فضل محمود روخانؔ سوات اور پختون خوا کے ادبی حلقوں میں روخانؔ ہی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ روخان صاحب اسم بامسمیٰ ہیں، روشن و تاباں شخصیت کے مالک۔ وہ زندہ رہنے کا سلیقہ بھی جانتے ہیں اور تماشائے زندگی دیکھنے کا ہنر بھی۔ وہ ایک اچھے کالم نگار، ادیب اور نثری نظموں کے بہترین شاعر ہیں، مگر اس سے بڑھ کر وہ پشتو ادب کے خدائی خدمت گار ہیں اور ان کی یہ بے لوث خدمت مستقل مزاجی کے ساتھ کئی عشروں پر محیط ہے۔
مَیں روخانؔ صاحب کو پچھلے 28 برس سے جانتا ہوں۔ جون 1994ء میں شادی کے بعد میں اور تور پیکئی خوشحال اسکول کے انتظام اور انصرام کے لیے سوات منتقل ہوگئے۔ میرے دوسرے قریبی دوستوں کے علاوہ سوات میں مستقل رہائش کی ایک بڑی کشش فضل ربی راہیؔ، فضل محمود روخانؔ، عثمان اولسیار اور شوکت شرار جیسی ادب پرور شخصیات سے تعلق اور دوستی بھی تھی۔ مینگورہ کی 18 سالہ خوب صورت اور بھرپور زندگی کے دوران میں، مَیں جب بھی لنڈیکس یا گل کدہ میں اپنے گھر سے سودا سلف لینے یا کسی دوسرے کام کی غرض سے مینگورہ کے بازاروں میں جاتا، تو اکثر روخانؔ صاحب کے پاس ان کی دکان پر ضرور حاضری دیتا اورحاضری کیوں نہ دیتا، وہ سخی آدمی ہیں، ہر دفعہ بڑے پیار سے چائے پلاتے اور ساتھ ہی ان سے گفت گو کرنے میں ایک الگ چاشنی اور مزہ ہوتا۔ وہ ایک اچھے سننے و ا لے ہیں اور مہذب اور شائستہ اتنے کہ ان کی محفل میں آپ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک خوب صورت پہلو ان کی دریا دلی اور وسیع الظرفی ہے۔ ان کی بردباری اور رواداری کی وجہ سے ان کے حلقۂ احباب میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ یعنی روحانی، علمی، ادبی، سیاسی، سماجی اور تعلیم و تعلّم سے وابستہ افراد۔ صبح اگر وہ کسی روحانی بزرگ سے ان کے خانۂ خلوت میں ملاقات کرتے ہیں، تو شام کو جاکے چند آزاد منش اور آزاد خیال دوستوں میں مل بیٹھتے ہیں۔ یہ ہم آہنگی اور رواداری ہر کسی کے مزاج میں موجود نہیں۔ وہ بیک وقت نامی گرامی شخصیات کے بھی دوست ہیں اور گم نام فقیروں کے بھی دل دادہ۔
زیرِ تبصرہ کتاب سے یہ اندازہ بہ خوبی ہوتا ہے کہ روحانی شخصیات کی طرف ان کا رجحان زیادہ ہے۔ وہ خدا کے دوستوں کے دوست ہیں اور ان کے سایۂ عاطفت میں روحانیت سے سرشار ہیں۔ وہ دوستوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ سوات کے کئی ایک لوگوں سے میری شناسائی روخانؔ صاحب کی وساطت سے ہوئی۔ وہ خدا کے نیک بندوں کے روحانی فیض کو عام کرنے میں بخل سے کام نہیں لیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔




کتاب "ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” کا ٹائٹل پیج۔ (فوٹو: فضل ربی راہیؔ)

1994ء میں جب مَیں نے لنڈیکس میں خوشحال پبلک اسکول کے باقاعدہ افتتاح کا ارادہ کیا، تو یہ روخانؔ صاحب ہی تھے جنہوں نے مجھے مولانا رحیم اللہ بابا جیؒ سے ملوایا اور ان ہی کے بابرکت ہاتھوں سے خوشحال اسکول کا افتتاح ہوا۔ کئی سالوں کے بعد جب خوشحال اسکول میں کالج کا اضافہ ہوا، تو اس کی تقریب رونمائی بھی مولانا رحیم اللہ بابا جیؒ کی دعاؤں سے ہوئی۔ اکتوبر 2012ء میں ملالہ پر قاتلانہ حملے کے بعد خوشحال اسکول گوناگوں مصائب اور مشکلات سے گزرا۔ کئی مواقع پر میں بھی ناامیدی کا شکار ہوتا رہا…… لیکن یہ یقین ہمیشہ غالب رہا کہ چوں کہ اس ادارے کا آغاز رحیم اللہ بابا جیؒ کی دعاؤں سے ہوا ہے، اس لیے اس کا فیض تا ابد جاری رہے گا اور ماشاء اللہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔
سوات کی ایک اور اہم اور بااثر شخصیت مرحوم کامران خان تھے۔ روخانؔ صاحب ہی نے مجھے ان سے متعارف کرایا تھا۔ مرحوم کامران خان اور روخان صاحب نے ’’چاچا کریم بخش پختو ادبی ایوارڈ‘‘ کا اجرا کیا تھا اور دونوں کی مخلصانہ کوششوں سے یہ ایوارڈ بہت کم عرصے میں مقبول ہوگیا تھا۔ میرے لیے یہ اَمر باعثِ افتخار ہے کہ میں چاچا کریم بخش پختو ایوارڈ کی کمیٹی کا ممبر رہا ہوں۔ اس حوالے سے مجھے کامران خان کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے ادبی، سماجی اور سیاسی گفت گو سننے کا موقع ملتا تھا۔ کامران خان میری شاعری کی حوصلہ افزائی کرتے تھے جس سے مجھے بہت اعتماد ملتا۔ اس ذکرِ خیر کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ بھی روخانؔ صاحب کے حلقۂ احباب میں شامل ہیں، تو آپ بھی اس بات کی گواہی دیں گے کہ وہ اہم لوگوں کو باہم قریب لانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔
روخانؔ صاحب نے کیسا اور کتنا ادب تخلیق کیا ہے، اس کا صحیح تجزیہ تو شعرو ادب کے نقاد ہی کرسکتے ہیں لیکن میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ روخانؔ صاحب پشتو ادب کے ان معدودے چند سرخیلوں میں شامل ہیں جنہوں نے سوات میں شعرو ادب کی ترقی کے لیے ایک ادب پرور ماحول کی بنیاد ڈالی ہے۔’’سوات ادبی سانگہ‘‘ کے قیام سے لے کر ’’چاچاکریم بخش پختو ادبی ایوارڈ‘‘ کے اجرا تک روخانؔ صاحب نے پشتو ادب کی ترقی کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ روخانؔ صاحب کی اس کتاب پر تبصرہ کرنے کی بجائے مَیں نے روخانؔ صاحب کی شخصیت پر چند سطور لکھ کر کتاب میں ایک اور خاکے کا اضافہ کردیا ہے۔ کیوں کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ میرے تبصرے سے زیادہ یہ کتاب آپ کی نظرِ کرم کی منتظر ہے۔ اسے خرید لیجیے اور پڑھ لیجیے۔ ذاتی طور پر میری اس یقین دہانی کے ساتھ کہ آپ کسی ایک شخصیت کا خاکہ پڑھیں گے، تو پھر پوری کتاب پڑھتے چلے جائیں گے۔ یہ ایک مشفق اور مہربان شخصیت کی ایک خوب صورت کتاب ہے ۔ ایک ایسی شخصیت جو اپنی کتاب کے ٹائٹل پر خود بھی پورے اترتے ہیں۔
جی ہاں! ’’روخان صاحب، ملنے کے نہیں نایاب ہیں۔‘‘
……………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔