تحریر: زاہد حسن 
فیڈریکو گارشیا لورکا (Federico García Lorca) کی ایک نظم ہے:
مجھے لگا جیسے اُنھوں نے مجھے قتل کر دیا ہے
اُنھوں نے مجھے چائے خانوں، قبرستانوں اور گرجوں میں تلاش کیا
اُنھوں نے مجھے گوداموں اور الماریوں میں ڈھونڈا
اُنھوں نے تین مردوں کو لوٹ لیا
اُن کے سونے کے دانت اُتار لیے
اُن کو مَیں نہیں ملا
مَیں اُن کو کبھی نہیں ملا؟ نہیں!
کبھی بھی نہیں ملا……!
’’لورکا‘‘ کو موت اُس کی نظم کے مطابق آئی۔ آج نہ کوئی اُس کی قبر ہے، نہ مزار، نہ نشانی…… وہ قتل ہونا چاہتا تھا، سو قتل ہوگیا…… اور قتل کرنے والوں نے اُسے، اور قتل ہونے والے مظلوموں کے ساتھ کسی ایک بڑی قبر میں دفنا دیا۔ یہی اُس کی آرزو تھی:
” جب میں مر جاؤں، میرا چوبارا کھلا رکھنا
بچہ سنگترے کھاتا ہے، اور مَیں اپنے چوبارے سے دیکھتا ہوں
گاہنے والے غلہ صاف کرتے ہیں
اور مَیں اپنے چوبارے سے دیکھتا ہوں
جب مَیں مر جاؤں، میرا چوبارا کھلا رکھنا……!
’’لورکا‘‘ کی کوئی قبر نہیں، اُس کی قبر پر کوئی لوح نہیں…… لیکن لورکا فن کے چوبارے میں سے لوگوں کو فصلیں سنوارتے اور اُٹھاتے اور بچوں کو سنگترے کھاتے ہوئے دیکھتا رہتا ہے۔
سپین میں جب جمہوریت پسندوں کا تختہ اُلٹنے کے لیے آمروں کے حامیوں نے قتل و غارت گری کی۔ لورکا بھی اُنھیں کے ہاتھوں مارا گیا۔
گو لورکا ایک زمین دار کا بیٹا تھا، پر وہ عام لوگوں، مزدوروں، مزارعوں، ادیبوں، شاعروں اور طالب علموں کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ اُس کو گرنیڈا میں قتل کیا گیا اور دوسرے مرنے والے لوگوں کے ساتھ ایک بڑی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ اُس کے قتل کے سارے نشانات بھی مٹا دیے گئے۔ کسی کو نہیں معلوم وہ کب قتل ہوا اور اُسے کہاں دفن کیا گیا؟ پر یہ بات آمر قاتلوں کے لیے باعثِ صد افسوس ہے کہ وہ لورکا کو مار کے بھی اُس کے فن اور فکر کو ختم نہ کر سکے۔
(بحوالہ ’’تسطیر‘‘ رسالہ)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔