تبصرہ: سیف علی سیف 
’’مرگستان‘‘ (The Plague) زیرِ تبصرہ ناول البرٹ کامیو کی شہرۂ آفاق تصنیفات میں سے ایک ہے۔ ناول کی کہانی فرانس کے ایک قصبے میں پھیلنے والی طاعون کی وبا کے گرد گھومتی ہے۔ ناول نگار نے وبا کے آغاز، محرکات اور علاج کو ادبی انداز میں عمدگی سے قلم بند کیا ہے۔
’’مرگستان‘‘ موضوعی اعتبار سے دو موضوعات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف تو طاعون جیسے تحقیقی موضوع پر سیر حاصل گفت گو کے ضمن میں تو دوسری طرف محبت جیسے دل کش جذبے کو ناول میں سمونے کے حوالے سے…… لیکن موخر الذکر کا ادراک کوئی باریک بین قاری ہی کر سکتا ہے۔
ناول کا مرکزی کردار ’’ریکس‘‘ نامی ایک ڈاکٹر ہے۔ ریکس نہ صرف شروع میں وبا کی تشخیص کرتا ہے بلکہ اپنی جواں مردی کی بدولت اسے شکست بھی دیتا ہے۔ گوکہ اس سفر میں اسے اپنی شریکِ حیات کی حیات سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔وہ ہمت نہیں ہارتا اور وبا کا مقابلہ جاری رکھتا ہے۔ بالآخر اس کی محنت رنگ لاتی ہے اور قصبے کی رونق لوٹ آتی ہے۔
عمار اقبال نے ناول کا اچھا ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے…… لیکن بعض جگہوں پر انتہائی بے ترتیب جملے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مزید برآ کثیر تعداد میں موجود ٹائپنگ کی غلطیاں بھی قاری کو مایوس کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر وبا کے دنوں میں پڑھنے کے لیے یہ ایک عمدہ وبائی ناول ہے۔




ناول مرگستان کا ٹایٹل پیج، جس کا ترجمہ عمار اقبال نے کیا ہے۔

اب آخر میں ’’مرگستان‘‘ سے ایک اقتباس پڑھیں:
’’لیکن پھر طاعون نے اپنا بدلہ لیا کہ مرگستان میں تابوت، چادریں اور قبرستان میں گنجایش کم پڑ گئی اور مجبوراً اجتماعی جنازوں اور قبروں پر لوگوں کو راضی ہونا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہر ہسپتال میں صرف 5 تابوت باقی بچے۔ اب یہ تابوت ایک وقت میں قبرستان پہنچائے جاتے تھے اور اپنے اپنے مردوں کو قبروں میں اُگل کر یہ واپس آجاتے۔ ’’ریکس‘‘ کا یہ طریقۂ کار سربراہ نے قبول کیا، مگر اس کی قباحت کے پیشِ نظر اب لواحقین کو اس قبرستان کے باہر ہی روک دیا جاتا جس میں دو گڑھے کھودے گئے تھے: ایک مردانہ، ایک زنانہ…… مگر یہ تفریق زیادہ دیر قایم نہ رہ سکی۔ گڑھوں کے اندر چونا بچھا دیا گیا تھا اور ان کے دہانے پر اس چونے سے بلبلے بن گئے تھے جو ہوا میں پھوٹتے رہتے اور ایمبولینس برہنہ لاشوں کو ان گڑھوں میں سرکا کر پلٹ آتی اور چونے کی ایک اور تہہ جما دی جاتی۔‘‘
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔