ترجمہ دو زبانوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتا ہے۔ ترجمہ کار کو اُن دونوں زبانوں پر عبور حاصل ہو نا چاہیے…… جن میں وہ ترجمہ کر رہا ہو۔ مترجم بننا آسان نہیں اور نہ مکھی پہ مکھی مارنے کانام ترجمہ نویسی ہی ہے۔ ادبی دنیا میں مشکل ترین کام ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کاری ہے۔
ڈاکٹر سعید احمد گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل کے شعبۂ اُردو کے صدر کی حیثیت سے فرایض انجام دے رہے ہیں۔ ’’تیر انداز‘‘ پائلو کویلھو کا انگریزی ناول ہے…… جس کا ڈاکٹر سعید احمدنے اُردو میں ترجمہ کیاہے۔ مذکورہ ناول ڈاکٹر صاحب نے راقم کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد میں ان کے دفتر میں ملاقات کے دوران میں عنایت کیا ہے۔
پائلو کویلھوکے تقریباً دو درجن سے زیادہ ناول شایع ہو چکے ہیں۔ مذکورہ ناول ان کا سب سے مختصر ناول ہے جس کی کہانی سادہ ہے۔ اصل میں یہ ناول ’’تتسوئیا‘‘ کی سرگذشت ہے۔ تتسوئیاخود ماہر تیر انداز ہے۔ ناول میں وہ ایک لڑکے کو تیر اندازی کے اصول سکھا تا ہے۔ یہاں تیر اندازی کو مثال بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
102 صفحات کے اس ناول کو 13 مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر حصے میں زندگی سے متعلق مفید مشوروں سے نوازا گیا ہے۔
ناول نگار کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تیر اندازی کو مثال کے طور پر پیش کیاہے اور اس سے مراد زندگی گزارنے اور اس میں کچھ کر گزرنے کے اصول بتائے ہیں۔ ایسا لگتا ہے گویا پائلوکویلھونے انسانی زندگی کا قریب سے مشاہدہ کیا اور تجربے کی بنیاد پر کمان، تیر، ہدف، آسن، تیر کو کیسے پکڑنا ہے، کمان کو کیسے پکڑیں، کمان کی رسّی کو کیسے کھینچا جائے، ہدف کو کیسے دیکھنا ہے، تیر چھوڑنے کا لمحہ، تیر کی پرواز کا مشاہدہ کیسے کیا جائے اور کمان تیر اور ہدف کے بغیر تیر اندازی کیسے ہوگی……؟ پر مختصراً مگر جامع انداز میں اظہارِ خیال کیا ہے۔
تیر اندازی کے حوالے سے مذکورہ گُر کے بیان کرنے کا اصل مقصد زندگی کے مقاصد کے حصول کے گُر سکھانے ہیں۔ ویسے تویہی گُر پائلو کویلھو نے ایک لڑکے کو مخاطب کرکے سکھائے ہیں…… لیکن اس سے ناول نگار کااشارہ پوری انسانیت کی طرف ہے۔
مترجم نے بھی بڑی فن کاری کے ساتھ ناول کا ترجمہ کیا ہے۔ اس ناول کو پڑھتے ہوئے راقم کومولانا وحید الدین سلیم کی ’’رازِ حیات‘‘ یاد آجاتی ہے، گویا یہ دونوں کتابیں ایک ہی ذہن کی تخلیق ہوں۔
ناول میں ہدف کے حصول کے حوالے سے مترجم لکھتے ہیں:’’ہدف وہ مقصد ہے جس تک پہنچنا ہے۔ تیر انداز ہی اس کا انتخاب کرتا ہے اور بہت پرے تصور کرتا ہے۔ ہم نشانہ خطا ہونے پر ہدف کو موردِ الزام نہیں ٹھہراسکتے۔ اسی میں راہِ کمان کی خوب صورتی کا راز پوشیدہ ہے، تم اپنے لیے کبھی یہ عذر نہیں تراش سکتے کہ تمہارا مخالف تم سے قوی تھا۔‘‘
ناول نگار نے شایستگی کو بھی اہم منصب قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر سعید احمدنے ناول کے صفحہ 50 پر جن شان دار الفاظ میں تیر اندازی کا نقشا کھینچا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے ناول نگار کے حوالے سے لکھا ہے کہ تیر کس طرح اور کون سی جگہ مارنا چاہیے! کمان کو پکڑنے کا انداز بیان کرنے کامقصد ہی ہر قسم کے حالات سے نمبرد آزما ہو نے کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔
ڈاکٹر سعید احمد کے اس ناول کو اُردو زبان میں ترجمہ کرنے کا مقصد ہی لوگوں کو صحیح سمت گام زن کرنا ہے۔ آپ سلجھے ہوئے انسان ہیں، خود تیر انداز کی طر ح زندگی گزار رہے ہیں۔جس طرح ناول میں کمان کی راہ پر گام زن رہنے کا کہا گیا ہے…… ٹھیک اسی طرح ڈاکٹر صاحب نہ صرف خود بل کہ اپنے شاگردوں کو بھی کمان کی راہ پر گام زن رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کیوں کہ یہ زندگی بھر کا سفر ہے۔
ڈاکٹر صاحب ایک اچھے نشانہ باز کی طرح مخلص دوست بننے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ اس ناول کو اُردو میں ترجمہ کے لیے منتخب کرنے کا قصد ہی جوانوں کو زندگی کی حقیقت سے آشنا کرنا ہے…… تاکہ وہ کامیابی کی طرف جاسکیں۔
ڈاکٹر صاحب، طلبہ و طالبات کی نفسیات سمجھتے ہیں۔ اس لیے انہیں ذہن سے مسلسل کام کرتے رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
بلاشبہ ڈاکٹر سعید احمد فنِ ترجمہ کاری کے ماہر ہیں۔ آپ کی تحریریں ذہنوں کو جلا بخشتی ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالا انہیں ادب کی خدمت کے لیے ہمیشہ اچھی صحت اور خوشیوں بھری زندگی دے،آمین!
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔