تجزیہ: محمد احسن
رُومی زمان و مکاں سے آزاد ایک ایسے شاعر ہیں جو آٹھ سو سے زاید برس گزر جانے کے باوجود دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں۔
اُن کی فارسی نظم ’’مثنوی روم‘‘ دنیا کی طویل ترین نظموں میں سے ایک ہے، جس میں 25 ہزار اشعار ہیں اور چھے جلدوں میں موجود ہے۔
مثنوی کی شہرت کا اندازہ اِس امر سے لگائیے کہ مثنوی کے تراجم آج بھی مغربی ممالک میں ’’بیسٹ سیلر‘‘ ہوتے ہیں۔
’’بحرِ روم‘‘ اسی مشہورِ زمانہ نظم میں موجود بیسیوں کہانیوں میں سے 30 کہانیوں کے اُردو میں آزاد ترجمہ پر مشتمل ہے، جس میں مصنفِ بحرِ روم نے پس منظری ماحول خود تخلیق کر کے جدید زمان و مکاں سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔
یہ کہانیاں براہِ راست فارسی سے نہیں لی گئیں، بلکہ ایک مغربی مترجم ’’پروفیسر آر اے نکولسن‘‘ کے انگریزی ترجمہ سے لی گئی ہیں۔
’’آئینِ اکبری‘‘ کی منظوم تقریظ:
https://lafzuna.com/poetry/s-30205/
انگریز پروفیسر نکولسن نے 1926ء سے 1940ء کے دوران میں مولانا جلال الدین رومی کی مشہور مثنوی کا آٹھ جلدوں میں ترجمہ کیا۔ تب سے آج تک پوری دنیا رومی کی گرویدہ ہے۔ حیرت ہے کہ خدا نے ایسی خدمت کسی مسلم ملک کے سکالر کی بجائے ایک انگریز سکالر سے لے لی۔
پروفیسر صاحب نے رومی اور شمس تبریز (دیوانِ شمس) کے علاوہ حضرت داتا گنج بخش کی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ کو بھی ترجمہ کر کے مغربی دنیا سے متعارف کروایا۔ اس کے علاوہ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی اور پنجاب کے بابا بلھے شاہ کی شاعری بھی ترجمہ کی۔
اہم بات یہ ہے کہ پروفیسر نکولسن، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کے معلم تھے۔ اقبال کی شاعری اور شخصیت پر پروفیسر نکولسن کی بھی گہری چھاپ ہے۔ حیرت تب ہوتی ہے جب بعد میں اقبال نے اپنی شاعری ’’اسرارِ خودی‘‘ لکھی، تو پروفیسر نکولسن نے اِسے بھی ترجمہ کیا، یعنی اپنے ہی گذشتہ طالبِ علم کی تصنیف۔
امید ہے قارئین کو بحرِ روم کی گہرائیوں میں سے جاری ہونے والی قدیم کہانیوں میں ماضی، حال اور مستقبل کی جہتیں نظر آئیں گی…… اور قلب و نظر کو ایسی وسعت نصیب ہوگی جس کے ذریعے کائنات کے بیش بہا گہرے اور پُراَسرار رموز سے آگاہی نصیب ہوگی۔
اقبال اور ہمارے چار گروہ:
https://lafzuna.com/poetry/s-30022/
مَیں گذشتہ 4 برس سے اِس کتاب پر کام کر رہا تھا۔ اِس دوران میں کچھ اور کتب بھی شائع ہوتی رہیں…… مگر اِس پر بھی کام جاری رہا۔ بظاہر یہ بہت ضخیم کتاب نہیں، مگر اِس میں لفظ بہ لفظ سِمرنے میں بہت عرصہ لگا۔
اِس کتاب کے ایک ایک باب کے مرکزی خیال میں پہلے مَیں نے سکُوبا ڈائیو کیا، گہرا غوطہ لگایا، تب سِیپوں میں سے گہرِ نایاب حاصل کرکے پیش کیا۔ چناں چہ، جو اَحباب میرا اُسلوب جانتے ہیں، وہی اِس میں پائیں گے مگر شمس تبریز اور رومی کے رنگ میں۔
سمندر کی کتاب کو سمندر کنارے ہی لانچ ہونا چاہیے تھا، جیسے میری ایک اور کتاب ’’چولستان میں ایک رات‘‘ میں مرکزی دریا ’’چناب‘‘ ہے اور وہ چناب پانیوں کے کنارے لانچ ہوئی تھی۔
ناشر ’’فیکٹ پبلیکیشنز‘‘ کا بہت شکریہ کہ انھوں نے اِس کاوش کو شایع کیا۔ یوں یہ میری 11ویں کتاب ہے۔
محبتوں کا سفر (تبصرہ):
https://lafzuna.com/poetry/s-29765/
’’شمس تبریز‘‘، ’’مولانا رومی‘‘، ’’علامہ اقبال‘‘، ’’پروفیسر نکولسن‘‘ اور ’’بحرِ روم‘‘ کا شکریہ جن کی طاقتوں نے مجھ سے یہ اہم خدمت لے لی۔
کونیا ترکیہ میں مولانا روم کے مزار کے قریب علامہ اقبال کی علامتی مرقد کے نام……بحرِ روم۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔