اس ناولٹ ’’تم چلو ہم آتے ہیں‘‘ (1972ء) کی ہیروئین نوید ہے اور ہیرو پروفیسر منور اور یہ ناولٹ بڑے زور دار انداز میں کچھ ایسے شروع ہوتا ہے کہ ہم پہلے ہی صفحے میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔
’’نوید نے سر اٹھا کر پروفیسر منور کی طرف دیکھا جو نوید سے معاہدہ عمرانی پر سوال کر کے جانے کہاں کھوگئے تھے۔ خاموش سی کلاس میں ریلوے کراسنگ سے آتی ریل کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ پروفیسر منور نے سوچتے سوچتے چونک کر بے چین نگاہوں سے پوری کلاس کا جائزہ لیا اور بغیر کچھ کہے وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔ ’’یہ عموماً ایسا ہی کرتے ہیں‘‘ کسی نے جل کر کہا۔ ’’مگرپیریڈ تو اوور ہوا نہیں!‘‘، ’’……میری بلا سے!‘‘، ’’مجھے تو لگتا ہے کہ ریل دیکھنے کے بڑے شوقین ہیں!‘‘ ایک منچلی طبیعت نے مذاق اُڑا کر کہا ’’ہائے! کیا ایسا اثر ہوا ہے؟‘‘ کسی نے رازدارانہ انداز میں سسکاری لی۔ ریل…… ریل کی آواز ہاں ایسا اکثر ہوا ہے۔ یہ قصہ بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ ڈیپارٹمنٹ بھر میں اندیشوں کے سپنولیے رینگ گئے۔‘‘
شاگرد اپنے استاد کو "Idealize” کرتے ہیں۔ اُس کی اک اک ادا سے متاثر ہوتے ہیں۔ اُس کی ہر بات پر نظر رکھتے ہیں۔ کیوں کہ یہی سیکھنے اور سمجھنے کی عمر ہوتی ہے۔ منو ر ایک پُرکشش پروفیسر ہے اور لڑکیاں اُسے پسند کرتی ہیں…… مگر ریل والی بات سبھی کو کھٹکتی ہے۔ مشرقی معاشرے کا رکھ رکھاؤ بڑے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ نہ لڑکی اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے نہ مرد۔ وہ دونوں اپنے رومانوی معاملات اس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں جیسے کم از کم زندگی دو سو سالہ ہو۔ اور یہ سست رفتاری بہت سوں کی زندگی اجاڑ اور ویران کر دیتی ہے۔
’’دو دن تک نوید مارے خفت کے یونیورسٹی بھی نہیں گئی، تو تیسری صبح اُسے ایک خط ملا۔
نوید صبح! سارا دن سیمینار میں انتظار کیا…… اسی دن میں نے لائبریری کے آرٹس سیکشن میں کیٹلاگ پر جھکی ہر لڑکی کو بغور دیکھا۔ لافنگ روم کے اوپر جاتے ہوئے کولر سے خواہ مخواہ دو مرتبہ پانی پی آیا کہ شاید تم وہاں اپنا ہینڈ بیگ کھولے گلاس تلاش کرتی ہوئی مل جاؤ۔ پھر واپس ڈیپارنمنٹ آیا اور اپنے روم میں آکر تھرماس سامنے رکھ کر دو پیالیاں رکھ کر بیٹھ گیا۔ شاید تم اس کشش کے سہارے آجاؤ۔ آؤ ۔ ا آؤ۔ اب آجاؤ، اب آ بھی جاؤ، بار بار پردے کو دیکھ کر میں اندازے لگاتا رہا…… مگر ہمیشہ کی طرح میرے اندازے اس بار بھی غلط ہی نکلے۔ مخصوص قدموں کی چاپ کو ایسے سنا جیسے زندگی میں پہلی بار کسی انسان کے قدموں کو اپنی جانب آتا دیکھ کر بے تاب ہوا جا رہا ہوں۔ حالاں کہ نوید ایسا نہیں ہے۔ ہر گز نہیں…… کہ پہلی بار کسی کے لیے بے چین ہوا ہوں۔ امید ہے آپ بخیر ہوں گی۔ خط لکھنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ کلپنر کی بک کے تمام والیوم ختم ہوا چاہتے ہیں۔ لہٰذا آپ جلد از جلد آ کرلے لیں۔ پروفیسر منور۔ ‘‘
لو افیئر میں پہل مرد ہی کو کرنی پڑتی ہے۔ پروفیسر منور نے بھی بہانے سے نوید کو خط لکھ دیا۔ وہ موم ہو گئی اور ایک دن پروفیسر کے گھر کا چکر بھی لگا آئی۔ پروفیسر منور کا المیہ اور اس کا نفسیاتی پہلو یہ لگتا ہے کہ اُس نے دوہری ہجرت کا صدمہ سہا۔ پہلے وہ ہندوستان سے مشرقی پاکستان گیا اپنی ماں کے ساتھ جب وہ آٹھ سال کا تھا۔ پھر اُس کی مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے سے پانچ سال قبل ایک بنگالی خاتون سے شادی ہو چکی ہے…… جب کہ وہ خود بہاری (مہاجر) ہے۔ اس کی بنگالی بیوی کا نام سارہ ہے اور وہ ایک چار ماہ کے بچے کا والد ہے جب مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہو جاتے ہیں۔ اس کا ٹرانسفر مغربی پاکستان ہو جاتا ہے اور وہ جہاز پر روانہ ہونے کو تیار ہے۔ چوں کہ پروفیسر منور کے بیوی بچہ ایک جگہ اور والدین دوسری جگہ تھے…… اس لیے اُسے اکیلے ہی جہاز پر روانہ ہونا پڑا۔ اس کی بیوی نے اُسے چلتے وقت کہا: ’’تم چلو ہم آتے ہیں!‘‘
نوید پر منور کا ماضی "OPEN” ہوجاتا ہے…… جو دردناک ہے۔ اُسے منورسے محبت کے ساتھ ساتھ ہمدردی بھی ہوجاتی ہے۔ نوید کی توجہ پروفیسر منور کو نارمل بننے میں خاصی معاون ثابت ہوتی ہے۔
’’جیسے میرے کھنڈرات قبلائی خان کا محل بن گئے ہوں۔ تم مجھے دیکھو روح کی آنکھوں سے، تم مجھے سمجھو دل کی گہرائی سے۔ میری زندگی کی المیہ کی تم آخری تصویر ہو۔‘‘ منور نے کہتے ہی کہتے جھک کر نوید کے سرد پڑتے ہوئے پاؤں پکڑ لیے اور اس جانفرا اِس انوکھی پذیرائی پروہ حیران ہو کر، سراسیمہ ہو کر اور پھر سب کچھ سمجھ کر، پھر سے پہلے و الی جان نچھاور کرنے والی نوید بن گئی۔‘‘
آخر دونوں بکھرے ہوئے ذہن اس بات پر ایک ہو جاتے ہیں کہ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مستقل بنیادوں پر چلنا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھی بننا ہے۔
’’پھر ڈاکٹر ریاض آگئے اور رات گئے تک مختلف موضوعات پر ایک خوشگوار موڈ میں باتیں ہوتی رہیں کہ اچانک منور کو جانے کیا ہوا…… وہ اُٹھے اور بغیر کچھ کہے سنے گیٹ سے باہر نکل گئے۔ نوید نے گھبرا کر ڈاکٹر ریاض کو اور ڈاکٹر ریاض نے نوید کو دیکھا اور کچھ دیر بعد اُن دونوں نے ریل کی سیٹی کو سنا۔ سارے سائینٹفک اصول اور ضابطے ایک چھناکے سے ٹوٹ گئے۔ میڈیسن بک نے سر پکڑ لیا اور ڈاکٹر ریاض کی توجہ اپنے کلینک کی جانب گئی…… جو شہر سے کافی فاصلے پر تھا اور جہاں ریل کی آواز نہیں پہنچتی تھی۔ ہولے ہولے قدم اُٹھاتے وہ اندر گئے۔ اُن کے پیچھے پیچھے نوید تھی۔ یہ وہ کمرہ تھا جسے نوید نے ہمیشہ لاک دیکھا تھا۔ اُسے معلوم نہیں کس طرح و ہ کھلا رہ گیا تھا۔ صاف ستھرا روشن کمرہ جہاں قریب قریب دو مسہریاں بھی تھیں۔ بستر کی چادریں اس طرح کھلی ہوئی تھیں جیسے کوئی اُوڑھے سو رہاتھا۔ اور تکیوں کے سر پر گڑھے تھے جیسے کوئی ابھی ابھی اُٹھ کر باہر چلا گیا ہو۔ نوید نے حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھا جو دیواروں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ نوید نے نزدیک جا کر دیکھا تو پتھریلی دیوا ر پر جگہ جگہ بڑے بے ربط پن سے لکھا ہوا تھا: ’’تم چلو ہم آتے ہیں، تم چلو ہم آتے ہیں۔ ‘‘
کہانی خود بخود قلم سے روانی کے ساتھ نکلتی ہے۔ چوں کہ یہ ناولٹ المیۂ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ہے…… اس لیے اس کا تاثر اور مجموعی تاثر بہت ہی بھرپور ہے۔ اور اس تصویر کو زنانہ یا مردانہ تحریروں میں بانٹا نہیں جا سکتا۔ یہ یونیورسل قسم کی چیز ہے۔
اس ناولٹ کا اُسلوب نفسیاتی ہے۔ بڑے قومی سانحے جس طرح نفسیاتی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں…… اُس کی یہ ناولٹ بہت خوب صورت منظر کشی کرتا ہے۔ عنوان بتاتا ہے کہ اسے بہت غوروفکر کے بعد لکھا گیا ہے۔ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہترین تحریروں میں اس کا شمار بھی کیا جاسکتا ہے۔ مرکزی کردار منور کا ریل کی آواز سُن کر بے چین ہو جانا ایک بہت بڑے حادثے کے ’’آفٹر شاکس‘‘ کی علامت بن جاتا ہے۔
…………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔