جب اپنے چھوٹے اور پس ماندہ علاقے میں کوئی علمی و ادبی کام کرتا ہے، تو بے انتہا خوشی ہوتی ہے۔ کیوں کہ راستے، پل، نلکے اور سڑکیں تو بن جائیں گی اور مٹ جائیں گی، تاہم ہمارا بنیادی مسئلہ شعور، فکر اور خرد افروزی ہے۔ دوسری طرف ہمیں شخصیت اور خودی کی نکھار لازمی چاہیے جو فن اور علم وادب کے بغیر ممکن نہیں۔
غلام صادق صادقؔ کا دوسرا شعری مجموعہ چھپ کر ’’محبتوں کا سفر‘‘ کے نام سے شایع ہوا اور آج بحرین میں اس کی رونمائی تھی، جس میں سوات سے شعر و ادب سے تعلق رکھنے والے احباب نے شرکت کی۔ مَیں نے اس کتاب کے لیے کچھ تعارفی کلمات لکھے ہیں جو اس کے دیباچے کے بعد اس میں شامل ہیں۔
غلام صادق صادقؔ کے اس شعری مجموعے پر میرے سرسری تاثرات یہاں ملاحظہ فرمائیں!
محبتوں کا یا درد کا سفرــــ غلام صادق صادقؔ کا نیا شعری مجموعہ1970ء اور 1980ء کی دہائیوں کی نسلوں کے تعلیمی، سماجی اور ابلاغی حالات، ان کے بعد کی نسلوں خصوصاً سن 2000ء کے بعد کی نسلوں سے بہت مختلف تھے۔ سکول کے زمانے میں ہم سکول سے گھر جاتے راستوں پر پڑے چٹانوں اور پتھروں پر چاک کی مدد سے اشعار لکھتے۔ اس وقت کے ہر طالب علم کے لیے گویا لازمی تھا کہ وہ اپنے لیے کوئی تخلص چنے۔ دوسرے الفاظ میں ہر نوخیز نوجوان شاعر ہوتا تھا۔ کیا کوئی نوخیز لڑکی بھی شاعرہ ہوتی تھی؟ یہ معلوم نہیں…… کہ اُس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم پر زور نہیں دیا جاتا تھا۔ البتہ اپنی مادری زبان میں اس وقت ہماری عمر کی لڑکیاں کچھ شاعری ضرور کرتی تھیں، تاہم اس کو عام نہیں کیا جاتا تھا۔
تحریری طور پر اپنے عشق کا اظہار کرنے والے شعرا:  https://lafzuna.com/poetry/s-29420/ 
اُس وقت جو اوّلین شعر ہم جیسے حاشیے پر پڑے نوجوانوں کو اپنے ہم جماعتوں یا اساتذہ کی مدد سے میسر ہوتے تھے، ان میں
روشنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں
محبت ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں
سرفہرست ہوتا۔ اس کی وجہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں تھا؟ شاید اساتذہ کا ذوق یہی تھا۔
ہر نوجوان شاعر ہوتا اور اپنے لیے کوئی تخلص ضرور ڈھونڈتا۔ کچھ اور لفظ نہ ملتا تو دلسوزؔ، خاکسارؔ، ملنسارؔ، پریمیؔ وغیرہ الفاظ سب کے لیے مہیا ہوتے تھے۔
تعلیم کی زبان اُردو تھی اس لیے پہلا مشقِ سخن اسی میں کیا جاتا تھا۔ نوخیز نوجوانی کی ناپختہ شاعری، دوسرے الفاظ میں تُک بندی، ہم نے بھی شروع کی تھی۔ غالباً میٹرک کے زمانے میں کہیں ایسا ایک شعر کہا تھا کہ
دل کے تڑپنے کا نہ ہمیں کوئی ملال ہوتا
کاش ! یہ تیرا حسن شباب لازوال ہوتا
شعر کہنے کا یہ سلسلہ آگے بھی چند سالوں تک جاری رہا۔ نوجوانی کی اس تُک بندی میں ہمارا ایمانی جذبہ ہمیں علامہ اقبالؔ کے بحر میں شعر کہنے پر اُکساتا تھا۔ یوں یہاں سے علامہ اقبالؔ کی شاعری کو بھی یاد کرنا پڑا۔ غالب ؔ مشکل ہے اور نابغہ ہے، اس لیے آسانی سے یاد نہ رہتا۔ تاہم اپنی جذباتی و معاشی درماندگی کی بدولت ساغرؔ صدیقی کو بہت پسند کیا اور یاد کیا۔
ادا جعفری شخصیت و فن: https://lafzuna.com/poetry/s-29137/
پھر جب اپنے اندر کچھ انقلابی روح بیدار ہوئی، تو ساحر لدھیانوی کو پڑھنے لگے۔ کبھی حسن کی طرف مایل ہوجاتے، تو وصی شاہ نوخیز رومانوی احساسات کا اچھا ترجمان بن جاتا۔ ادب کے طالب ہوئے تو غالبؔ کی طرف رجحان بڑھا اور اس کے دیوان کے بڑے حصے کو یاد کیا۔ غالبؔ کی جانب اس کشش کا سبب انگریزی ادب بن گیا۔ اسی انگریزی ادب کے زیرِ اثر انگریزی میں تُک بندی بھی شروع کی جو کئی سالوں تک جاری رہی۔
عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ذمے داریاں بھی بڑھیں۔ ساتھ ہم خود سے نکل کر باہر کی دنیا میں رہنے لگے۔ شاعری جیسے لطیف احساسات سے نکل کر نثر اور تحقیق کی دنیا میں کھوگئے۔ ’’بورکُن‘‘ اور مشکل کتابوں سے واسطہ پڑ گیا۔ تخلیق سے زیادہ تحقیق کی طرف مایل ہوگئے۔ جذبات سے زیادہ عقلیات کی طرف نکل پڑے۔ یوں شاعری کا وہ ذوق دم توڑ گیا اور بتدریج چند کے سوا سارے اشعار بھول گئے۔
ایک فلسفی دوست سے اپنی اس ناچاری کا ذکر کیا، تو جواب آیا کہ ’’آپ کو عقل آگئی ہے!‘‘ انھوں نے مذاق میں بہت بڑی بات کی تھی۔ ریشنیلٹی (Rationality) ایک حد سے آگے اُکتاہٹ یا سنکیت (Cynicism) کو جنم دیتی ہے اور اس کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں فنونِ لطیفہ خصوصاً شاعری اور موسیقی بندے کی نجات کو آتے ہیں۔
ہم کب اپنے اندر شاعری کے اس حس کو مار گئے پتا نہیں۔ تاہم یہ حادثہ یک دم نہ ہوا۔ کہیں دل ٹوٹا، تو کہیں گھر۔ کہیں گاؤں کو مضمحل پایا، تو کہیں قوم کو اپاہچ دیکھا۔ ان سب عوامل نے مل کر اندر کا فن قتل کردیا۔ یوں ہم تخلیق کی اس صلاحیت کو برقرار نہ رکھ سکے…… مگر غلام صادق صادقؔ ہم سے زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ابھی تک شاعری کی دیوی "Muse” کے سایے تلے ہیں۔ نوخیزجوانی سے اب تک شاعری کر رہے ہیں۔ اب تو ماشاء اللہ ان کی شاعری کی پختگی ان کے نرالے انداز اور اپنے منفرد استعاروں سے آشکارا ہے۔ اب وہ کلیشیے (Clich) سے آگے بڑھ کر شعر کَہ سکتے ہیں۔ مثلاً اسی مجموعے میں ان کے شعر
سامنے سے وہ کچھ ایسے گزرے
قافلہ جیسے ہو دو سانسوں کا
میں سانسوں کے قافلے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو سانسوں کا قافلہ ایک شان دار اور منفرد استعارہ ہے، جہاں ایک طرف محبوب کی مختصر دیدار کا ذکر ہے، تو دوسری طرف شاعر کے دل کی اس آہ کو الفاظ کا روپ دیا گیا ہے جو ایسی صورتِ حال میں نکل جاتی ہے اور بس دو آہ کے بعد شاعر مبہوت ہوکر گرجاتا ہے۔
عمران اسلام، بنگلہ دیش کی جدید تر شاعری کا علم بردار: https://lafzuna.com/poetry/s-29105/
یوں تو صادقؔ نے اپنے اس شعری مجموعے، جس میں زیادہ تر غزلیں شامل ہیں، کا نام ’’محبتوں کا سفر‘‘ رکھا ہے، تاہم پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو اصل میں درد کا سفر ہے جو کہ ختم ہی نہیں ہو رہا۔ ویسے درد اور محبت ایک دوسرے کے اضافی (Relative) ہیں کہ دونوں جذبات اور احساسات سے متعلق ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ جہاں محبت ہوگی وہاں درد ضرور ہوگا۔ جہاں درد ہوگا، بے وجہ نہ ہوگا یعنی اس کے پیچھے کوئی جذبہ ہوگا اور اُسی جذبے کا نام محبت ہی تو ہے جو کسی شخص، مثالی حالت، سماج، خاندان، گھر، وطن، ملک، زبان، شناخت، قدر اور سرگرمی سے ہوتی ہے۔
صادقؔ نے خود بھی محبتوں کے سفر کو دشوار ہی لکھا ہے کہ
نہ منزلوں کی خبر ہے نہ راستوں کا پتا
محبتوں کا سفر تو بڑا کٹھن نکلا
کہتے ہیں کہ شاعر معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی شاعر اپنے اردگرد کے حالات سے کیسے بے خبر ہوسکتا ہے اورکیسے اس سے اثر نہیں لے سکتا! ہمارے سماج، دوست، گھر، خاندان، ہماری اقدار، ہمارے ملک کی صورتِ حال اور سماج کے سیاہ گوشے کیسے اس آنکھ سے اوجھل ہوسکتے ہیں۔ صادقؔ بھی ان حالات سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہے۔ اپنے ملک میں دہشت اور افراتفری کا ذکر اس طرح کیا:
جانے کب کیسے کہاں ہو حادثہ اس شہر میں
روز ہوتا ہے نیا اک سانحہ اس شہر میں
یا پھر یہ جو مسخرے باری باری اس ملک کا باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں، ان پر بھی نظر گئی ہے۔
مسخرے جتنے بھی رہتے ہیں میرے شہروں میں
آج وہ دیس کے سرکار بنے پھرتے ہیں
شاعر حساس ہوتا ہے اور ایک مثالی سماج اور دنیا کی حسرت دل میں لیے ہوتا ہے۔ ہمارے شاعر غلام صادق صادقؔ بھی دنیا میں امن، خلوص اور محبت چاہتے ہیں اور اسے تلخیوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں:
زمیں پہ امن ہو، خلوص ہو، محبت ہو
ہر ایک شخص عداوت سے اجتناب کرے
ہم گیت امن کا گائیں تو
دُشمن ٹھہرائے جاتے ہیں
چین ہو، امن ہو، محبت ہو
ایسے قصوں کو عام کر ساقی
میرے اور صادقؔ کا گاؤں اور علاقہ ایک ہی ہے۔ وہ یہاں پیدا ہوئے ہیں اور اسی مٹی میں کھیل کر بچپن گزارا ہے اور زندگی کی ساری بہاریں یہاں دیکھی ہیں۔ جہاں ان کا گھر ہے، وہی پہ شامیں گزارنے کا ہمارا بھی ایک ٹھکانا انجیر کے درخت کے نیچے تھا۔ زندگی کے نہ بھولنے والے لمحات میں اس درخت کے نیچے اپنے دیرینہ دوست محمد امین کی بکریوں کے دودھ سے بنائی گئی شام کی چائے ہم نہیں بھول سکتے…… اور اس منظر کو تو اب بھی نظریں ڈھونڈتی ہیں جب برسات (پشیکال) کے موسم میں یہاں سے رم جِھم میں یہاں سے
بھیگا بھیگا ہے سماں
ایسے میں ہے تُو کہاں
گاتے ہوئے آئے تھے۔ اپنے شاعر نے گاؤں کے ایسے منظر کو روٹھے ہوئے محبوب کے ڈانٹ سے تشبیہ دے کر یوں کھینچا ہے :
مجھ پہ روٹھے ہوئے محبوب کی مانند بر سے
تم نے رِم جھم کبھی دیکھی ہے میرے گاؤں کی
مگر بستی کب بستی رہی ہے اب……! اب تو لوگ جدید ہوگئے، اقدار جدید ہوگئیں، سرمایہ آیا، لالچ آئی، تلخیاں آئیں، شہرت آئی اور عداوت آئی۔ یوں بستی میں رم جھم تو وہی ہوتی ہے کہ قدرت کی دین ہے، مگر انسان بدل جاتے ہیں اور صادقؔ چیخ اُٹھتے ہیں کہ:
جہاں پہ لوگ دُکھ سُکھ بانٹتے تھے
میری بستی کا وہ منظر کہاں ہے
لوگوں میں شہرت اور مقبولیت کی دوڑ نے حسد کو جنم دیا ہے۔ ایسے اقدارپیوست ہوگئی ہیں کہ لوگ اب دوسرے کے زوال کے منتظر رہتے ہیں اور جب کبھی ایسا ہوتا ہے، تو خوشی کے مارے اُچھل پڑتے ہیں۔ صادقؔ ان کو مخاطب ہوکر خوب صورت انداز میں کہتے ہیں:
لوگ جو منتظر بہت میرے زوال کے ہیں
اُن سے کہنا کہ میرے حوصلے کمال کے ہیں
غلام صادق صادقؔ تعلیم کے محکمے سے منسلک ہیں۔ استاد بھی رہے ہیں اور تعلیم کے انصرامی شعبے میں اپنے فرایض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ ان کو اس تعلیم کی خامیوں کا بخوبی علم ہے اور پیشہ ورانہ مجبوریوں کا پروا کیے بغیر پاکستان کے اس تعلیمی نصاب پر بھی خوب چوٹ کرتے ہیں:
مجھے تو جھوٹ بچپن سے پڑھایا ہے نصابوں میں
اگر سچ بول دوں اس کو حماقت لوگ کہتے ہیں
حضرتِ انسان مختلف شعرا کی نظر میں: https://lafzuna.com/poetry/s-28874/
کسی معاشرے میں شاعری اور دیگر فنونِ لطیفہ کا پنپنا اس معاشرے کے زندہ ہونے کا اصل ثبوت ہوتا ہے۔ ورنہ محض زندہ تو جانور بھی رہ سکتے ہیں۔ شاعری جس زبان میں بھی ہو، میٹھی ہی ہوتی ہے۔ موسیقی کی تو سرے سے کوئی زبان ہی نہیں ہوتی۔
ہمارے معاشرے میں جہاں نوجوان اپنی مادری زبان توروالی میں شاعری کرتے ہیں یا قدیم کلاسیکی شاعری کی تدوین کرکے اس کو چھاپتے ہیں، سب نہایت قابلِ ستایش کام ہے۔ کیوں کہ شاعری بقولِ انگریزی شاعر ولیم ورڈزورتھ (William Wordsworth) سب علوم کی سانس اور عمدہ روح ہوتی ہے۔ یہ احساسات اور جذبات کا اظہار ہوتی ہے، جو ساری سائنس کی توثیق ہوتی ہے جب کہ میتھیو آرنلڈ (Mathew Arnold) کے نزدیک سائنس بغیر شاعری کے نامکمل ہے۔ کیوں کہ سائنس صورت (Appearance) اور شاعری اس کااظہار (Expression) ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔