تحریر: شاہد انصاری 
عربی ادب پر علامہ احمد حسن الزیات کی لکھی ہوئی کتاب بنام ’’تاریخِ ادبِ عربی‘‘ کا مطالعہ کرنے سے زمانۂ جاہلیت کے اہلِ عرب کی مثبت زندگی کا مختصر پہلو ہاتھ آتا ہے۔
زہے عشق زہے خوبی ہوئی رخصت یہ محبوبی
اٹھا گھونگٹ تو حق دیکھا، ازل عشقا ابد عشقا
زمانۂ جاہلیت میں جہاں عرب شعرا اشعاری محافل میں باہمی تنقیدی و ہجو گوئی کرتے تھے، جس سے اُن کی جاہلیت کا تقاضا کیا گیا ہے، لیکن اُن جہلا میں بعض ایسے بھی شاعر تھے، جن کی شاعری کو پڑھنے سے اُن کے جذبات و تفکرات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح وہ اپنے جہل میں نکھرے ہوئے تھے، اُسی طرح وہ محبت میں بھی کھلتے ہوئے پھولوں کی مانند اپنی مثل آپ تھے۔ اُنھیں میں سے ایک کثیر نامی شاعر نے اپنی محبوبہ بنام ’’عزہ‘‘ کے فراق میں اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے ایک قصیدہ لکھا ہے، جس کے چند اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں:
و کل قرینی الفۃ التفرق
ستاتا و ان ضنا و طال التعاشر
ترجمہ:۔ محبت میں جڑے تمام جوڑے ایک دن جدا ہوجائیں گے۔ خواہ وہ ایک دوسرے کو کتنا ہی چاہتے ہوں، اور کتنے ہی عرصے تک اکٹھے رہے ہوں۔
فما انا بالداعی لعزۃ بالجوی
ولا شامت ان نعل عزۃ ذلت
مَیں عزہ(محبوبہ) کو یہ دعا نہیں دوں گا کہ وہ بھی محبت میں بے چین ہو…… اور مَیں اس بات پر بھی خوش نہیں ہوں گا کہ کبھی اُس کا جوتا بھی پھسل جائے۔
فو اللہ ثم اللہ ما حل قبلہا
ولا بعدہا من خلۃ حیث حلت
اللہ کی قسم پھر دوبارہ اللہ کی قسم! مجھے اُس (محبوبہ) سے جو محبت ہے، اُس سے پہلے اور اُس کے بعد کسی سے بھی اُس طرح کی محبت نہیں ہوئی۔
وما انت ادری قبل عزۃ ما البکا
ولا موجعات القلب حتیٰ تولت
عزہ (اے میری محبوبہ) مجھے پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ رونا کیا ہوتا ہے، درد کیا ہوتا ہے، دل کی آہ کیا ہوتی ہے! جب تم بچھڑ گئی ہو، تو اب مجھے یہ سب معلوم ہوگیا ہے۔
وکانت لقطع الحبل بینی و بینہما
کنا ذرۃ نذرا فاوفت وحلت
اُس (محبوبہ) نے میرے اور اپنے درمیان موجود تعلق کی رسی کو کاٹ دیا……جس طرح کوئی نذر ماننے والی عورت نذر پوری کرکے مطمئن ہوجاتی ہے۔
فان تکن العتبی فاہلا ومرحبا
وحقت لہا العتبی لدینا و قلت
اگر وہ (محبوبہ) مجھ سے راضی ہوتی ہے، تو خوش آمدید اور اُس پر لازم ہے کہ مجھ سے راضی رہے، اگرچہ تھوڑی ہی رہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔