مولوی نجم الغنی رام پوری اپنی تالیف ’’بحر الفصاحت‘‘ کے صفحہ نمبر 180 پر صنعتِ تضاد کی تعریف کچھ یوں رقم فرماتے ہیں: ’’ایسے الفاظ استعمال میں لائیں جن کے معنی آپس میں ایک دوسرے کے فی الجملہ ضد اور مقابل ہوں۔ فی الجملہ کی قید اس لیے لگائی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہاں متضاد سے مراد ایسی دو چیزیں ہیں جو ایک محل میں وارد ہوسکتی ہیں اور ان میں انتہا درجے کا خلاف ہوتا ہے۔ جیسے سیاہی و سفیدی۔‘‘
اس طرح آزاد دائرۃ المعارف (وکی پیڈیا) پر اس کی ایک آسان سی تعریف یوں درج ہے: ’’یہ وہ صنعت ہوتی ہے کہ کلام میں دو ایسے کلمے لائے جائیں جو معنوی طور پر ایک دوسرے کی ضد ہوں۔ مثلاً :
شبنم و گل میں فرق اتنا ہے
ایک ہنستا ہے ایک روتا ہے
یہاں ہنسنا اور رونا تضاد ظاہر کرتا ہے۔‘‘
مولوی نجم الغنی رام پوری کے مطابق اس صنعت کو ’’صنعتِ طباق‘‘ اور ’’صنعتِ تکافو‘‘ بھی کہتے ہیں۔
رام پوری صاحب آگے چل کر لکھتے ہیں کہ اس کی دو قسمیں ہیں: ’’ایجابی‘‘ اور ’’سلبی۔‘‘
تضادِ ایجابی یا طباقِ ایجابی کی تعریف ’’بحرالفصاحت‘‘ کے صفحہ نمبر 181 پر یوں رقم ملتی ہے: ’’الفاظ متضاد کے ساتھ حرفِ نفی نہ ہو، جیسے آیا اور گیا کہ ان میں طباق کے واسطے نفی و اثبات کی حاجت نہیں۔‘‘
مثال کے طور پر سوداؔ کا ذیل میں دیا جانے والا یہ خوب صورت شعر درج کرتے ہیں کہ
یہ غزل سودا کہی ہے تو نے اس انداز سے
ہند ’’سے‘‘ پہنچے گی ہاتھوں ہاتھ نیشا پور ’’تک‘‘
یعنی ’’سے‘‘ ابتدا کے لیے ہے اور ’’تک‘‘ انتہا‘‘ کے لیے۔ ابتدا اور انتہا میں تضاد ہے۔
اس طرح رام پوری صاحب ظفرؔ کا ایک شعر یوں درج کرتے ہیں:
نے گل کو یاں ثبات، نہ شبنم کو ہے قرار
کیا روئے اس چمن میں کوئی اور کیا ہنسے
اس شعر میں ’’رونے‘‘ اور ’’ہنسنے‘‘ میں تضاد ہے۔
’’بحر الفصاحت‘‘ میں صفحہ نمبر 181 تا 185 کئی نام ور شعرا کے اشعار نقل کیے گئے ہیں۔ ہر تان ہے دیپک کے مصداق ہر شعر انتخاب ہے، مگر تحریر کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے۔ فی الوقت ذکر شدہ دو مثالوں پر اکتفا کرکے آگے نکلتے ہیں۔
اس کے بعد نجم الغنی رام پوری کتابِ مذکورہ کے صفحہ نمبر 185 پر ’’تضادِ سلبی‘‘ یا ’’طباقِ سلبی‘‘ کی تعریف یوں رقم کرتے ہیں: ’’دو لفظ ایک مصدر سے مشتق ہوں۔ ایک مثبت ہو، دوسرا منفی۔‘‘
مثال کے طور پرامدادؔ کا یہ خوب صورت شعر درج کرتے ہیں کہ
زلف میں کرتا ہے اغیار جو اس کے شانہ
پھر کہو دل یہ پریشان رہے یا نہ رہے
’’رہے‘‘ اور ’’نہ رہے‘‘ اگرچہ ایک ہی مصدر سے مشتق ہیں، مگر ایک مثبت ہے اور دوسرا منفی۔
اس کے بعد رام پوری صاحب، حکیم مومن خان مومنؔ کا ایک شعر نمونتاً یوں درج کرتے ہیں:
بات اپنی وہاں نہ جمنے دی
اپنے نقشے جمائے لوگوں نے
’’نہ جمنے دی‘‘ اور ’’جمائے‘‘ ایک ہی مصدر سے مشتق ہیں، مگر ایک کے معنی اثبات ہے اور دوسرے کے معنی میں نفی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔