تبصرہ: ماہین نواز 
1855ء میں سرسید نے اکبرِ اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئینِ اکبری‘‘ کی تصحیح کرکے اسے دوبارہ شایع کیا۔ مرزا غالبؔ نے اس پر فارسی میں ایک منظوم تقریظ (تعارف) لکھی۔ اس میں انھو ں نے سر سید کو سمجھایا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِ نیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا شغل نہیں…… بلکہ انھیں انگریزوں سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح فطرت کی طاقتوں کو مسخرکرکے اپنے اجداد سے کہیں آگے نکل گئے ہیں۔
انھوں نے اس پوری تقریظ میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں کچھ نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی دریافتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔
اقبال اور ہمارے چار گروہ:
https://lafzuna.com/poetry/s-30022/
مجھے لگتا ہے کہ غالبؔ نے ایک ایسے پہلو سے مسلمانوں کی رہنمائی کی تھی، جو اگر مسلمان اختیار کرلیتے، تو آج دنیا کی عظیم ترین قوتوں میں اُن کا شمار ہوتا…… مگر بدقسمتی سے لوگوں نے شاعری میں ان کے کمالات اور نثر پر اُن کے احسانات کو تو لیا،مگر قومی معاملات میں اُن کی رہنمائی کو نظر انداز کر دیا۔
دہلی کے جن نام ور لوگوں کی تقاریظ ’’آثار الصنادید‘‘ کے آخر میں درج ہیں، انھوں نے آئینِ اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقاریظ لکھی تھیں، مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی کی تقریظ چھپی ہے۔ مرزا غالب کی تقریظ جو ایک چھوٹی سی فارسی مثنوی ہے…… وہ کلیاتِ غالبؔ میں موجود ہے، مگر آئینِ اکبری میں سرسید نے اس کو قصداً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ’’ابو الفضل‘‘ کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔
سر سید کہتے تھے کہ ’’جب میں مراد آباد میں تھا، اُس وقت مرزا صاحب، نواب یوسف علی خاں مرحوم سے ملنے کو رام پور گئے تھے۔ ان کے جانے کی تو مجھے خبر نہیں ہوئی، مگر جب دلی کو واپس جاتے تھے، مَیں نے سنا کہ وہ مرادآباد میں سرائے میں آکر ٹھہرے ہیں۔ مَیں فوراً سرائے میں پہنچا اور مرزا صاحب کو مع اسباب اور تمام ہم راہیوں کے اپنے مکان پر لے آیا۔‘‘
ظاہراً جب سے کہ سر سید نے تقریظ کے چھاپنے سے انکار کیا تھا، وہ مرزا سے اور مرزا اُن سے نہیں ملے تھے…… اور دونوں کو حجاب دامن گیر ہو گیا تھا…… اور اِسی لیے مرزا نے مرادآباد میں آنے کی اُن کو اطلاع نہیں دی تھی۔ الغرض جب مرزا سرائے سے سرسید کے مکان پر پہنچے…… اور پالکی سے اُترے، تو ایک بوتل ان کے ساتھ تھی۔ انھوں نے اس کو مکان میں لا کر ایسے موقع پر رکھ دیا، جہاں ہر ایک آتے جاتے کی نگاہ پڑتی تھی۔ سر سید نے کسی وقت اُس کو وہاں سے اُٹھا کر اسباب کی کوٹھڑی میں رکھ دیا۔ مرزا نے جب بوتل کو وہاں نہ پایا، توبہت گھبرائے، سرسید نے کہا:’’آپ خاطر جمع رکھیے، مَیں نے اس کو بہت احتیاط سے رکھ دیا ہے ۔‘‘
مرزا صاحب نے کہا: ’’بھئی، مجھے دِکھا دو، تم نے کہاں رکھی ہے؟‘‘
انھوں نے کوٹھڑی میں لے جا کر بوتل دِکھا دی۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے بوتل اُٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہنے لگے: ’’بھئی! اس میں تو کچھ خیانت ہوئی ہے۔ سچ بتاؤ، کس نے پی ہے، شاید اسی لیے تم نے کوٹھڑی میں لا کر رکھی تھی۔ حافظ نے سچ کہا ہے:
واعظاں کیں جلوہ در محراب و منبر میکنند
چوں بخلوت می روند آں کارِ دیگر میکنند
سرسید ہنس کے چُپ ہو رہے اور اس طرح وہ رکاوٹ جو کئی برس سے چلی آتی تھی، رفع ہو گئی۔ میرزا دو ایک دن وہاں ٹھہر کر دلی چلے آئے۔
تحریر طور پر اپنے عشق کا اظہار کرنے والے شعرا: 
https://lafzuna.com/poetry/s-29420/
سرسید کے ذہن میں یہ نکتہ بیٹھ گیا اور اس کی باقی ماندہ زندگی مردہ پروردن کے کار نامہ مبارک سے بلند ہوکر مردہ قوم میں زندگی کا تازہ خون دوڑانے کی مبارک و مسعود کوششوں میں بسر ہوئی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔