تحریر: توقیر احمد بُھملہ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان تھا جس کی زندگی اس کی پیدائش کے دن ہی سے دکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ اپنے مدرسے میں اسے بیٹھنے کے لیے ہمیشہ آخری نشست ہی ملتی تھی۔ لکھتے ہوئے اس کا قلم ہمیشہ ٹوٹ جاتا تھا۔ فٹ بال کے کھیل میں کوئی بھی ٹیم اسے اپنے ساتھ کھیل میں شامل کرنے پر راضی نہ ہوتی تھی۔ وہ چلتے ہوئے اپنے جوتوں کے تسمے پر اپنا پاؤں آنے سے پھسل کر گر جاتا تھا۔ کوئی بھی لڑکی اس کی طرف نہ دیکھتی تھی…… لیکن جب وہ خود کسی لڑکی کو دیکھتا تھا، تو وہ اپنے دل کی انتہائی تیز ہوتی ہوئی دھڑکن سن سکتا تھا۔ حالاں کہ ابھی تک اس کی داڑھی یا مونچھیں بھی صحیح طرح نہیں بڑھی تھیں۔
ایک دن مدرسے کی راہ داریوں میں بیٹھ کر وہ اپنی دکھی زندگی پر غور کرنے لگا۔ اُسے یاد آیا کہ ہر کوئی اُسے بدنصیب کہتا ہے۔ بالآخر اس نے اپنے اچھے نصیب کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا…… جو اس کی زندگی بدل دے اور اسے مصیبتوں سے نکال سکے۔
اُس نے چاروں طرف دیکھا۔ میز کے نیچے ، بکھرے سامان میں، باورچی خانے کے برتنوں کے درمیان اور الماری میں اپنے کپڑوں کے درمیان ہر جگہ دیکھا…… اور بدقسمتی سے اسے کوئی نصیب نہیں ملا۔ نصیب کی تلاش میں وہ اِدھر اُدھر مارا مارا پھرتا رہا…… اور لوگوں سے پوچھنا شروع کر دیا۔ آخرِکار اس نے سوچا کے مجھے نصیب کی تلاش میں سفر کرتے ہوئے دنیا کے آخری کونے تک جانا چاہیے۔ وہ غصے سے پاؤں کو زور زور سے زمین پر پٹختے ہوئے دن رات پیدل چلتا رہا…… اور منزلوں پر منزلیں طے کرتا گیا…… مگر اس کا نصیب اسے کہیں نہ مل سکا۔ چلتے چلتے وہ ایک بہت بڑے گھنے جنگل تک جا پہنچا۔ جنگل کے داخلی راستے پر ایک تنگ و تاریک دہانہ تھا۔ اس تنگ راہ داری کو عبور کرکے ہی کوئی اس جنگل میں داخل ہوسکتا تھا۔ اُسے محسوس ہوا کہ اُس دہانے پر کوئی چھوٹی اور بھدی سی چیز پڑی ہوئی ہے۔ اُس نے قریب جاکر غور سے دیکھا، تو جیسے ہڈیوں سے لپٹی ہوئی کوئی گندی کھال تھی۔ وہ اور قریب ہوا…… تو اسے کھال اور ہڈیوں کا مجموعہ سانس لیتا ہوا دکھائی دیا…… اور اس نے دیکھا کہ وہ کھال جگہ جگہ سے دھوپ کی حدت سے جھلس گئی تھی۔ یہ ایک بھیڑیا تھا۔ وہ زندہ تھا اور نہ مردہ۔ نوجوان نے دیکھا بھیڑیے کی دھنسی ہوئی آنکھیں اسے نیم وا دکھائی دے رہی تھیں۔ بھیڑیے نے آہ بھری اور پوچھا: ’’اوہ، اے نوجوان، تم کون ہو اور کہاں جا رہے ہو؟‘‘ نوجوان نے جواب دیا: ’’مَیں اپنی قسمت، اپنا نصیب تلاش کر رہا ہوں…… اور تم؟‘‘ بھیڑیے نے جواباً کہا: ’’مَیں بھی شاید خوش قسمت نہیں ہوں۔ سنو اگر آپ اپنے نصیب کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائیں، تو براہِ کرم وہاں سے میری قسمت کے بارے میں بھی پوچھیے گا۔‘‘ نوجوان نے بھیڑیے سے اس کی قسمت کے بارے میں پوچھنے کا وعدہ کرنے کے بعد اسے وہیں چھوڑ دیا۔ اور خود جنگل میں داخل ہوگیا۔
بدقسمت نوجوان طویل عرصہ تک دن اور رات کی پروا کیے بغیر چلتا رہا…… یہاں تک کہ وہ جنگل کے ایک ایسے حصے میں جاپہنچا۔ جہاں ایک تنہا بلند و بالا مگر کم زور سے درخت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ اس درخت پر صرف دو پتے باقی رہ گئے تھے…… باقی کے تمام پتے جھڑ چکے تھے۔
وہ بدقسمت نوجوان اپنی قسمت کی تلاش میں مگن سیٹیاں بجاتا ہوا جا رہا تھا کہ اس درخت سے ایک اور پتا گرگیا۔ اس گرتے ہوئے پتے کے ساتھ ہی درخت نے کہا: ’’ارے، ارے، ہیلو، اے نوجوان……! کہاں جا رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا: ’’مَیں اپنی قسمت…… اپنے نصیب کی تلاش میں ہوں۔‘‘ تو درخت نے پوچھا: ’’کیا تم اپنے ساتھ میری قسمت بھی تلاش کرسکتے ہو…… یا پھر وہاں سے دریافت کرسکتے ہو کہ میں اتنا کم زور کیوں ہوں؟ میرے جھڑتے ہوئے پتوں پر میرا اختیار کیوں نہیں ہے؟‘‘ نوجوان راضی ہو گیا اور اپنی خوش قسمتی کی تلاش میں چل دیا۔ چلتے چلتے اس کا گزر گھنے جنگلوں سے نکل کر ایک حسین و جمیل وادی میں جا ہوا…… جہاں تاحدِ نگاہ وسیع سرسبز کھیت لہرا رہے تھے۔ وہاں اس نے دور سے ایک خوب صورت جھونپڑی کو دیکھا جس کے چاروں طرف ایک چھوٹی سی دیوار تھی…… جس کے ساتھ ملحقہ باغات پھولوں، پھلوں کے درختوں اور پکی سبزیوں سے لدے ہوئے تھے۔ باغ کے درمیان سے صاف و شفاف پانی کی ایک ندی گزر رہی تھی۔ جھونپڑی کو اطراف سے سفید رنگ والے کپڑوں سے ڈھانپ کر…… اس کے دروازے کو سرخ گلابوں سے سجایا گیا تھا۔ جھونپڑی نہایت خوب صورت تھی…… اور شاید دنیا کی سب سے خوب صورت جگہ بھی یہی تھی۔ باغ کی دیکھ بھال کرنے والی لڑکی نے اسے دیکھ کر کہا: ’’خوش آمدید، خوش آمدید! اے اجنبی نوجوان! میری ملکیت کی زمینوں پر آپ کا خیر مقدم ہے۔ آپ جو چاہیں کھا سکتے ہیں۔ اور جب تک چاہیں یہاں رہ سکتے ہیں۔‘‘ اس نوجوان نے کہا: ’’بہتر ہے کہ آپ صرف مجھے قہوے کا ایک کپ پلا دیں۔‘‘ لڑکی اس کی بات سن کر مسکرا دی۔ وہ اسے اپنی جھونپڑی کے اندر لے گئی…… جہاں دونوں نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا اور ایک دوسرے کی باتوں پر دیر تک اکٹھے ہنستے رہے۔ لڑکی کی مسکراہٹ طوفان کے بعد طلوع ہونے والے سورج جیسی تھی۔ باتوں کے دوران میں لڑکی نے اداسی سے آہ بھری اور کہا: ’’آ ہا……!‘‘ نوجوان نے پوچھا، کیا بات ہے؟ لڑکی نے کہا: ’’مجھے خوشی ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں…… لیکن آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ اسی بات کا ملال ہے…… جو مجھے اداس کرگیا ہے۔ شاید ایسا میری قسمت کی وجہ سے ہے۔‘‘ نوجوان نے اس لڑکی سے کہا: ’’مَیں اپنی قسمت کی تلاش میں جا رہا ہوں۔ اگر آپ چاہتی ہیں، تو مَیں وہاں آپ کی قسمت بھی تلاش کروں گا…… بلکہ مَیں ایسا ضرور کروں گا۔‘‘
وہ نوجوان طویل دن، لمبی راتیں، جنگلوں، دریاؤں، میدانوں اور وادیوں سے ہوتا ہوا چلتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کے آخری کنارے جا پہنچا۔ اس نے دنیا کے کنارے پر کھڑا ہوکر خلا میں دیکھا…… اور پکارا: ’’کیا یہاں کوئی ہے جو مجھے بتائے کہ مَیں اپنی گم شدہ قسمت تلاش کرنے کے لیے کیا کروں؟‘‘ اچانک اس نے ایک اونچی آواز سنی جو اسے پکار رہی تھی: ’’تمہیں ہر حال میں اپنا سفر مکمل کرنا چاہیے۔ تم اپنی تلاش جاری رکھو۔ آنکھیں کھولو۔ اپنے دماغ میں سوئی ہوئی عقل کو جگا کر اسے استعمال میں لاؤ۔ تمہاری قسمت خودبخود تمہارے پاس آئے گی۔‘‘ نوجوان نے کہا: ’’شکریہ……!‘‘ اور چلنے لگا۔ آواز نے کہا: ’’سنو سنو، کیا تم کچھ بھول نہیں گئے؟‘‘ اچانک نوجوان کو یاد آیا کہ اسے بھیڑیے، درخت اور لڑکی کے بارے میں بھی پوچھنا تھا۔ پھر اس نے باری باری سب کے جوابات لیے۔ واپس مڑا…… اپنے پاؤں خوشی سے زمین پر مارتا ہوا سورج کی جانب رُخ کیا اور چلتا رہا۔ اس وقت تک چلتا رہا…… جب تک حسین وادی کے اندر سفید جھونپڑی تک نہ جا پہنچا۔ خوب صورت لڑکی نے جب اسے دیکھا، تو خوشی سے چلاتے ہوئے پوچھا، کیا تم نے اپنی قسمت پالی…… اور کیا میرے نصیب کا بھی پتا کیا؟ نوجوان نے جواباً کہا: ’’تم اکیلی ہو۔ کیوں کہ تمہارا شوہر نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں! یہ تو سچ ہے۔ کیوں کہ یہاں کوئی مرد نہیں اور یہاں سے گزرنے والے تمام مرد شاید مجھے پسند نہیں کرتے تھے۔‘‘ پھر اس لڑکی نے کہا: ’’مجھے اپنی اداس قسمت کی سمجھ آگئی ہے۔کیا تم مجھ سے شادی کرو گے؟ مَیں سارا کام کروں گی۔ مَیں آپ کے لیے کھانا بناؤں گی۔ مَیں گھر کی ہر ضرورت کا بندوبست کروں گی اور وہ سب کچھ کروں گی جس سے ہم دونوں خوش رہ کر اس خوب صورت زندگی سے لطف اٹھاسکیں۔‘‘ نوجوان نے کہا: ’’نہیں نہیں! مجھے افسوس ہے کہ مجھے اپنا سفر ہر حال میں جاری رکھنا ہے۔ اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہیں اور اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے قسمت کو تلاش کرنا ہے۔‘‘
نوجوان اس لڑکی کو وہیں چھوڑ کر چلا گیا، اور چلتا رہا…… یہاں تک کہ اسے جنگل کے وسط میں وہی جگہ مل گئی…… جہاں اسے لنڈ منڈ درخت نظر آیا…… جس پر صرف ایک پتا باقی تھا۔ جب نوجوان اس کے قریب پہنچا، تو اس کا آخری پتا بھی گرگیا۔ درخت نے پوچھا: ’’کیا آپ نے اپنی قسمت کو پالیا تھا؟‘‘ اُس نوجوان نے کہا: ’’ہاں! مجھے سفر جاری رکھنا ہے۔ آنکھیں کھولنی ہیں اور اپنے دماغ کو استعمال کرنا ہے۔‘‘ درخت نے پھر پوچھا: ’’اور میرا کیا ہوگا؟‘‘ نوجوان نے جواب دیتے ہوئے کہا: ’’طویل عرصے سے تمھارے نیچے زمین میں خزانہ دفن ہے۔ اس لیے تمہاری جڑوں کے پروان چڑھنے اور بڑھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تمہیں کوئی ایسا شخص تلاش کرنا ہوگا…… جو کھود کر خزانے کو اپنے ساتھ لے جائے۔‘‘ درخت نے کہا: ’’وہاں دیکھو! میرے قریب کلہاڑی اور دوسرے اوزار پڑے ہوئے ہیں۔ تم ان کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لیے خزانہ کھود سکتے ہو۔ مجھے اس سے کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ نوجوان نے اس درخت سے کہا: ’’میرے پاس اتنا وقت نہیں۔ مجھے اپنا سفر ہر حالت میں مکمل کرنا ہے۔‘‘
نوجوان وہاں سے چلا گیا۔ طویل مدت تک چلتا رہا…… یہاں تک کہ اس دہانے پر پہنچ گیا…… جہاں ایک لاغر بھیڑیا رہتا تھا۔ اس کی نظر کم زور ہوتے بھیڑیے پر پڑی جو مزید کم زور ہوگیا تھا اور موت کے دہانے پر تھا۔ شدید کم زوری کے باعث بھیڑیا آنکھیں نہ کھول سکا۔ بڑی مشکل سے اس نے ایک آنکھ آدھی وا کی…… نوجوان کو دیکھا اور اس سے پوچھا، ’’کیا آپ نے اپنی قسمت کے بارے میں کسی سے پوچھا؟‘‘ نوجوان نے جواب دیا: ’’ہاں مجھے اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔ اپنی آنکھیں کھولنی ہیں اور اپنے دماغ کو استعمال کرنا ہے۔‘‘ بھیڑیے نے پوچھا: ’’تو میرے متعلق کیا پتا چلا؟‘‘ نوجوان نے جواب دیتے ہوئے کہا: ’’تم نے شکار چھوڑ دیا ہے…… جس کی وجہ سے طویل عرصہ سے تم بھوکے اور پیاسے ہو۔ اسی بھوک کے ہاتھوں عن قریب تم ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس لیے اگر زندہ رہنا چاہتے ہو، تو تمھیں اُس پہلے احمق کو ضرور کھانا چاہیے…… جو تیرے راستے سے دو بار گزرتا ہے۔‘‘
اور پھر بھیڑیے نے بالکل ایسا ہی کیا۔
(نوٹ:۔ عربی ادب سے براہِ راست اُردو ترجمہ۔ ماخذ القصہ ’’کتاب سرد الحکایات والقصص‘‘)
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔