یاسر جواد

قارئین، یہ مضمون ’’ٹیری ایگلٹن‘‘ (پیدائش 1943ء) کی 2017ء میں شائع ہونے والی کتاب "How to Read a Poem” کے باب نمبر پانچ میں سے لیا گیا ہے۔ ’’ٹیری ایگلٹن‘‘ برطانوی ادبی نظریہ دان، نقاد، دانشور اور لنکاسٹر یونیورسٹی میں انگلش ادب کے ممتاز پروفیسر ہیں۔ اب تک اُن کی چالیس سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں سے "Literary Theory: An Introduction (1983)” خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کی ساڑھے سات لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہوئیں۔ دیگر اہم کتب میں "The Illusions of Postmodernism (1996)” اور "After Theory (2003)” شامل ہیں۔ گذشتہ دس سال کے دوران میں اُنھوں نے اوسطاً ایک کتاب سالانہ لکھی ہے۔ وہ کارنیل، ڈیوک، آئیووا، ملبورن، اورییل یونیورسٹیوں میں بھی لیکچر دیتے ہیں۔یہ ترجمہ شدہ مضمون گزشتہ برس ’’حسین مجروح‘‘ کے کہنے پر ’’ادبِ لطیف‘‘ کے لیے ترجمہ کیا گیا۔ اسی عنوان سے دیسی مفکرین کے مضامین سے موازنہ کیجیے۔
ادبی ہیئت کے عمیق تجزیے کے خلاف ایک دلیل دی جاتی ہے جو کچھ یوں ہے کہ کسی نظم میں کہی گئی بات، یا اِس میں استعمال کردہ بحر یا ردیف اور قافیہ کا تعین کرنا معروضی امور ہیں جن پر نقاد متفق ہو سکتے ہیں (رُموزِ اوقاف کو بھی اِنھی چیزوں میں شامل کیا جانے لگا ہے۔) لیکن لہجے، کیفیت، روانی، ڈرامائی رنگ وغیرہ کی بات کرنا یقینا موضوع ہے۔ ہوسکتا ہے جو چیز سننے میں مجھے تلخ لگے، وہ آپ کو مسرت انگیز معلوم ہو۔ جو مجھے فصاحت سے بھرپور لگتی ہے، شاید آپ کو بکواس لگے۔ نظم میں آہنگ (Tone) ایف میجر یا بی مائنر والا معاملہ نہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہیئت کے چند ایک عناصر مثلاً وزن اور قافیہ (Metre and Rhyme) کو ہی باضابطہ صورت دی جا سکتی ہے۔ شاعری میں ہیئت زیادہ تر بے ضابطہ (غیر رسمی) ہی ہے ۔ اِن سوالات پر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوسکتا…… لہٰذا اس قسم کی تخیل بازی کو برطرف کر دینا اور اُس چیز پر توجہ دینا بہتر ہوگا…… جس کے متعلق ہم یقین سے بات کر سکتے ہیں۔
اِس الزام میں کچھ وزن ہے۔ اِن امور کا کوئی دوٹوک علم موجود نہیں…… اور بلاشبہ نظموں پر بحث کرتے ہوئے اختلافِ رائے کی گنجائش کافی زیادہ ہے…… لیکن ہم اِس بات سے آغاز کرسکتے ہیں کہ کسی مسئلے پر اختلاف ہونے کا لازمی مطلب خالص موضوعیت نہیں۔ ہم اِس بات پر بھی جھگڑ سکتے ہیں کہ تشدد کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں…… مگر اس کے باوجود سوال میں ایک درست اور غلط موجود ہوگا، چاہے ہماری جہات کوئی سی بھی ہوں۔ ہم اِس بات میں بھی اختلاف کرسکتے ہیں کہ کوئی شخص ہاتھ ہلا رہا ہے یا ڈوب رہا ہے، لیکن یہ ناممکن ہے کہ وہ دونوں ہی کام کر رہا ہو۔ کوئی پیراک جب تک اپنی موت کے بارے میں لاتعلق رویہ نہ رکھتا ہو، تب تک ہم دونوں میں سے ایک لازماً غلط ہے۔ خالصتاً قیاسی انداز میں ہماری پیش کردہ آرا بعد میں، مزید شہادت دستیاب ہونے پر دیگی لوہے جیسی قطعیتییں ثابت ہو سکتی ہیں۔
جہاں تک ادبی دلائل کا تعلق ہے، تو ’’رابرٹ براؤننگ‘‘ کی ملُول گوتھک نظم "Porphyria’s Lover” کی ہی مثال لیں جس میں خطاب کنندہ والا (غالباً کوئی نفسیاتی مریض) بتاتا ہے کہ اُس نے کس قدر سرد دلی کے ساتھ اپنی محبوبہ کا گلا گھونٹنے کا فیصلہ کیا:
……I found
A thing to do, and all her hair
In one long yellow string I wound
Three times her little throat around
And strangled her . . .
And thus we sit together now,
And all night long we have not stirred
And yet God has not said a word
خاص طور پر "Thing to do” کا برجستہ پن (کہ جیسے بولنے والا اِس کی بجائے اپنی مونچھیں بھی تراش سکتا تھا) جھرجھری دوڑاتا ہے…… لیکن آپ آخری لائن کیسے پڑھیں گے؟ انتہائی بدیہی تفسیر یقینا اِسے ایک فاتحانہ نعرہ (شاید تھوڑا سا جنونی) قرار دینا ہے: عاشق نے اِس دہشت ناک فعل کے ذریعے خدا کو دانستہ طور پر تحریک دلائی ہے کہ خود کو منکشف کرے، مگر وہ بدستور خاموش رہا۔ چناں چہ یہ سارا ہیبت ناک قتل شاید ملحدیت کی سچائی کا مظاہرہ کرنے کا ایک تجربہ تھا…… لیکن مَیں نے یہ لائن ایک اداکار کے منھ سے سنی ہے…… جو افسردہ ناراضی کے لہجے میں ادائی کر رہا ہے۔ بلاشبہ اِس پڑھنے والے کے لیے خطاب کنندہ کوئی مسرور ملحد نہیں بلکہ ممکنہ اہلِ ایمان ہے جس نے خدا کو اپنا ہاتھ منکشف کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں محبوبہ کو قربان کر دیا ہے اور اب قادرِ مطلق کی کٹھور چُپ سے رنجیدگی بھری پژمردگی میں مبتلا ہے۔ یوں کہہ لیں کہ اُس نے اپنے خالق اور محبوبہ دونوں کو بیک وقت کھو دیا، اور وہ بھی خواہ مخواہ۔
اِس قسم کی مقابل تفاسیر میں سے ایک کو اپنانے کا کوئی صریح طریقہ موجود نہیں۔ ہم براؤننگ سے نہیں پوچھ سکتے، اور اگر پوچھ بھی سکتے، تو شاید تب بھی مسئلہ حل نہ ہوتا۔ اِس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ شعرا اپنی تحریر کے معنی کے بارے میں خصوصی طور پر کند ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ٹی ایس ایلیٹ نے ایک مرتبہ "The Waste Land” کو محض ایک طرح کی غنائی بڑبڑاہٹ قرار دیا تھا۔ البتہ وہ شاید ابن الوقتی کر رہا تھا۔ اِس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ جب براؤننگ سے اُس کی ایک نظم کا مطلب پوچھا گیا، تو اُس نے جواب دیا کہ اِسے لکھنے کے وقت ’’خدا اور رابرٹ براؤننگ جانتے تھے، اور اب صرف خدا جانتا ہے۔‘‘ البتہ جن لوگوں کے خیال میں یہ سوالات بہت زیادہ موہوم اور موضوعی ہیں (بمقابلہ ’’نظم کیا کہتی ہے‘‘) شاید اُنھیں پتا چلے کہ ’’نظم کیا کہتی ہے‘‘ کا سوال بھی ہمیشہ ہی احسن بنیاد نہیں رکھتا۔ مثلاً براؤننگ کے عنوان ہی کو لیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پورفائریا مقتول عورت کا نام ہے، کیوں کہ نظم اِس بات کو واضح کر دیتی ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ عاشق ضرور ایک مرد ہو گا…… لیکن ہم یہ کیوں فرض کرتے ہیں کہ بولنے والا مرد ہے؟ متن میں کوئی بھی چیز اِس کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ بات صرف یہ ہے کہ ہم نظم کا مفہوم نکالنے کی خاطر ’’نظم کیسے پڑھی جائے‘‘ مفروضے کو اِس میں لاتے ہیں۔ شاید بیان کنندہ بھی ایک عورت ہی ہو، اور شاید یہ ایک لیزبیئن تعلق ہو جو خوف ناک حد تک بگڑ گیا۔
بلاشبہ "Tonight’s gay feast” جملے کواِس مفروضے کے حق میں پیش کرنا بے حیائی ہوگا۔ معاملہ یہ بھی ہے کہ قاتلوں کی بہت بڑی اکثریت مرد ہیں، محض وہ قاتل نہیں جو سادیتی جنسی اُمنگوں سے تحریک یافتہ ہوتے ہیں۔ بیان کنندہ کا مغرور جنسی جذبۂ ملکیت اپنی نوعیت میں نسوانی کی بہ نسبت کہیں زیادہ مردانہ ہے۔ اور یہ امکان کہیں زیادہ ہے کہ ممتاز وکٹوریائی شاعر نے لیزبیئن جنسیت کے متعلق (چاہے کتنے ہی ڈھکے چھپے انداز میں) نہیں لکھا ہوگا۔
عنوانات نظموں کا جزو ہوتے ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عنوان مقتول کی بجائے قاتل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ چناں چہ حتیٰ کہ عنوان بھی ایک مریضانہ خود پسندی کا عکاس ہے جو (روایتی الفاظ میں بات کی جائے، تو) قابلِ استدلال طور پر نسوانی سے زیادہ مردانہ ہے (درحقیقت، آپ کو شک گزرتا ہے کہ براؤننگ نے مقتول کی بجائے عاشق کو عنوان میں رکھا، تاکہ اپنے اور اِس مرکزی کردار کے درمیان کچھ فاصلہ رکھ سکے، اور اُسے ایک مریض کے طور پر لے۔) پھر بھی ہم لیزبیئن تاثر کو یک سر مسترد نہیں کر سکتے۔ نظم کے بارے میں بدیہی طور پر انتہائی خود آشکار حقائق میں سے ایک متنازعہ ثابت ہوتا ہے ۔
اینڈریو مارویل کی "To His Coy Mistress” میں سے ان مشہور لائنوں میں لہجے (Tone) کے سوالات دوبارہ اُبھرتے ہیں:
But at my back I always hear
Time’s wings chariot hurrying near:
And yonder all before us lie
Deserts of vast eternity.
Thy beauty shall no more be found;
Nor, in thy marble vault, shall sound
My echoing song: then worms shall try
That long-preserved virginity,
And turn your quaint honour to dust,
And into ashes all my lust.
The grave’s a fine and private place,
But none, I think, do there embrace.
مابعدالطبیعیاتی کہلانے والی بہت سی شاعری کی طرح یہاں بھی خطاب کنندہ بیک وقت ہنسوڑ اور سنجیدہ دونوں لگتا ہے۔ چناں چہ یہ سطریں ادا کرنے والے ایک اچھے اداکار کو اُن کا شستہ پن پیش کرنے کی ضرورت ہوگی (خطاب کنندہ درحقیقت بہت سی بلند بانگ مابعدالطبیعیات کے ساتھ اُسے اپنے بستر میں لے جانے کی کوشش کر رہا ہے)، مع اُن کی عجلت اور اضطراب کی سر پٹکتی لہر کے۔ ممکن ہے کہ وہ بے تکلف اور مہلک حد تک پُرشوق دونوں ہو، اور یہ فرض کرنے سے تحریر زیادہ دلچسپ اور مبہم بن جاتی ہے۔ آخری دو سطریں بدمعاشانہ سے لے کر کھلنڈرے پن اور کٹیلے طنز تک کچھ بھی ہو سکتی ہیں، اِس کا انحصار اِس بات پر ہے کہ آپ شہوانی چھیڑ چھاڑ اور مابعدالطبیعیاتی اضطراب کے درمیان مجموعی تناسب کو کس طرح سے لیتے ہیں؟ آپ ان کی ادائی ایسے کر سکتے ہیں کہ حسن پرست فہم میں سے حقیقی بے قراری اور تند مزاجی جھانکنے لگے، شیطانی ٹھٹھول کے طور پر، یا ایک جذبات سے عاری بے ادبی کے طور پر بھی۔
لہجہ، مزاج وغیرہ شاید تفسیر کے معاملات ہوں…… جن پر نقاد جھگڑا کر سکتے ہیں؛ لیکن یہ اُن کے خالصتاً موضوعی ہونے جیسی ہی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر غور کیا ہے، ہم معنی پر بھی اختلاف کرسکتے ہیں…… لیکن عموماً اِس قسم کے جھگڑوں کی حدود ہوتی ہیں۔ بالکل ممکن ہے کہ پورفائریا کی عاشق ایک عورت ہو۔ تب بھی آپ اِس مفروضے کو اپنا سکتے اور تحریر کا مفہوم نکال سکتے ہیں؛ لیکن کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ عاشق ایک زرافہ ہے۔ اِس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ وکٹوریائی مصنفین نے بالعموم اپنی نظموں میں حیوانوں کی محبت کے بارے میں نہ لکھا، بلکہ اِس وجہ سے کہ متنی شہادت اِس کی تائید نہیں کرے گی۔ زرافے لوگوں کے بالوں کو اُن کے گلے کے گرد تین مرتبہ لپیٹ کر دم نہیں گھونٹتے۔ ایک عورت کا معبود ہونے کے خیال سے اُن کے دل نہیں پھولتے۔ نہ وہ خدائی، الحادی یا دیگر خیالات ہی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ہم سے پوچھے کہ ہمیں کیسے معلوم ہے کہ زرافے اپنے فارغ وقت میں مابعد الطبیعیاتی سوالات پر سوچ بچار نہیں کرتے، تو جواب میں بس اِتنا کہہ دینا کافی ہو گا: اُن کی سرگرمیوں کو دیکھ کر۔ ہمیں اِس بارے میں پُریقین ہونے کے لیے اُن کے دماغوں کے اندر گھسنے کی ضرورت نہیں۔ بالکل اُسی طرح جیسے مجھے یہ دیکھنے کے لیے آپ کے دماغ میں گھسنے کی ضرورت نہیں کہ جب میں آپ کو اپنے پیروں میں لوٹتا ہوا دیکھتا ہوں اور آپ کے جلتے ہوئے بالوں میں سے عجیب آوازیں آئیں، تو آپ واضح طور پر خوش نہیں ہیں۔
کیفیت، خطاب، معنی، تضمین، علامتیت، حساسیت، فصاحت کے اثر وغیرہ جیسے زیادہ فریبندہ سوالات پر بھی تقریباً یہی بات صادق آتی ہے۔ اِن چیزوں کے متعلق رائے میں سنگین اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، لیکن اِس حوالے سے بھی مجبوریاں موجود ہیں کہ یہ کتنی گہرائی تک جا سکتی ہیں؟ کم ازکم ایک جیسی ثقافت رکھنے والوں لوگوں کے لیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ کیفیات اور احساسات بھی معنی ہی کی طرح سماجی معاملات ہیں۔ ایسا نہیں کہ معنی عوامی جب کہ احساس نجی چیز ہو۔ محض ایک بے آبرو فلسفیانہ روایت ہی ہمیں اِس انداز میں سوچنے پر مائل کرتی ہے۔ اِس تھیوری کے مطابق میرے احساسات کچھ نجی اور موضوعی چیز ہیں۔ مَیں اُنھیں داخلی، وجدانی طور پر جانتا ہوں۔ محض اپنے اندر ایک نظر ڈال کر ہی مجھے پتا چل جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے، تو یہ دیکھنا مشکل ہے کہ میں کبھی کبھی اپنے محسوسات کی غلط شناخت کیسے کر سکتا ہوں؟ ایسے جملے کہنا مشکل ہو جاتا ہے: ’’مجھے معلوم نہیں کہ مَیں خوف زدہ ہوں یا نہیں!‘‘ یا ’’میرے خیال میں اِس وقت اُس کے لیے فکر مند ہوں، لیکن پیچھے مُڑ کر دیکھوں۔ تو لگتا ہے کہ مجھے اُس کی ذرا بھی فکر نہیں ہوتی تھی!‘‘ بہرکیف جب مَیں اپنے اندر جھانکتا ہوں، تو وہاں جو کچھ بھی موجود ہے اُس کی شناخت کیسے کرتا ہوں؟ مجھے کیسے معلوم ہے کہ محسوس ہونے والی چیز نفرت نہیں بلکہ رشک ہے؟ صرف اِس لیے کہ مَیں پہلے سے رشک کا تصور رکھتا ہوں، تاکہ اپنے اوپر غور کرتے وقت دریافت ہونے والے جذبات و احساسات کے سارے تلاطم میں سے اِس احساس کو شناخت کرنے میں مدد ملے۔ اور مَیں نے یہ تصور بچپن میں زبان سے متعارف کروائے جانے کے ذریعے سیکھا۔ اگر میرے پاس زبان نہ ہوتی، تو میرے احساسات پھر بھی ہوتے، لیکن یہ معلوم نہ ہوتا کہ وہ کیا ہیں؟ اور کچھ احساسات جو اِس وقت موجود ہیں وہ سِرے سے موجود ہی نہ ہوتے۔ برٹولٹ بریخت نے یہ نکتہ احسن طریقے سے پیش کیا ہے :
آپ آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ انسانی تعلیم نہایت تھیٹری خطوط پر آگے بڑھتی ہے۔ بالکل تھیٹری انداز میں بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ کیا طرزِ عمل اپنانا ہے؛ منطقی دلائل بعد کی چیز ہیں۔ اُسے بتایا یا دکھایا جاتا ہے کہ جب فلاں فلاں بات ہو تو ہنسنا چاہیے۔ جب قہقہہ لگے، تو وہ بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے، وجہ جانے بغیر؛ اگر پوچھا جائے کہ ہنس کیوں رہا ہے؟ تو وہ بالکل گڑبڑا جاتا ہے۔ اِسی طرح وہ رونے کے علاوہ آنسو بھی بہانے لگتا ہے، کیونکہ بڑے ایسا کر رہے ہوتے ہیں، لیکن حقیقی دکھ کا احساس بھی ہوتا ہے۔ جنازوں کے موقع پر یہ دیکھا جا سکتا ہے جس کا مفہوم بچے بالکل نہیں سمجھ پاتے۔ یہی تھیٹری واقعات کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔ انسان حرکات و سکنات، تاثرات، آواز کے لہجوں کی نقل کرتا ہے۔ رونا دُکھ سے تحریک پاتا ہے،لیکن دُکھ بھی رونے میں سے اُبھرتا ہے۔
بریخت کا کیس بہت زیادہ ’’ثقافت پسند‘‘ (کلچرسٹ) ہے: مثلاً بہت چھوٹے بچے قہقہے کا سماجی دستور سمجھنے سے بہت پہلے بھی ہنستے ہیں۔ وہ روتے اور مسکراتے بھی ہیں۔ ایسی سرگرمیاں جس کی حیاتیاتی بنیادیں موجود ہیں۔ پھر بھی بریخت کچھ نہایت اہم بات کہہ رہا ہے جو اُس نے ’’فلسفیانہ طور پر‘‘ نہیں بلکہ ایک ڈرامہ نگار اور تھیٹر ڈائریکٹر کے طور پر اپنے عملی کام کے ذریعے سیکھی۔ تھیٹر میں جذبہ واضح طور پر ایک عوامی معاملہ ہے، جب کہ بیڈروم کے معاملے میں ہرگز ایسا نہیں۔ بریخت نے اپنی زیادہ تر زندگی اداکاروں کو احساس کے انداز اور ادائی و رویے کی اقسام سیکھتے ہوئے دیکھا جو اُنھیں موزوں لگتی تھیں۔ تھیٹر اُسے حقیقی زندگی کے بارے میں کچھ دکھا سکتا تھا، جسے حقیقی زندگی چھپانے پر مائل تھی۔ وہ تھیٹری ریہرسلوں میں سیکھی ہوئی چیزوں کو بالعموم انسانی جذبات اور اُن کے نقالانہ کردار پر لاگو کرنے کے قابل تھا۔
کسی ثقافت میں پرورش پانا سوچنے کے مخصوص طریقوں کی ہی طرح احساس کی موزوں صورتیں سیکھنے کا بھی معاملہ ہے…… اور اُس ثقافت کی زبان اور طرزِ عمل میں یہ سب کچھ جذب شدہ ہوتا ہے۔ چناں چہ ایک زبان کو شیئر کرنا زندگی کی ایک صورت کو شیئر کرنا ہے۔ اِس سے یہ مراد لینا کہ ہمارے احساسات کبھی مخلصانہ نہیں ہوتے، یہ سوچنے جیسا ہو گا کہ مَیں کبھی الفاظ "I love you” استعمال نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ کروڑوں لوگ اُنھیں پہلے بھی استعمال کر چکے ہیں۔
مثلاً نجی ملکیت کے تصور اور دستور سے عاری ثقافت میں آپ ارب پتی کاروباری بننے کی کھولتی ہوئی خواہش تصور میں نہیں لا سکتے۔ اِس کا مطلب یہ دعوا کرنا نہیں کہ اِس طرح کی ثقافت لالچ یا اولو العزمی کے احساسات سے عاری ہو گی۔ اگر ہمارے سیکنڈ کزن مختلف ثقافت میں رہتے ہوں اور وہاں کزنز کی شادی کرنا ’’ٹیبو‘‘ نہ ہو، تو عموماً ہم اُنھیں دیکھتے ساتھ ہی کراہت محسوس نہیں کرتے۔ ہمارے محسوسات کا تعین اِس بات سے ہوتا ہے کہ ہم کس قسم کے میٹریل سے بنے ہوئے جانور ہیں…… لیکن جس چیز کو ہم احساسات کے انداز کہتے ہیں، اُن کی تشکیل ہمارے ثقافتی دساتیر سے ہوتی ہے اور یہ دونوں عوامی معاملات ہیں۔
لہٰذا بچے اپنے اِرد گرد طرزِ عمل کی مختلف اقسام کا مشاہدہ کرتے اور اِسے اظہاری طرزِ عمل کے طور پر سیکھتے ہیں۔ یوں جذبات کے بارے میں اُن کی تفہیم لوگوں کے کیے ہوئے مادی کاموں کی نوعیت سے بندھی ہوتی ہے، اور اِس قسم کی عملی صورت ہائے حیات میں پرورش پانے سے بھی۔ اداکاروں کی طرح (البتہ حقیقت میں بریختی اداکاروں میں نہیں) وہ کبھی کبھی جذبے کی نقالی سے شروع کرتے اور انجامِ کار اُنھیں حقیقت میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ہماری طرح کی ثقافتوں میں عموماً وہ سکھاتے رہتے ہیں کہ احساسات نجی، فطری، داخلی اور ہمہ گیر ہیں…… لیکن یہی احساسات کو محسوس کرنے کا ثقافتی انداز ہے۔ بلاشبہ ہم میں فطری، ہمہ گیر احساسات موجود ہیں، جیسے کسی پیارے کی موت پر دکھ، کیوں کہ ہم اسی طرح کی مخلوق ہیں؛ البتہ یہ ایک ثقافتی معاملہ ہے کہ ہم اِس دکھ کا کیا کرتے ہیں…… اور دیگر ایسے جذبات بھی ہیں، جیسے ’’رسمی ڈنر پارٹی‘‘ میں غلط کانٹے چھری کو استعمال کرنے کی وجہ سے شرمندگی، جو شاید کچھ دیگر ثقافتوں میں بعید از فہم ہوں گے۔
یہ سمجھنا بھی مشکل ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کو اپنے ’’اندر‘‘ کیوں خیال کرنا اور عوامی منظر کو بند کر دینا چاہیے؟ ایسے شخص کا غصہ کے اندر ہونے کی بات کرنا، کچھ کہنا عجیب لگتا ہے…… جو فرنیچر توڑنے اور اپنے بال نوچنے میں مصروف ہو۔ بلاشبہ ہم اپنے جذبات کو چھپا یا منتشر کرسکتے ہیں…… لیکن فطرت اُنھیں چھپاتی نہیں؛ اور اُنھیں چھپانا ایک پیچیدہ سماجی دستور ہے جو ہمیں سیکھنا ہے۔ بدقسمتی سے شیر خوار بچوں نے ابھی یہ نہیں سیکھا ہوتا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ مخاصمانہ طرزِ عمل اپنانے والے شخص کا کینہ اُس کے ’’اندر‘‘ ہے۔ کیوں کہ کینہ دیگر چیزوں کے علاوہ احساسات کا معاملہ بھی ہے، اور احساسات عام دنیا کا اُس طرح حصہ نہیں ہوتے جیسے بلیئرڈ ٹیبلز۔ تاہم، ایک اور مفہوم میں یوں کہہ لیں کہ گانے والے کسی شخص کے سُر اُس کے اندر ہیں۔ یہ کہنا گمراہ کن ہو گا کہ وہ شخص گا رہا ہے یا کینہ محسوس کر رہا ہے، نہ کہ کوئی اور۔
جذبات نجی امور نہیں کہ جنھیں گاہے بگاہے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ انگلش لوگوں کے لیے بھی نہیں۔ اسی طرح یہ خیال بھی باطل ہے کہ معنی ہمارے دماغوں میں ایک نجی عمل ہے۔
احساسات کے بارے میں باطل موضوعی نقطۂ نظر کی ایک مثال گلوکار ’’واں موریسن‘‘ کے گائے ہوئے آئرش گیتوں میں مل سکتی ہے۔ موریسن کی پرفارمنس میں (کم ازکم روایتی آئرش موسیقی کے ہم جیسے کچھ شائقین کے لیے) مفقود عنصر یہ ہے کہ وہ جذبے کو ایسی چیز سمجھتے لگتے ہیں جسے سُروں اور نغموں کے بول میں اوپر سے شامل کیا جاسکتا ہو۔ اِسی لیے ’’موریسن‘‘ گاتے ہوئے اتنی نمود پسند، ’’احساس سے بھرپور‘‘ برجستگی دکھاتا اور کہیں گِریہ کی تکرار کرتا، تو کہیں سسکیاں بھرتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اُسے اپنے مواد پر اتنا بھروسا نہیں کہ گیتوں کے اندر احساسات (جنھیں الفاظ یا موسیقی سے جدا نہیں کیا جاسکتا) پہلے سے موجود ہونے کو پرکھ سکے۔ سُر اور بول اِس لیے ایسی شکل میں کیوں کہ وہ اپنے اصل مواد میں احساس کے مخصوص ڈھنگ رکھتے یا اُن کا اظہار کرتے ہیں۔ چناں چہ اگر یہ مواد مختلف ہوتے، تو جذباتی ڈھنگ بھی مختلف ہوتے۔ موریسن کو سن کر آپ کا دل کرتا ہے کہ کسی اور گلوکار کے متعلق ’’والیس سٹیونز‘‘ کا کہا ہوا جملہ اپنا لیں:’’لیکن ہم نے گیت کو نہیں بلکہ اُسے سنا۔‘‘
یوں سمجھ لیں کہ اِس شعبے میں موریسن کی پرفارمنس ایک نقص زدہ علمیات (Epistemology) کو منعکس کرتی ہے، خواہ وہ اِسے سن کر کتنا ہی حیران ہو۔ اگر وہ ’’جوش‘‘ کے اچانک دوروں میں ڈوبنا اور سسکیاں لینا بند کر دے، تو شاید یہ دیکھنے کے قابل ہوجائے کہ اُسے گیتوں میں اپنے ’’موضوعی‘‘ احساسات کا اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اُسے تو بس کسی (Sean-ns) روایتی آئرش گلوکار کی طرح اتنا کرنا ہے کہ اُنھیں خود بخود باہر آنے دے، نہ کہ اُن پر اپنی ’’شخصیت‘‘ کی چھاپ لگائے۔ اِس قسم کا اظہار اِس اعتبار سے ’’موضوعی‘‘ ہے کہ ہر گلوکار یا موسیقار اپنے اپنے انداز میں گاتا/ گاتی ہے؛ لیکن یہ اِس مفہوم میں ’’موضوعی‘‘ نہیں کہ اِن گیتوں کا مفہوم اور جذباتی قوت خالصتاً پیش کار کے عطا کردہ ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آئرش موسیقار سامعین کی طرف پشت کر کے گانے کے لیے مشہور رہے ہیں۔
احساس کو موضوعی طور پر اوپر سے شامل کردہ قرار دینا خود گیتوں کو انتہائی جامد مواد والا سمجھنا ہے کہ جسے پیش کار کو روح پھونک کر زندہ کرنا پڑے۔ موضوعیت کی دوسری طرف معروضیت ہے۔ گیت احساس اور جذبے کے بغیر اِس قدر بے شعور طور پر موجود ہیں کہ ایک انسانی موضوع کے محض چھونے سے ہی اُنھیں اظہاری معنی مل جاتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر لطیف انداز میں انسانی شعور کے سوا ہر ایک چیز کی قدر ختم کر دیتا ہے، اور یوں یہ احساس کے متقی عقیدے کے باوجود انسانی تکبر کا ایک نمونہ ہے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔