مترجم: خضر عباس  
بنمای رخ کہ باغ و گلستانم آرزوست
بگشای لب کہ قند فراوانم آرزوست
اے محبوب! تو اپنا چہرہ دکھا کہ مجھے باغ اور گلستان کو دیکھنے کی خواہش ہے۔ تو اپنے ہونٹ کھول کہ مجھے بہت زیادہ مٹھاس کی خواہش ہے۔
ای آفتاب حُسن برون آ دمی ز ابر
کآن چہرۂ مُشَعشَعِ تابانم آرزوست
اے حسن کے سورج! تو ایک لمحے کے لیے بادلوں سے باہر آ جا کہ میں اس روشن اور چمک دار چہرے کو دیکھنے کا آرزو مند ہوںْ
بشنیدم از ہوای تو آواز طبل باز
باز آمدم کہ ساعدِ سلطانم آرزوست
مَیں نے سنا ہے کہ تیرے ہاں باز چھوڑنے کا طبل بجا دیا گیا ہے۔ مَیں بھی لوٹ آیا ہوں کہ مَیں اپنے سلطان کی کلائی پر بیٹھنے کا آرزو مند ہوں۔
گفتی ز ناز بیش مرنجان مرا برو
آن گفتنت کہ بیش مرنجانم آرزوست
تو نے بڑے ناز و ادا کہا کہ مجھے مزید نہ ستاؤ اور چلے جاؤ، مگر مجھے تو تمھارا یہ کہنا ’’مجھے مزید نہ ستاؤ‘‘ سننے کی آرزو ہے۔
وآن دفع گفتنت کہ برو شَہ بہ خانہ نیست
وآن ناز و باز و تندی دربانم آرزوست
اور اس بار تم نے کہا تھا ’’چلے جاؤ بادشاہ گھر میں نہیں ہے۔‘‘ اور مجھے وہ ناز و ادا اور دربان کی سختی دیکھنے کی خواہش ہے۔
در دست ہر کہ ہست ز خوبی قُراضہ ہاست
آن معدن ملاحت و آن کانم آرزوست
ہر وہ شخص جس کے ہاتھ میں اس کی خوبی کا ایک ذرہ بھی ہے۔ وہ اس ملاحت بھری معدن اور کان کی آرزو کر رہا ہے۔
ایں نان و آب چرخ چو سیل است بے وفا
من ماہیام نہنگم و عُمانم آرزوست
قسمت کی روزی روٹی سیلاب کی طرح بے وفا ہے۔ مَیں وہ مچھلی ہوں، جسے مگر مچھ اور گہرے سمندر کی آرزو ہے۔
یعقوب وار وا اسفاہا ہمیزنم
دیدار خوب یوسف کنعانم آرزوست
مَیں بھی حضرت یعقوب علیہ السّلام کی طرح ’’وا اسفا‘‘ پکار رہا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں اس کنعان کے یوسف (محبوب) کو اپنے خواب میں ہی دیکھ لوں۔
واللہ کہ شہر بیتو مرا حبس میشود
آوارگی و کوہ و بیابانم آرزوست
خدا کی قسم، تیرے بغیر مجھے یہ شہر قید خانہ لگتا ہے۔ مجھے آوارہ پھرنے، پہاڑوں اور ویرانوں کی آرزو ہے۔
زین ہمرہان سست عناصر دلم گرفت
شیر خدا و رستم دستانم آرزوست
میرے ساتھ چلنے والے سست ہیں اور مجھے ان کا افسوس ہے۔ مجھے تو اپنا ساتھ دینے کے لیے حضرت علی اور رستم جیسے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے۔
جانم ملول گشت ز فرعون و ظلم او
آن نور روی موسیِ عمرانم آرزوست
میری جان، فرعون اور اس کے ظلم کی وجہ سے دکھی ہو رہی ہے۔ مجھے موسی بن عمران علیہ السلام کے چہرے کے نور کی خواہش ہے۔
زین خلق پرشکایت گریان شدم ملول
آن ہای ہوی و نعرۂ مستانم آرزوست
یہ مخلوقِ خدا میرے رونے کی شکایت کرتی ہے، تو مجھے دکھ ہوتا ہے۔ مجھے تو ہا ہو کرنے اور مستی کے عالم میں نعرے لگانے کی آرزو ہے۔
گویا ترم ز بلبل امّا ز رشک عام
مُہر است بر دہانم و افغانم آرزوست
مَیں بلبل سے زیادہ بولنے والا ہوں، لیکن دوسرے لوگوں کے حسد کی وجہ سے۔ میرے ہونٹوں پر مہر لگی ہوئی ہے اور میں آہ و فغاں کرنے کا خواہش مند ہوں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
زمانۂ جاہلیت کے ایک شاعر کا اپنی محبوبہ کے نام قصیدہ 
ایک عرب شاعر کی لازوال نظم کا ترجمہ 
امجد اسلام امجد اور عربی شاعری کے تراجم  
ضرب المثل شعر جس کا مصرعِ ثانی غلط لکھا اور پڑھا جاتا ہے 
وہ ضرب المثل شعر جو غلط کوٹ ہوتا ہے 
دی شیخ با چراغ ہمی گشت گرد شہر
کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست
کل ایک بزرگ ہاتھ میں چراغ لیے پورے شہر میں گھومتا رہا۔ وہ کہتا تھا کہ مَیں دیوؤں اور درندوں سے دکھی ہو کر انسان تلاش کر رہا ہوں۔
گفتند یافت می نشود جستہ ایم ما
گفت آن کہ یافت می نشود، آنم آرزوست
اُنھوں نے کہا، جو ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ ہمیں نہیں ملتا۔ اس نے کہا جو ملتا نہیں مجھے اسی کی آرزو ہے۔
ہر چند مفلسم نپذیرم عقیق خرد
کان عقیق نادر ارزانم آرزوست
اگرچہ میں نادار ہوں، عقیق خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا لیکن پھر بھی وہ نایاب عقیق سستے داموں لینے کی خواہش رکھتا ہوں۔
پنہان ز دیدہ ہا و ہمہ دیدہ ہا از اوست
آن آشکار صنعت پنہانم آرزوست
وہ نظروں سے پوشیدہ ہے اور ساری نظریں اسی سے ہیں اور میری خواہش ہے کہ اس کی چھپی ہوئی صنعت آشکار ہو جائے۔
خود کار من گذشت ز ہر آرزو و آز
از کان و از مکان پی ارکانم آرزوست
میرا کام میری ہر آرزو سے آگے نکل گیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کون و مکاں کے سہاروں کے بغیر ہو کے رہوں۔
گوشم شنید قصۂ ایمان و مست شد
کو قسم چشم؟ صورت ایمانم آرزوست
میرے کان نے ایمان کا قصہ سنا اور مست ہوگیا۔ کون آنکھوں کی قسم کھاتا ہے۔ ایمان کی صورت دیکھنا چاہتا ہوں۔
یک دست جام بادہ و یک دست جعد یار
رقصی چنین میانۂ میدانم آرزوست
ایک ہاتھ میں شراب کا جام ہو اور ایک میں محبوب کی زلفیں۔ میری خواہش ہے کہ اس حالت میں میدان میں رقص کروں۔
میگوید آن رباب کہ مردم ز انتظار
دست و کنار و زخمۂ عثمانم آرزوست
جس رباب کا لوگ انتظار کر رہے ہیں، وہ کہتا ہے کہ مجھے عثمان کے ہاتھ، گود اور مضراب کی آرزو ہے۔
من ہم رباب عشقم و عشقم ربابی است
وآن لطفہای زخمۂ رحمانم آرزوست
مَیں عشق کا رباب ہوں اور عشق میرا رباب ہے، اور مَیں چاہتا ہوں کہ رحمان کے مضراب سے لطف اُٹھاؤں۔
باقی ایں غزل را ای مطرب ظریف
زین سان ہمی شمار کہ زین سانم آرزوست
اے خوش مزاج مطرب باقی غزل کو ویسا ہی سمجھ جیسا کہ وہ (محبوب) سمجھتا ہے ۔
بنمائی شمس مفخر تبریز رو ز شرق
من ہدہدم حضورِ سلیمانم آرزوست
اے شمس فخرِ تبریز مشرق سے اپنا چہرہ دکھا۔ مَیں بھی ہد ہد کی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کا قرب چاہتا ہوں۔
(نوٹ: مولانائے روم کی مشہور غزل جس کا ترجمہ پروفیسر خضر عباس نے کیا ہے۔)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔