ناولٹ ’’آخری دیوار‘‘ (1973ء) میں رحمان مذنب نے کسی حد تک اپنا سٹایل چھوڑ کر نسیم حجازی والا سٹایل اپنانے کی کوشش کی ہے، جانے کیوں؟
رحمان مذنب نے بھی مسلم تاریخ سے وہ تاریک گوشہ اپنے ناولٹ کے لیے منتخب کیا ہے…… جب دِلّی کے لال قلعے پر ایک مختصر سے عرصے کے لیے مرہٹوں کا قبضہ ہو گیا تھا۔ وہ اس ذلت کی کہانی تو لکھ رہے ہیں…… لیکن ساتھ ہی ساتھ احمد شاہ ابدالی کو مسلمانوں کا نجات دہندہ بھی ثابت کر رہے ہیں۔
’’نائکہ نے بڑی نرمی سے بیٹی کو سمجھایا: ’’ہم لاکھ سولہ سنگھار کریں، اپنے آپ کو بڑا سمجھیں، کیسی ہی کیوں نہ ہو ہماری شوبھا…… لیکن یہ شوبھا ان بڑے لوگوں سے ہے۔ یہ لوگ ہمیں نہ پوچھیں، تو ہم کچھ بھی نہیں۔ ہماری عزت بنی ہے شکرو کرو! ویسے تو ہم ملیچھ، داس اور بانر ہی سمجھے جاتے ہیں نا؟‘‘
’’ماں ہم شودروں کا کام نہیں کرتے۔ دھر پدانگ میں کوئی گائے تو سہی تمہارے اور میرے مقابلے میں۔‘‘
’’اسی دھر پدانگ سے بات بنی ہے…… لیکن ہم وید کا ایک اشلوک بھی زبان پر نہیں لاسکتے۔ راؤ جی نہ ہوں…… تو مہا مہنت ہمیں دھر پدانگ میں بھی نہ گانے دے۔ یہ لوگ بڑے ظالم ہیں۔ ہم آواز کا جادو جگاتے ہیں، تو صرف راؤ کے لیے۔ ہمیں آپے میں رہنا چاہیے۔‘‘
شکنتلا جو اپنی جوانی اور خوب صورتی پر نازاں تھی، جسے چاندنیوں اور بہاروں نے پالا تھا، جو فتنۂ محشر تھی، جس کی آنکھوں کے اُجالوں میں دلوں کو راہ ملتی تھی، جس کے مسکرانے سے ستارے جگمگاتے تھے، مجرا خانے سے اُٹھی اور باہر صحن میں پھلواڑ ی کے پاس چلی گئی اور گنگنانے لگی۔‘‘
تاریخی پس منظر میں لکھا جانے والا یہ ناولٹ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ ناولٹ لکھنے کے لیے رحمان مذنب نے بڑی ریسرچ کی ہوگی…… مگر ایسی تحریر بہت ثقیل ہوجاتی ہے اور عام قاری کے لیے اسے ہضم کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ویسے تو 1973ء رحمان مذنب کے لیے بہت کامیاب تخلیقی سال ہے۔ جمہوری حکومت ہے۔ پابندیاں اُٹھ رہی ہیں۔ مملکت کے تمام شعبے رواں ہیں اور پھل پھول رہے ہیں۔
’’مہارانی یدھ سبھا میں موجود تھی۔ اُس کا 17 سالہ بیٹا بسواس راؤ بھی موجود تھا۔ مہارانی نے کہا کہ بھاؤ کے ساتھ راج کنور بسواس راؤ بھی جائے گا۔ جوں ہی دِلّی پر قبضہ ہو، راج کنور کو لال قلعے میں شاہی گدی پر بٹھایا جائے۔ وہ پیشوا کی طرف سے ہند پر حکومت کرے گا۔ سداشو پنڈت بھاؤ کو مہارانی کی بات مطلق پسند نہ آئی…… لیکن مصلحتاً چپ رہا۔ مرہٹوں کے توپ خانے کا سالار ابراہیم گادی بھی یُدھ سبھا میں موجود تھا۔ اُس نے بھی محمودِ غزنوی کی قبر اُکھاڑنے، مسجدیں ڈھانے، مسلمانوں کی خوں ریزی اور ملک بدر کرنے اور مسلمان عورتوں کی نیلامی بولنے کی باتیں سنیں۔ اُس کی پیشانی پر بار بار شکنیں پڑیں، چہرے کا رنگ متغیر ہوا۔‘‘
یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ و جدل کے ساتھ ساتھ رقص و موسیقی کی محفلیں بھی تواتر سے اپنی تھکن اُتارنے کے لیے سجائی جاتی تھیں ۔ ایسا ہی ایک منظر ہمیں رحمان مذنب بڑی خوبی کے ساتھ دکھاتے ہیں۔
’’سب نے اظہارِ مسرت کیا۔ اس کے بعد دِتا پٹیل اور اُس کے لشکر پر ہزار لعنتیں بھیجی گئیں۔ رگھوناتھ راؤ تو مارے خوشی کے آپے سے باہر ہوگیا۔ بے اختیار ناچنے لگا۔ شکنتلا بائی نے اشارہ پاتے ہی ٹھمری شروع کی۔ رکنی مراٹھن نے پائل کی جھنکار سے محفل میں جان ڈالی۔ وہ بلند پایہ نرتکی تھی۔ نرت کرنے لگی اور انگ انگ سے جادو جگانے لگی۔ اُس کا نرت ٹھمری کے بول سے ہم آہنگ ہوگیا۔ پھر دونوں نے مل کر دھمال ڈالی۔ شکنتلا کو اچھا نہ لگا کہ رکنی اُس کی سنگت کرے…… لیکن راج بھون پر کسی منتظم کی رکھیل اور اُسی کے کہنے پر اج بھون میں بلوائی گئی تھی، شکنتلا کے پائے کی نہیں تھی۔ جب محفل تمام ہوئی، تو شکنتلا نے اُس سے کہا: ’’اس اونچی محفل میں کیسے آگئی؟‘‘
’’کیوں مَیں نرتکی نہیں؟ بے تال ہوئی تھی یا پاؤں ٹھیک نہیں پڑے تھے میرے؟‘‘
’’نہیں یہ بات نہیں۔ تم چھوٹی محفلوں میں جاتی رہی ہو، ایک دم راج بھون میں آئیں، تو میں نے پوچھا۔‘‘
’’ بائی جی! نوٹنکی یارہس منڈلی کی لونڈیا نہیں، بیڑنی بھی نہیں، ڈیرہ دارنی ہوں، بات شاید بڑھ جاتی۔ رگو ناتھ راؤ نے دونوں کو چپ کروا دیا۔‘‘
یہ نادر شاہ کا وہی دور ہے جب وہ دِلّی کے علامتی اور ناتواں حکم ران شاہ عالم ثانی کی مخبری کرواتا ہے…… اور اُسے پتا چلتا ہے کہ اُس نے کوہِ نور جیسا ہیرا اپنی پگڑی کے اندر چھپا رکھا ہے۔ احمد شاہ ابدالی ایک روز اچانک اُسے پگڑی بدل بھائی بننے کی پیشکش کرتا ہے…… اور جس طرح خواتین دوپٹا بدل بہنیں بنتی ہیں۔ اُسی طرح احمد شاہ ابدالی بھائی بندی میں کوہِ نور جیسا بڑا ہیرا ہتھیا لیتا ہے۔
’’رؤسا اور مغلوں کا تاریخی شہر اور خزائن سے معمور، جواہرات سے آراستہ عظیم الشان قلعہ بے روک ٹوک دشمن کے حوالے کر دینا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ بڑے حوصلے کی بات تھی…… لیکن اس کی رمز سپہ سالار سداشو پنڈت بھاؤ اور اُس کے رفقا کیا جانتے؟ یہ سب کچھ احمد شاہ ابدالی ایسا جہاں دیدہ، مدبر اور عالی دماغ سپاہی جانتا تھا۔ یعقوب خان نے چپ چاپ لال قلعے کی کنجیاں پنڈت بھاؤ کو بھیج دیں۔ بھاؤ کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، مارے خوشی کے دیوانہ ہوگیا۔ تخت و تاج لینے کی حسرت مرتے دم تک شیوا جی کے دل میں رہی، آج پنڈت بھاؤ کی بدولت پوری ہوئی۔ مسرت سے اُس کا دل پھٹنے لگا۔ قلعے کے دروازے میں داخل ہوا، تو اُس سے رہا نہ گیا۔ اُس نے چلا چلا کر کہا : ’’جو کام شیوا جی نہ کر سکا سداشو پنڈت بھاؤ نے کر دکھایا۔‘‘ اس پر اُس کے حواریوں نے ’’سداشو پنڈت بھاؤ کی جے‘‘ کے نعروں سے فضا کو معمور کر دیا۔‘‘
اس ناولٹ میں کرداروں کی بھرمار ہے…… مگر ٹھیک سے اُٹھنے والا کردار ایک بھی نہیں۔ شاید اس کہانی کا تقاضا ہی یہ تھا یا پھر رحمان مذنب نے اُسے نیا ’’ٹریٹمنٹ‘‘ دینے کے لیے دانستہ ایسا کیا۔ احمد شاہ ابدالی جیسی جنگی چالیں جانتا تھا۔ مرہٹے عددی برتری کے باوجود اُس سے ناواقف تھے۔ جوش بہت تھا اُن میں مگر ہوش سے محروم تھے۔ احمد شاہ ابدالی نے مرہٹوں کا شکار کرنے کے لیے 20 گز چوڑی اور 12 فٹ گہری خندق کھود لی…… جس میں ہاتھی سما گئے تھے مگر کسی کو نظر نہیں آتے تھے۔ مرہٹوں کے لیے ہر جگہ موت کا سامان تیار تھا۔
’’مغرب سے جو قافلے اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے آئے تھے…… وہ انہی کی گونج میں روانہ ہوئے۔ دھوپ نے گرم گرم خون کی ندی کو خشک کر دیا…… اور اَب یہ مٹی میں مل کے مٹی ہوگیا تھا۔ دور پونا کے راج بھون میں مہارانی غش پر غش کھا رہی تھی۔ جوں ہی ہوش میں آتی، پردے پھاڑتی اور بال نوچتی۔ پیشوا حواس کھو چکا تھا…… جسے لال قلعے میں تاج پہننا تھا۔ وہ مرگھٹ میں مٹی کا ڈھیر ہوچکا تھا۔ اَدھ جلی لکڑیاں بجھ چکی تھیں۔ آنسوؤں کی جھڑی تھمنے میں نہ آرہی تھی۔ خوابوں کے اونچے اونچے محل کھنڈر ہوگئے تھے۔ آرزوئیں سر پٹک رہی تھیں۔ مرگھٹ سے دھوئیں کے بادل اُٹھ رہے تھے۔ سب کچھ جل کر بھسم ہو گیا تھا۔ آخری دیوار گر چکی تھی۔ ‘‘
یہ ناولٹ ’’آخری دیوار‘‘ کا اختتام ہے۔ جس طرح ہر کہانی کہیں نہ کہیں ختم ہوتی ہے۔ اسے بھی ختم ہونا تھا۔ اس ناولٹ کا ’’اُسلوبیاتی تجزیہ‘‘ ہمیں تاریخ کے اوراق سے وہ محدود سا عرصہ دکھاتا ہے…… جب مسلمان کم زور پڑے اور دِلّی کے لال قلعے پر مرہٹوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔
تخلیقی کے ساتھ ساتھ تحقیقی ہونا ادیب پر دوہری ذمہ داری عاید کر دیتا ہے…… جس سے رحمان مذنب بڑی خوبی سے عہدہ برآ ہوئے ہیں۔
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔