اُردو شاعری کے ماہِ منیر اور جدید پنجابی شاعری کے امام ’’منیر نیازی‘‘ اس تعریف پر 100 فی صد پورا اُترتے ہیں…… بلکہ دوسرے شعرا کی نسبت زیادہ پورا اُترتے ہیں کہ ان کا لہجہ سب سے انوکھا اور سب سے الگ ہے۔ وہ اپنے لہجے کے خود ہی خالق اور خود ہی خاتم ہیں۔ ان کے لہجے کی نقالی کرنا بہت مشکل ہے۔
طارق عزیز نے ’’ہم زاد دا دکھ‘‘ کی شاعری میں منیر نیازی کا لہجہ اپنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، مگر چوں کہ یہ ایک شعوری اور منصوبہ بندی کے تحت کی گئی کوشش ہے، اس لیے اس میں وہ بے ساختہ پن پیدا نہ ہوسکا جو منیر نیازی کی شاعری کا خاصا ہے۔
26 دسمبر 2006ء کو منیر نیازی ہمیشہ کے لیے اپنے چاہنے والوں کو افسردہ کرکے چھوڑ گئے۔ منیر نیازی 9 اپریل 1923ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے اُردو کے 13 اور پنجابی کے 3 شعری مجموعے یادگار چھوڑے، جن میں ’’اُس بے وفا کا شہر‘‘، ’’تیز ہوا اور تنہا پھول‘‘، ’’جنگل میں دھنک‘‘، ’’دشمنوں کے درمیان شام‘‘، ’’سفید دن کی ہوا‘‘، ’’آغاز زمستاں میں دوبارہ‘‘، ’’سیاہ شب کا سمندر‘‘، ’’ماہِ منیر‘‘، ’’چھ رنگین دروازے‘‘، ’’ساعت سیار‘‘، ’’پہلی بات ہی آخری تھی‘‘، ’’ایک دعا جو میں بھول گیا تھا‘‘، ’’محبت اب نہیں ہوگی‘‘ اور ’’ایک تسلسل کے نام‘‘ شامل ہیں، جب کہ ان کی پنجابی شاعری کے مجموعے ’’چار چپ چیزاں‘‘، ’’رستہ دسن والے تارے‘‘ اور ’’سفردی رات‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے، جب کہ دو انگریزی شاعری کے مجموعے بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔
منیرؔ نیازی کے والد محمد فتح خان محکمۂ انہار میں ملازم تھے، لیکن خاندان کے باقی لوگ فوج یا ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے وابستہ تھے۔ منیرؔ ایک سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ ان کی پرورش ماں اور چچاؤں نے کی۔ ان کی والدہ کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور انھی سے ادبی مذاق منیرؔ نیازی میں منتقل ہوا۔ لڑکپن ہی سے منیرؔ کو جب بھی کوئی چیز حیران کرتی تھی، تو وہ اسے شعری واردات میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ شروع میں انھوں نے نظم اور غزل کے علاوہ کچھ افسانے بھی لکھے تھے جن کو بعد میں انھوں نے مسترد کر دیا۔
منیرؔ نے ابتدائی تعلیم منٹگمری(موجودہ ساہیوال) میں حاصل کی اور یہیں سے میٹرک کا امتحان پاس کر کے نیوی میں بطورِ سیلر ملازم ہوگئے، لیکن یہاں کا ڈسپلن ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ ملازمت کے دنوں میں بمبئی کے ساحلوں پر اکیلے بیٹھ کر ’’ادبی دنیا‘‘ میں شایع ہونے والے سعادت حسن منٹو کے افسانے اور میرا جی کی نظمیں پڑھتے تھے۔ انھی دنوں میں ان کا ادبی شوق پروان چڑھا اور انھوں نے نیوی کی ملازمت سے استعفا دے دیا اور اپنی تعلیم مکمل کی۔ ساتھ ہی لکھنے لکھانے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا۔ انھوں نے لاہور کے دیال سنگھ کالج سے بی اے کیا اور اُس زمانے میں کچھ انگریزی نظمیں بھی لکھیں۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی ملک کا بٹوارا ہوگیا اور ان کا سارا خاندان پاکستان چلا گیا۔ یہاں انھوں نے ساہیوال میں اک اشاعتی ادارہ قایم کیا جس میں خسارہ ہوا۔ چھوٹے موٹے ناکام کاروبار کرنے کے بعد منیرؔ لاہور چلے گئے۔ جہاں مجید امجدؔ کے اشتراک سے انھوں نے ایک پرچہ ’’سات رنگ‘‘ جاری کیا۔ انھوں نے مختلف اخباروں اور ریڈیو کے لیے بھی کام کیا۔ 1960ء کی دہائی میں انھوں نے فلموں کے لیے گانے لکھے جو بہت مشہور ہوئے۔ ان میں 1962ء کی فلم ’’شہید‘‘ کے لیے نسیم بانو کا گایا ہوا گانا ’’اُس بیوفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘، اور اُسی سال فلم ’’سسرال‘‘ کے لیے مہدی حسن کی آواز میں ’’جس نے مرے دل کو درد دیا، اُس شخص کو مَیں نے بھلایا نہیں‘‘ اور اُسی فلم میں نورجہاں کی آواز میں ’’جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا‘‘ بہت مقبول ہوئے۔ 1976ء کی فلم ’’خریدار‘‘ کے لیے ناہید اختر کی آواز میں ان کا گیت ’’زندہ رہیں، تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا‘‘ بھی بہت مقبول ہوا…… لیکن بعد میں وہ پوری طرح اپنی ادبی شاعری میں غرق ہو گئے۔
اپنی خوب صورت شاعری کی بدولت لوگوں کے دلوں میں مستقل بسیرا کرنے والے منیرؔ نیازی ایک بڑے شاعر ہی نہیں بلکہ ان کی شاعری پورا ’’سکول آف تھاٹ‘‘ ہے، جہاں ہیولے، پرچھائیں، دیواریں، موسم، ہوا کی سرسراہٹیں، کھلے دریچے، بند دروازے، اداس گلیاں، گلیوں میں منتظر نگاہیں، گھپ اندھیری رات، چھلیڈے، ابدی جدائی، بیتے سمے کی یادیں اور مناظر، اتنا کچھ ان کی شاعری میں بولتا، گونجتا اور احساسات پر حاوی ہو جاتا ہے کہ قاری طلسمِ ہوش ربا کی سحر ناکی میں گم ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری وہ جادو ہے جو نہ صرف سر چڑھ کر بولتا بلکہ اس کے اثر سے بھی کوئی نہیں بچ پایا۔ ان کی شاعری پڑھنے والے کو حیرت کی وادیوں میں لے جاتی ہے اور وہ خواہش کرتا ہے کہ اس جہانِ حیرت ہی میں گم رہے۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
دیکھا جائے تو بیسویں صدی کا آخری نصف منیرؔ کا عہد ہے جس میں وہ اُردو اور پنجابی نظم و غزل، گیت نگاری، فلمی و غیر فلمی شاعری اور ادب کے اُفق پر وہ روشن خورشید بن کر چمکتے نظر آتے ہیں جس نے خیرہ کر دینے والی تابانی سے بڑے بڑے لکھاریوں کی آنکھیں چندھیا دی ہیں۔ وہ نام کے ہی نہیں فن کے بھی منیرؔ تھے۔
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں
انھوں نے اپنی اُردو اور پنجابی شاعری کے ذریعے تین نسلوں پر پائیدار نقوش مرتب کیے اور ان کے اذہان کو اپنی شاعری کے ذریعے اس طرح جکڑا کہ اپنے عہد کے لیجنڈ بن گئے۔ ان کی شاعری کسی کلاسیکی روایت یا دبستان کے زیرِ اثر نہیں، بلکہ وہ نوکلاسیک کے موجد ہیں۔ ان کا اپنا ادبی دبستان ہے۔ ان کی شاعری ہمہ گیر بھی ہے اور ہمہ جہت بھی۔ پڑھنے والا اپنی مرضی، خواہش اور ضرورت کے مطابق سمتیں تلاش کرلیتا ہے۔ وہ کھوئی ہوئی جنت اور زیست کے زندہ جہنم کو وحدت کی اکائی میں پرونے کے صناع ہیں:
تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں
منیرؔ اپنی جاذب شکل و صورت کے طفیل خواتین میں بہت پسند کیے جاتے تھے۔ انھوں نے خود اعتراف کیا کہ ان کو کم و بیش چالیس بار عارضۂ عشق لاحق ہوا۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا: ’’یہ لیلہ مجنوں کا زمانہ تو ہے نہیں کہ چلمن کی اوٹ سے محبوب کا رُخِ روشن دیکھ کر ساری عمر گنوا دی جائے۔ اب تو قدم قدم پر ہماری ہم دم و ہم راز عورت ہے۔ پھر بھلا ایک کے پلّو سے بندھ کر کس طرح زندگی گزاری جا سکتی ہے؟‘‘
بہرحال 1958ء میں منیرؔ نے بیگم ناہید سے شادی کرلی تھی۔ اس کے یہاں بے پناہ انانیت تھی۔ وہ کسی شاعر کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ قدیم شعرا میں بس میرؔ، غالبؔ اور سراجؔ اورنگ آبادی ان کو پسند تھے۔ اپنے عہد کے شاعروں کو زیادہ سے زیادہ وہ ٹھیک ٹھاک یا بعض کو اچھا کَہ دیتے تھے۔ بڑا شاعر ان کی نظر میں کوئی نہیں تھا۔ کشور ناہید کو وہ اچھی شاعرہ اور پروین شاکر کو دوسرے درجہ کی شاعرہ کہتے تھے۔
منیرؔ نیازی ان شاعروں میں ہیں جن پر دو مختلف زبانوں، اُردو اور پنجابی کے ادب نواز اپنا بڑا شاعر ہونے کا دعوا کرتے ہیں۔ اسی طرح منیرؔ نے شاعری کی اصناف غزل اور نظم میں بھی اپنی شاعری کے معیار کو یکساں طور پر بلند رکھا ہے۔ انھوں نے گیت اور کچھ نثری نظمیں بھی لکھیں:
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں
ضروری بات کرنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
آخری عمر میں ان کو سانس کی بیماری ہو گئی تھی اور اسی بیماری میں 26 دسمبر 2006ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا تھا۔وہ لاہور میں قبرستان ماڈل ٹاؤن کے بلاک میں آسودۂ خاک ہیں۔
کُج اُنج وی راہواں اوکھیاں سن
کُج گل وچ غم دا طوق وی سی
کُج شہر دے لوک وی ظالم سن
کُج مینوں مرن دا شوق وی سی
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔