86 total views, 1 views today

تبصرہ: سفینہ بیگم 
’’جوسٹن گارڈر‘‘ (Jostein Garder) ’’ناروے‘‘ کا شہرۂ آفاق ناول "Sophie’s world (1991)” ہے، جس کا ترجمہ شاہد حمید نے ’’سوفی کی دنیا‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ پہلی مرتبہ اس قسم کا ناول پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کو فلسفے اور تاریخ کے امتزاج سے تشکیل دیا گیا ہے اور ناول کی بنت میں جس تکینک کو ملحوظ رکھا گیا ہے…… نظریاتی سطح پر وہ فلسفے ہی کا حصہ ہے، اس کا احساس ناول کی نصف قرات کے بعد ہوتا ہے، جب آیرش فلسفی ’’بارکلی‘‘ کا ذکر آتا ہے…… جس کے مطابق ’’ہم صرف خدا کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔‘‘
’’سوفی امیڈسن‘‘ 14 سال کی ایک لڑکی ہے، جس سے ’’البرٹو‘‘ نامی فلسفی، عہدِ عتیق سے لے کر ’’فرائیڈ‘‘ تک کے متعلق سلسلے وار گفتگو کرتا ہے اور سوفی کو فلسفے کی تعلیم دیتا ہے…… جس میں ان تمام فلسفیوں کے نظریات پر طویل مکالمے وجود میں آتے ہیں۔ ناول کے ابتدائی حصے میں خط و کتابت کے ذریعے یہ سلسلہ چلتا ہے۔ اس کے بعد بالمشافہ ملاقات مزید گفت گو کو آگے بڑھاتی ہے۔




’’سوفی کی دنیا‘‘ کا ٹایٹل پیج۔

ناول کے اس (ابتدائی) حصے پر مشتمل گفت گو کے دوسرے حصے میں، ’’ہلڈے‘‘ نامی لڑکی…… جو سوفی کی ہم عمر ہے، کو فایل کی شکل میں (اس کی 15ویں سال گرہ پر) موصول ہوتی ہے…… جس کو بھیجنے والا، لبنان میں مقیم اس کا باپ ’’البرٹ‘‘ تھا۔ اس پر یہ بات آہستہ آہستہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ہلڈے کا باپ اپنی بیٹی کے لیے فلسفے کی کوئی کتاب لکھ رہا ہے۔ سوفی اور البرٹو محض اس کتاب کے کردار ہیں، جن کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں ہے۔ کہانی میں کئی مقام ایسے آتے ہیں جہاں اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا سوفی اور البرٹو کی دنیا حقیقی ہے یا ہلڈے اور البرٹ کی؟
ناول کے اختتامی حصے میں یہ دونوں کردار، بتوسط ہلڈے،مصنف کا دھیان بھٹکا کر کتاب سے نکل بھاگتے ہیں۔ ان کا مقصد البرٹ تک پہنچ کر اس کو یہ سب کرنے سے روکنا ہوتا ہے، تاکہ یہ دونوں (سوفی اور البرٹو) آزاد زندگی گزار سکیں…… لیکن وہ بظاہر زمان و مکاں سے ماورا ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ سب کچھ دیکھ تو سکتے ہیں…… مگر صرف اسی چیز کو چھو سکتے ہیں جو ان کے خیال (ذہن) میں ماضیِ بعید کا حصہ ہو۔ وہ ہلڈے اور البرٹ تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن انھیں اپنی موجودگی کا احساس دلانے سے قاصر رہتے ہیں۔
ناول کے درمیانی حصے میں جہاں ’’بارکلی‘‘ (Berkley) باب کے بعد ’’بجارکلی‘‘ کا آغاز ہوتا ہے، پہلی مرتبہ براہِ راست ہلڈے سے متعارف کروایا گیا ہے۔ ہلڈے کے مکان کا نام بجارکلی تھا، وہیں دوسری طرف میجر (ہلڈے کا باپ) کی اس کٹیا میں جہاں سوفی اور البرٹو کی ابتدائی ملاقاتیں ہوئی تھیں، اسی بجارکلی کی تصویر آویزاں تھی…… جو ہلڈے کا گھر تھی۔ یہاں سے ناول میں جا بہ جا کئی انکشاف ہوتے ہیں اور بہت سے سوال اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ بارکلی کی فلسفیانہ توجیہہ پورے ناول کو محیط نظر آتی ہے۔ پہلا سوال یہ کہ آیا ناول میں دو متوازی دنیا موجود ہیں: ایک بجارکلی کے اندر ہلڈے کی دنیا، دوسری اس کے باہر سوفی کی دنیا۔ دوسرا یہ کہ ’’بارکلی’‘‘ کے فلسفے کے مطابق ’’جس میں حقیقت صرف وہ ہے جس کا ادراک حواس کے ذریعے کیا جاسکے۔‘‘ تو پھر کیا سوفی کی دنیا حقیقی ہے اور ہلڈے خواب؟ مزید یہ کہ ’’زمان و مکاں کا کوئی مطلق یا آزادانہ وجود ہے؟ زمان و مکاں کا ہمارا اپنا ادراک بھی محض ذہن کی اختراع ہوسکتا ہے۔‘‘ (بارکلی کے مطابق)تو پھر سوفی اور البرٹو کے بقول ان کا نکل بھاگنا، ذہنی اختراع ہے، درحقیقت وہ کتاب میں ہی موجود ہیں؟ (مزید سوالات قایم کیے جاسکتے ہیں) اس ناول میں "Meta fiction” کی تکنیک موجود ہے۔
دراصل بارکلی اور بجارکلی کہانی کا "Turning point” ہے جو سوفی اور ہلڈے کی کہانی کو پُراسرار بناتا ہے ، اشتباہ کی کیفیت کے ساتھ، حقیقت اور خواب کے درمیان التباس بھی پیدا کرتا ہے۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔