس کے کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھلتا ہے اور ایک نقاب پوش سایہ کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ ایک نظر میں پتا چل جاتا ہے کہ وہ کوئی دوشیزہ ہے۔ وہ اپنے لباس میں سے چھپا ہوا ایک چمک دار خنجر برآمد کرتی ہے اور لحاف اُٹھا کر حملہ آور ہونا چاہتی ہے…… مگر وہ کسی کو نہ پا کر الٹا خود خوف کا شکار ہوجاتی ہے۔
آفتاب اپنے حواس بجا رکھتے ہوئے بڑی پھرتی سے دروازہ بند کرتا ہے اور لڑکی کے راستے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ لڑکی کے ہاتھوں سے مارے گھبراہٹ کے خنجر چھوٹ جاتا ہے۔ آفتاب، ندرت کو بتاتا ہے کہ وہ اس کا د ور کا رشتہ دار ہے اور ڈاکٹر واکٹر ہرگز نہیں جیسا کہ اُسے بتایا گیا ہے…… یا اُسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ ندرت کی دہشت، شرمساری میں بدل جاتی ہے اور وہ آفتاب سے معذرت کرتی ہے۔
ابھی ان کا مکالمہ جاری ہوتا ہے کہ دروازے پر دستک ہوتی ہے، اس بار دونوں ہی گھبرا جاتے ہیں۔ آفتاب، ندرت کو ساتھ کے کمرے میں جانے کا کہہ کر دروازہ کھولتا ہے، تو وہاں ملازم کھڑا ہے…… جو کہتا ہے کہ آپ کے کمرے کی بتی جلی دیکھ کر میں پوچھنا آیا تھا کہ کچھ درکار تو نہیں؟ آفتاب کی جان میں جان آتی ہے۔ وہ ملازم کا شکریہ ادا کرکے اُسے واپس بھجوا دیتا ہے اور کچھ دیر بعد ندرت بھی خاموشی سے نکل جاتی ہے۔
باوجود اس کے کہ آفتاب تقریباً ساری رات جاگتا رہا ہے، صبح جلدی اُٹھ جاتا ہے اور گاؤں کی سیر کو نکل جاتا ہے۔ پھر راجہ صاحب کے گھر میں رہتے ہوئے وہ ندرت کی نفسیاتی گرہیں بے تکلف ہونے کے ساتھ ساتھ کھولنے لگتا ہے اور وہ نارمل ہونے لگتی ہے۔
آفتاب اور ندرت ’’واک‘‘ کے لیے گاؤں سے باہر نکل جاتے ہیں، تو اسی ’’واک‘‘ کے دوران میں ندرت نہر میں گرجاتی ہے۔ شدید سردی سے نہر میں گر کر اس طرح بھیگ جانا…… ندرت بیمار پڑ جاتی ہے۔ ندرت کے لیے ڈاکٹر لینے پہلے آفتاب راجہ صاحب کی گاڑی لے کر جاتا ہے اور پھر ندرت کی تیمار داری اور خصوصی دیکھ بھال کے لیے اپنی بہن رضیہ کو بھی وہاں بلوا لیتا ہے۔
دوسری طرف بگڑا ہوا بھانجا نیاز ہے، وہ آفتاب کے آنے کے بعد ندرت کے گھر میں اپنی اہمیت اور مقام کھو بیٹھا ہے۔ وہ ندرت کو بتاتا ہے کہ آفتاب، راجہ صاحب کا دور کا رشتہ دار نہیں بلکہ نفسیاتی ڈاکٹر ہے…… جسے اس کا علاج کرنے کے لیے بھاری بھرکم مشاہرے پر رکھا گیا ہے۔ یہ سن کر ندرت ایک بار پھر دماغی خلفشار اور یاسیت کا شکارہو جاتی ہے۔
وہاں آفتاب کی بہن رضیہ اس کی برین واشنگ کا فریضہ سر انجام دیتی ہے…… اور اس طرح ناولٹ ’’ندرت‘‘ اُتار چڑھاؤ کا شکار ہوتا ہوا اپنے خوش گوار اختتام کی طرف بڑھتا ہے…… جو آفتاب اور ندرت کا ملن ہے۔
’’ندرت‘‘ ایک سادہ بیانیے کا روایتی سا ناولٹ ہے جیسا کہ اس زمانے کے اور ناول یا افسانے ہوا کرتے تھے۔
اس میں غیر معمولی والی کوئی بات نہیں ۔ اس ناولٹ کی اپنی جگہ پر انفرادیت یہی ہے کہ اسے مصنف نے طے شدہ منصوبے کے تحت ناولٹ کے طور پر لکھا ہے اور اسے غیر ضروری طوالت عطا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
ابنِ حیات کا اُسلوب سادہ اور گھریلو سا ہے…… جس میں بڑی کہانی کے امکانات تلاش کرنا ایک بے سود سی کوشش ہے۔
قارئین، اپنے ’’اُسلوب‘‘ سے ابنِ حیات اوسط درجے کے ادیب اور نثرنگار لگتے ہیں۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔