تبصرہ نگار: راجا محمود قاسم 
’’ایتل عدنان‘‘ کا فرانسیسی ناولٹ "Sitt Marie Rose” کا اُردو ترجمہ ’’تنویر انجم صاحبہ‘‘ نے کیا ہے…… جس کو ’’دس لاکھ پرندے‘‘ کے نام سے عکس پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔
یہ ناولٹ بیروت کی خانہ جنگی کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ ایتل عدنان کیوں کہ خود لبنانی نژاد تھیں…… ان کی پیدائش لبنان میں ہوئی، تو اس خانہ جنگی کی بھیانک پن کو جیسے وہ محسوس کر سکتی تھیں، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔
یہ ایک ایسی باہمت خاتون کی کہانی ہے جو بیروت میں جاری اس خانہ جنگی میں کھل کر فلانجسٹوں جو کہ اس کے ہم مذہب بھی ہوتے کے مظالم کے خلاف مظلوم فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔
یہ کتاب بظاہر تو مختصر ہے…… مگر اس کا پیغام بہت وسیع ہے۔ یہ اس سماج کی تصویر کشی کرتی ہے جو خانہ جنگی کا شکار ہوں۔ وہاں کے رہنے والے لوگوں کو یہ فتنہ و فساد کس طرح متاثر کرتا ہے، وہ لوگ نارمل زندگی کے تھوڑے سے لمحات کے لیے بھی کس طرح ترستے ہیں؟ اس ناولٹ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اس ناولٹ میں انسانی جبلت کے ایک پہلو کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ جنگ زدہ ماحول میں بھی وہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کرکے اس میں جینا سیکھ لیتا ہے۔ اور پھر جو معاشرے طویل جنگ کی لپیٹ میں آتے ہیں، تو وہاں کے بسنے والے انسان بے خوف ہو جاتے ہیں۔ جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی ہے اور امن و امان کی کوئی امید برقرار نہیں رہتی، تو انسان کی سوچ اس حالت میں زندہ رہنے کے لیے بے خوف ہو جاتی ہے۔ وہاں پر رہنے والی خواتین ہر وقت اس بات کے لیے تیار رہتی ہیں کہ ہمارے گھر سے نکلنے والے مرد کسی بھی روز موت کا شکار ہو جائیں گے۔
خانہ جنگی کے ماحول میں ایک گروہی دستوں کے نزدیک لوگوں کے درمیان تفریق کس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سے مختلف لوگوں کی زندگی اتنی غیر اہم اور معمولی محسوس ہوتی ہے اس کو بیان کرنے کے لیے فلانجسٹ فواد کے یہ الفاظ اپنے اندر کیسی بے دردی سموئے ہوئے ہیں کہ ’’ہمارے صرف ایک سو پچاس آدمی مارے گئے ہیں، بس……! باقی سب شہری تھے۔‘‘
مطلب اہمیت فقط اُن 150 کی ہے…… جو اس گروہ سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ باقی جو لوگ مارے گئے اور تعداد میں بھی بہت زیادہ ہیں…… ان کا مرنا اتنے معنی نہیں رکھتا۔
موجودہ حالات میں بھی جب کسی جگہ جنگ چل رہی ہوتی، تو فقط ان لوگوں کی لاشیں اہمیت رکھتی ہوتی ہیں جو آپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران میں جو سویلین بڑی تعداد میں اپنی جان گنواتے ہیں…… ان کی موت کوئی پریشان کن امر نہیں۔ اس کتاب میں ایسے المیے اور بھی جگہ جگہ بیان کیے گئے ہیں جن میں سے یہ ایک مثال تھی۔
مصنفہ لکھتی ہیں: ’’مَیں اپنے آپ سے کہتی ہوں: یہ بہتر ہوگا کہ لبنان کے آسمان پر دس لاکھ پرندے کھلے چھوڑ دیے جائیں…… تاکہ یہ شکاری ان پر طبع آزمائی کرتے رہیں اور خون سے بچا جاسکے۔‘‘
کتاب کا نام اس خواہش میں چھپا ہے۔ یہ انسانی خوں ریزی کے ختم ہونے کی ایک خواہش ہے۔
جنگ زدہ ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے ایک اور جگہ مصنفہ لکھتی ہیں: ’’دوستوں کے درمیان فون کالز مختصر اور تعداد میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔‘‘
یہ ایمرجنسی صورتِ حال کی ایک حقیقت پسندانہ صورت ہے۔ جب دوستوں کے مابین کال کا دورانیہ کم اور ان کی تعداد زیادہ ہو جائے، تو مطلب یہ ہی بنتا ہے کہ مسئلہ گھمبیر ہے اور پریشانی دونوں جانب ہے۔ جب تک اس صورتِ حال سے انسان نکلتا نہیں…… معاملات کچھ ایسے ہی رہتے ہیں۔
ایک اور اقتباس جنگ کی ہولناکی اور وہاں کے رہنے والوں کے ذہن کو متاثر کرنے کے حوالے سے بہت اہم ہے: ’’یہ ملک خون سے داغ دار ہو رہا ہے۔ دیواریں خون سے لت پت ہیں اور کوئی بچہ ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے ایک لاش یا ایک پھانسی نہ دیکھی ہو۔ یہ ایک بیمار دنیا ہے، جس کے حوضوں میں تیل اور خانقاہوں کے بالاخانوں پر توپیں ہیں۔‘‘
’’میری روز‘‘ کے اپنے بچپن کے دوست ’’منیر‘‘ کے ساتھ گفتگو کافی متاثر کن ہے۔ ’’منیر‘‘ جو ’’فلانجسٹ‘‘ ہے اور ’’میری روز‘‘ کی فلسطینیوں سے ہم دردی اس کو پسند نہیں۔ وہ اس کو قائل کرنے کی بہت کوشش کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو اپنا دشمن گردانے۔ کیوں کہ یہی وقت کا تقاضا ہے…… مگر ’’میری روز‘‘ اس کے دباؤ میں نہیں آتی اور بہت دلیری سے اپنے موقف اور عمل کا دفاع کرتی ہے۔ ’’منیر‘‘ جب ’’میری‘‘ کو سمجھا رہا ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کی موجودگی باعثِ اشتعال ہے، تو اس کے جواب میں ’’میری روز‘‘ کہتی ہے: ’’کسی نے ان کے شاعروں کو مار دیا، جب آپ شکار میں مصروف تھے ۔ کسی نے ان کے سیاسی رہنماؤں کو نیند میں مار دیا، جب آپ مانٹی کارلو میں کاروں کی ریلی یا اطالوی گرینڈ پری کی نقل کرتے ہوئے، پہاڑی راستوں پر جنگلیوں کی طرح گاڑیاں چلا رہے تھے۔ کسی نے ان کے کیمپوں پر بمباری کی، جب آپ باہر رقص میں مگن تھے۔ اقوامِ متحدہ میں لوگوں نے ان کی تاریخ کی سودے بازی کی، جب آپ خفیہ طور پر ان کے حملہ آوروں کے امدادی ہتھیاروں سے خود کو مسلح کر رہے تھے…… تاکہ ایک دن آپ انھیں ان کی پشت میں گھونپ سکیں۔‘‘
’’منیر‘‘ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ ’’یہ ہمارا ملک ہے اور ہم یہاں بالکل مطمئن ہیں۔‘‘ اس کے جواب میں ’’میری روز‘‘ کہتی ہے: ’’مطمئن ہونا اخلاقیات سے بڑھ کر کب ہو؟‘‘
’’منیر‘‘ اور ’’میری روز‘‘ کے درمیان یہ گفتگو بظاہر علامتی ہے…… مگر اس کے اندر کے تلخ حقائق اور مشاہدات غور طلب ہیں۔
اس ناولٹ کی سب سے اہم خوبی اس کا علامتی انداز ہی ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ کوئی اس کے اس پہلو پر توجہ نہ دے، تو اس کو یہ کتاب بھلی معلوم نہ ہو۔ اگر اس پہلو کو سامنے رکھ کر یہ کتاب پڑھی جائے، تو آپ کو یہ ضرور لطف دے گی۔
دوسرا اس کتاب کے مطالعہ کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو لبنان کی خانہ جنگی کے بارے میں بنیادی معلومات ہوں…… جس کے تناظر میں یہ ناولٹ لکھا گیا ہے۔ کتاب پڑھنے سے پہلے مَیں بھی ناواقف تھا۔ پھر ’’وکی پیڈیا‘‘ وغیرہ پر اس حوالے سے کچھ بنیادی تحریریں دیکھیں جس سے اس کے بارے میں کچھ کچھ معلومات حاصل کیں اور ہنوز اس بارے میں مزید جاننے کے لیے اور بھی پڑھنے کا ارادہ ہے۔ اس بارے میں اُردو میں کم مواد ملتا ہے۔
گروہی مفادات کے خلاف کھڑا ہونا کوئی عام بات نہیں ہوتی…… بلکہ جب آپ پورے گروہ کے مزاج کے خلاف اپنی بات کریں، تو پھر آپ کو بہت سی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے…… بلکہ یہاں تو ’’میری روز‘‘ کی یہ ہمت اس کا جرم بن کر اس کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔
ہمارا ملک بھی لسانی، قومیت پرست اور فرقہ پرست گروہوں کے مفادات کی خاطر کئی بار بدامنی کا شکار ہوا ہے۔ اس وقت ان گروہوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو وہ گروہ کبھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ہمارے ہاں وکلا تحریک بھی ایک مثال ہے جب اس تحریک کے اوپر منطقی اور منصفانہ اعتراضات کرنے والوں کو بھی ہم خاطر میں نہ لائے۔ نیز سول سوسائٹی، میڈیا، طلبہ اور سیاسی جماعتیں اس طوفان کی رو میں بہہ گئے اور اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو خاموش کرانے کے لیے اس پر تشدد کیا گیا اور ہم بھی اس تشدد کی مذمت کی بجائے اس کا جواز تراشتے رہے۔
یہ فقط لبنان کی خانہ جنگی یا گروہی مفادات کے خلاف آواز نہیں بلکہ اس کو ہم اپنے سماج میں دیکھیں، تو ہم کو یہ ناولٹ اپنے سماج سے میل کھاتا ملے گا۔
کتاب کی ایک اور خوبی اس کا ترجمہ ہے۔ پڑھنے والے کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ کوئی اُردو کی کتاب پڑھ رہے ہیں یا پھر کوئی ترجمہ! کیوں کہ جملوں میں روانگی سے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اُردو کی ہی کوئی مستقل تصنیف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کتاب کے آغاز میں تنویر انجم صاحبہ نے کتاب پر ایک معروضی تعارف پیش کیا ہے…… جس کو پڑھنے کے بعد کتاب کو سمجھنے میں مزید مدد ملتی ہے۔ عالمی ادب کے تراجم میں سے ایتل عدنان کی یہ کتاب ایک عمدہ اضافہ ہے۔
آخر میں کتاب سے چند اقتباسات:
٭ مَیں نے دعاؤں کو اپنی نجات کے لیے بلایا مگر وہ نہیں آئیں۔ نفرت نے مجھے اپنے شر میں جکڑ لیا۔ میرے سینے کے پٹھے سکڑ گئے اور یہ سختی ایک فولادی ہاتھ کی طرح میری گردن کی ہڈی تک پہنچ گئے۔کئی بار، اس رات کے دوران میں جو کبھی ختم ہوتی معلوم نہیں ہوتی تھی، میری سانس گھٹ گئی۔ مَیں ایک سرد پسینے میں اینٹھ رہی تھی اور چیخنے سے خوف زدہ تھی اور اپنے خانوں میں میری آنکھیں دکھ رہی تھیں جیسے کہ وہ مجھے چھوڑ دینا چاہتی ہوں۔ رات کی ضخامت کو ایک چاکو سے کاٹا جاسکتا تھا۔ میرے تھوک نے نگلے جانے سے انکار کر دیا اور میں تھکن سے چور تھی۔
٭ طاقت ہمیشہ فحش ہوتی ہے۔ صرف حسیات کو موٹا کرکے ہی دماغ انسان کے لیے طاقت حاصل کرتا ہے اور اسے برقرار رکھتا ہے اور تمام طاقت آخرِکار اپنا اظہار سزائے موت میں کرتی ہے۔
٭ آپ اسے پسند کریں یا نہیں، پھانسی ہمیشہ ایک جشن ہوتی ہے۔یہ علامتوں کا رقص ہے جنہیں موت استحکام بخشتی ہے۔ یہ بے عفو خاموشی کی تیز پرواز ہے۔ یہ ہمارے درمیان مکمل تاریکی کا دھماکہ ہے ۔ اس سیاہ ضیافت میں سوائے رقص کے کوئی کیا کر سکتا ہے ؟”
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔